پیر , 25 مارچ 2019

کیسے خوش آمدید کہہ سکتے ہیں؟

(تحریر: علی اویس)

جب جب موجودہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ مدینے کی ریاست قائم کر رہے ہیں اور ساتھ سعودی ولی عہد کی دوستی کا نعرہ بھی لگایا ہے۔ یہ بات تو صاف ہے کہ سعودی رجیم سمیت کسی بھی بیرونی سہارے سے سرمایہ کاری کے نام پہ ملنے والی امداد یا قرض کے بل بوتے پر وطن عزیز اپنے پاؤں پہ کھڑا نہیں ہوسکتا۔ نہ ہی پاکستان اس وجہ سے معرض وجود میں آیا، بلکہ اس کی بنیادوں میں اسلامی تشخص اور مسلمان ہونے کی پہچان کارفرما تھی۔ کسی قاتل اور جارح سے برادرانہ تعلقات کے کیا معنی ہیں۔ یہ ابن زیاد سے لیکر ضیاءالحق تک مذہب اور اسلام کا نام لیکر مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ بطور پاکستانی اس سے بڑی ہتک آمیز حرکت کیا ہوسکتی ہے کہ مملکت خداداد کے سابق سپہ سالار معصوم بچوں کے خون پہ اپنی بادشاہت کا محل کھڑا کرنیوالے خونخوار شہزادے کی پاکستان آمد سے پہلے آئے اور سکیورٹی افسر کے فرائض انجام دیتے رہے، ٹرمپ جیسے شیطان نے جس عسکری اتحاد کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اس کا اعلان کیا، اس عسکری اتحاد کا سپہ سالار کہلاتے ہیں، کوئی ہچکچاہٹ اور شرمندگی محسوس نہیں کرتے، بس پاکستان میں رہنا عار سمجھتے ہیں۔

ریاست مدینہ کا دم بھرنے والے جانتے ہیں کہ مدینہ کی ترقی اور مسلمانوں کی خوشحالی کیلئے کسی قاتل اور جارح سے امداد نہیں لی گئی، نہ کسی غاصب کو دوست کہا گیا۔ کیا صرف شکم کی آگ ہی ترقی اور خوشحالی ہے، یہ کیسی ترقی ہے کہ بیت اللہ کے غاصبوں اور صہیونی گماشتوں کو سر پہ بٹھائیں، پھول بچھائیں اور انکی سواری خود چلائیں، خوش آمدید کہیں۔ ان سے کیا امید کی جا سکتی ہے، جن لوگوں نے ساری زندگی ایسی ہی محافل اور شغل میلے میں گذاری ہو، جو عرب شہزادوں کا شیوہ ہے، ان کیلئے امیر شام سے لیکر خائن بن سلمان تک سبھی آئیڈیل اور ماڈل ہیں، جو بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے دنوں میں شادیاں رچا سکتے ہیں، وہ انکی آل کے قاتلوں سے ہاتھ کیوں نہیں ملا سکتے۔ یہ کیسے ملک کو غلامی کی دلدل سے نکال سکتے ہیں، شادیانے تو پیٹرو ڈالر کی جھنکار پہ بجائے جا رہے ہیں، ورنہ اسی زبان سے سب نے سنا ہے کہ آل شریف کی کرپشن کو آل سعود کی ناجائز پر تعش زندگی سے جوڑا جاتا رہا ہے، جس سے اب بن سلمان کو دوست قرار دیا جا رہا ہے، اس سے بڑی منافقت کیا ہوگی۔

ہاں! راحیل شریف نے اس میں کسی دوغلے پن کا مظاہرہ نہیں کیا، کھل کر ڈیوٹی کر رہے ہیں، سینہ تان کے آئے، اپنے باس کی سکیورٹی کلیئر کی اور واپس یمن میں کمزوروں پہ بم گرانے، شہزادوں کی رنگین محافل کے حفاظتی بندوبست کیلئے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر آقاؤں کی خدمت کیلئے پلٹ گئے۔ یوٹرن نہیں لیا۔ زیادہ بھیانک یہ دوغلہ کردار ہے، جو چکنی چپڑی پاتوں اور بلند بانگ دعووں سے ملت پاکستان کو دھوکہ دے رہے ہیں، یہ بیچ کھانے والوں سے زیادہ مضر ہیں۔ ان کی ہاں میں ہاں ملانا ان کے لیے ممکن نہیں، جو اللہ کی آخری حجت علیہ السلام کی ذات، غیبت اور ظہور پہ ایمان رکھتے ہیں۔ اگر نائب امام نے امریکہ کو یزید اور اس کے حواریوں کو ابن ذی لجوشن، ابن زیاد اور ابن سعد قرار دیا ہے تو آپ کس صف میں کھڑے ہیں۔ جو اربوں ڈالر پہلے آچکے ہیں، اس سے عام پاکستانی کی زندگی میں کیا آسانی پیدا ہوئی ہے، کونسے پھول کھلے ہیں، کونسا گوشہ روشن ہوا ہے، زندگی پہلے سے اجیرن ہوگئی ہے۔ اپنے ایمان پہ قائم رہنا اور ظالموں سے اظہار نفرت کرنا، نہ کل انتہاء پسندی تھی نہ آج ہے۔

یہ پروپیگنڈہ اور انفارمیشن سے اگلا زمانہ ہے، کثیرالجہاتی جنگوں کا دور ہے۔ اہل ایمان کو یقین رکھنا چاہیئے کہ اسرائیل کی حمایت زبانی کلامی نہیں ہو رہی ہے، سعودی رجیم اس وقت صہیونیوں کا ہراول دستہ ہے، ان کے بعد بن سلمان جیسوں کے دست بازو بننے والے، صہیونی گماشتوں کے پیادے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سعودی رجیم ہی اسرائیل کی بقاء کی ضامن ہے، ان سے تعاون کرنیوالا خدا کے نزدیک ان کے ظلم و ستم میں شریک ہے۔ یہ سعودی رجیم ہی ہے، جن کے توسط سے عرب دنیا سے لیکر پاک سرزمین تک صہیونی ریاست کا دائرہ اثر قائم ہوا ہے، یہی سافٹ وار اور جنگ نرم ہے، اس میں نہ صرف اسلحہ کو بلکہ پروپیگنڈہ کو بھی ثانوی حیثیت حاصل ہے، بلکہ یہ ان اقدامات پہ مبنی ہے، جو انجام دیئے جا رہے ہیں، لیکن یہ اسرائیل کو بچا نہیں سکتے، نہ انہیں آئینہ دکھایا جا سکتا ہے، ان کی چالیں ثالثی کے نعروں سے شروع ہوئیں اور صہیونی ریاست کے وجود کی اہمیت کے متلعق بحث پہ انجام کو پہنچی ہیں، لیکن مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، جو بھی کر لیں، اسرائیل 25 سال نہیں نکالے گا۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب فرزند زہرا سلام اللہ علیہا ظہور فرمائیں گے اور تمام ظالموں اور انکے ساتھ کھڑے ہونیوالوں کو انجام تک پہنچائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

نیوزی لینڈ سانحہ پر ایک نظر

(تحریر: جاوید عباس رضوی) گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد ...