پیر , 25 مارچ 2019

ریاست اور پالیسی سازوں کی اصل ذمہ داری

(حیدر جاوید سید)

اس ریاست کے بھولے بھالے لوگوں کو کس دن یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ مملکتوں کے باہمی تعلقات مذاہب و عقیدوں پر نہیں بلکہ معاشی مفادات اور دوسری ضرورتوں پر استوار ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ریاستیں اپنے تعلقات کو بسا اوقات مذاہب و عقیدوں کا تڑکہ لگا کر شہریوں کے جذبات سے کھیلتی ہیں۔ بہر حال ہمیں معاملات دنیا کو دنیا داری سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔چین سے معاشی تعلقات کے حالیہ رخ (سی پیک) پر امریکیوں کے تحفظات ہیں۔ امریکیوں کو مستقل ناراض کرنا ہمارے بس میں ہے نا اتنی اوقات ہے۔ متوازن حکمت عملی یہی ہوگی کہ چین اور امریکہ کے کیمپوں سے تعلقات میں ایسا اعتدال ہو کہ دونوں میں سے کوئی بد اعتمادی کا شکار نہ ہو۔ خطے کے جغرافیائی حالات کا نقشہ سامنے دیوار پر بولتی تصاویر کی صورت چل رہا ہے۔ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی بجائے ریاست کی ضروریات و ترجیحات کے ساتھ اس کے ابدی بیانئے کو سامنے رکھنا ہوگا۔ کہنے اور لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پالیسی سازی میں عوام الناس کی رائے کوئی اہمیت رکھتی ہے؟ میرا جواب نفی میں ہے۔ البتہ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ حکومت وقت کو ایک متنازعہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے اور سعودی ولی عہد کے د ورہ پاکستان کو عقیدوں سے جوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔

سعودی عرب بیت اللہ اور ہادی اکبر نور مجسم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات کے حوالے سے ہر مسلمان کے لئے قابل احترام ملک ہے۔ برادری’ برادر اسلامی یہ سب لفاظی ہے۔ پاکستان اور سعودی تعلقات میں دونوں ملکوں کی اپنی اپنی ضرورتیں ہیں۔ ممالک اپنی اپنی ضرورتوں کو دیکھتے ہیں۔ ہماری ضرورتیں کیا ہیں’ کیا یہ کسی سے پوشیدہ ہیں۔ ان دونوں باتوں کا ایک سادہ سا جواب ہے وہ یہ کہ قومی تعمیر و ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے جن امور پر توجہ دینے کی ضرورت تھی ان سے ہمیشہ صرف نظر کیاگیا۔ مثال کے طور پر پاکستان ایک زرعی معیشت کا حامل ملک ہے۔ پالیسی ساز چاہتے تو پچھلے اکہتر برسوں میں زرعی شعبہ کو انقلابی خطوط پر ترقی دیتے اور آج ہم اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد زرعی معیشت سے محروم یا کم د رجے والے ممالک میں ایک وسیع مارکیٹ پر اپنا اثر و رسوخ رکھ سکتے تھے۔

بڑی صنعتوں کی جگہ چھوٹی صنعتیں اور کاٹیج انڈسٹری کو رواج دے کر غربت کے ساتھ قرضوں سے بھی بہت حد تک نجات حاصل کی جاسکتی تھی۔ پالیسی ساز اس امر سے آگاہ تھے کہ اگر غربت میں کمی ہوئی تو تعلیم کی دنیا میں رونق لگے گی۔ نور علم پھیلا تو ایک کامل جمہوریت کی طرف پرعزم سفر شروع ہوگا جس کے نتیجے میں پالیسی سازوں اور ان کے ساجھے دار بالا دست طبقات کی اجارہ داری ٹوٹنے لگے گی۔ سو محض دس سے پندرہ فیصد کے لئے 85فیصد لوگوں کے مفادات کو یکسر نظر انداز کرنے کی پالیسی پر ہمیشہ عمل ہوا۔ تعمیر و ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی بجائے قرضوں سے گزر اوقات کا آسان راستہ اختیار کیا گیا۔ آج ہر پاکستانی ایک لاکھ 67 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ یہ قرضے پاکستانیوں کی گردنوں پر ہیں ان پاکستانیوں کی جن کا جینا مرنا اس دھرتی پر ہے۔ پالیسی سازوں اور بالا دستوں کے دنیا میں اور بھی محفوظ ٹھکانے ہیں مشکل وقت میں وہ اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف اڈاری مارتے ہیں۔ مسائل اور عذاب بھگتنے کے لئے زمین زادے ہیں نا۔مکرر عرض ہے اب بھی وقت ہے سنبھل لیجئے۔ حکمت عملی از سر نو مرتب کیجئے۔ قرضوں سے فوری نجات یقینا ممکن نہیں مگر قومی تعمیر نو کے لئے شروعات تو ہوسکتی ہیں۔ زرعی شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ٹھوس پالیسی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ کاٹیج انڈسٹری کے فروغ پر توجہ دیجئے۔ قومی تعمیر نو کا ہدف اسی صورت حاصل ہوسکتا ہے کہ سماجی وحدت کے لئے نقصان کا باعث بننے والے ہر عمل اور قانون پر نظر ثانی کی جائے۔ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کار کے لئے سوچ بچار ہو’ قرضوں کے جس بوجھ تلے بائیس کروڑ لوگ سسک رہے ہیں ان سے نجات کی حکمت عملی وضع کی جانا بہت ضروری ہے۔ بار دیگر عرض ہے حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے جو ہمارے سماج میں نئی تقسیم کی بنیاد بنیں۔ سعودی ولی عہد دو روزہ دورے کے بعد اپنے وطن واپس چلے جائیں گے۔ اس سر زمین پر صدیوں سے آباد مختلف الخیال طبقات کو ہمیشہ یہیں رہنا ہے اس لئے ایسے فیصلوں اور اقدامات سے اجتناب لازم ہے جو مسائل کاشکار ملک کے لئے مزید مسائل پیدا کرے۔ ہمارے اپنے مسائل بہت ہیں اور حکومت و ریاست سے شکایات ان مسائل سے بھی زیادہ۔ بد اعتمادی کی نئی فصل بونے کی ضرورت نہیں۔ ریاست کے لئے اپنے شہری اہم ہوتے ہیں۔ ریاست اپنے شہریوں کی نسلی’ لسانی’ قومیتی’ مذہبی یا مسلکی شناختیں نہیں رکھتی بلکہ ریاست کا فرض اول یہ ہوتا ہے وہ اپنی جغرافیائی حدود میں آباد لوگوں کے حقوق کی بلا امتیاز فراہمی کو یقینی بنانے اور ان حقوق کی حفاظت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔ چند ارب ڈالر کے قرضے اتنے اہم نہیں کہ ان کے لئے مزید تقسیم در تقسیم کی سوچ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ یہ ملک اس میں آباد لوگوں کا ہے۔ ایک جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں بننے والے ملک میں یہ تاثر نہ دیجئے کہ کوئی فاتح ہے اور کوئی مفتوح۔

” ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں”

یہ بھی دیکھیں

نیوزی لینڈ سانحہ پر ایک نظر

(تحریر: جاوید عباس رضوی) گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد ...