پیر , 25 مارچ 2019

چین، امریکہ تجارتی جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات

(مصطفی کمال پاشا)

عالمی بینک کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت سردبازاری کا شکار ہے۔2019ء میں عالمی معیشت 2018ء کی 3فیصد بڑھوتی کے مقابلے میں 2.9 فیصد رہے گی، جبکہ 2020ء میں عالمی معیشت پر سردبازاری طاری ہو جائے گی۔ ایسا ہونے کی بنیادی وجہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ ہے جو روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ،بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ بذات خود ہی ’’سفید انسان کی برتری‘‘ کے جذبات کے تحت امریکہ کو نمبرون منوانے کی کاوشوں میں مصروف ہے، لیکن عملاً امریکہ اب سپریم طاقت نہیں ہے۔

90کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ نے اپنے واحد عالمی طاقت ہونے کا اعلان کر دیا تھا، بلکہ اس نے واحد عالمی طاقت کے طورپر کام کرنا بھی شروع کر دیا تھا۔ دنیا کی نئی جغرافیائی تقسیم سے لے کر مشرق وسطیٰ میں بلا شرکتِ غیرے براجمان ہونے کی پالیسی پر عمل درآمد بھی شروع ہو گیا تھا۔ پہلی خلیجی جنگ میں کویت کی آزادی کی آڑ میں یہاں ایک جہنم دھکایا گیا۔ امریکہ نے اس جنگ میں 42ممالک کی مشترکہ افواج کے ساتھ آپریشن ڈیزرٹ سٹارم کے ذریعے عراق کے چھکے چھڑائے، جدید الیکٹرانک جنگی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔ پھر آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ کے ذریعے کویت آزاد کراکے وہاں بادشاہ کو بٹھایا اور پھر خطے میں خود بلاشرکتِ غیرے چودھری بن کر بیٹھ گیا۔
یہ دور امریکی تاریخ کا سنہری دور تھا۔ اشتراکی ریاست کے خاتمے کو آزاد نظام معیشت اور مغربی نظام زندگی کی فتح سمجھا گیا۔ سرد جنگ میں کیونکہ امریکہ نے اقوام مغرب و مشرق کی قیادت کی تھی۔ اس لئے ’’فتح‘‘ کے بعد وہ فاتح بن کر سامنے آیا، اس نے فتح کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔ پوری دنیا کو اپنی فائر پاور کے ذریعے بھی مسحور بنایا، تہذیبی برتری کا زور شور سے پروپیگنڈہ کیا گیا۔ ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس سے تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ مغربی تہذیب غالب اور امریکہ ناقابلِ تسخیر ہے، اسی دوران نائن الیون کا وقوعہ ہو گیا۔ امریکی برتری ہوا ہو گئی، اس کی طاقت و حشمت کا بت ریزہ ریزہ ہو گیا۔امریکی قیادت پر وحشت طاری ہو گئی۔

دہشت گردی کے نام پر ایک بڑی جنگ کا اعلان کیا گیا پہلے افغانستان پھر عراق پر لشکر کشی کی گئی جدید ہتھیاروں اور کثیر افرادی قوت کے ساتھ فوجی مہم جوئی شروع کی گئی۔ یہ مہم جوئی امریکی معیشت اور معاشرت کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے۔ امریکہ اس جنگ میں 4000 ارب ڈالر تک رقم خرچ کر چکا ہے۔ ہزاروں فوجیوں کی ہلاکت اور لاکھوں زخمی اور نفسیاتی مریض اس کے علاوہ ہیں۔ امریکہ اپنی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ میں اپنا بہت کچھ گنوا چکا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی قابل ادا سرکاری قرضے کا حجم 22000ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے ۔گزرے گیارہ مہینے کے دوران سرکاری قرضے میں 1000ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس قدر تیزی سے ہونے والا اضافہ امریکی مالیاتی نظام کے لئے ناقابلِ برداشت بوجھ ہے۔

اس وقت سال 2019ء میں امریکی بجٹ خسارہ 900ارب ڈالر کے برابر ہے اور 2022ء کے بعد اس خسارے کا حجم 1000ارب ڈالر سالانہ ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ خسارہ بڑھتے بڑھتے امریکی معیشت کے لئے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق حالیہ بجٹ میں 15000ارب ڈالر کی کمی اور انتظامی اخراجات میں اضافے کے باعث بجٹ خسارے میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ سرکاری قرضوں کے حجم میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ صورت حال بڑی سبک رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔2029ء میں امریکی قرضوں کا حجم امریکی خام پیداوار کی 93فیصد اور 2049ء تک 150فیصد کے برابر ہو جائے گا۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال ناقابل برداشت ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں امریکی معیشت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔
کانگریشنل بجٹ آفس کے ترجمان کے مطابق سرکاری قرضوں پر روزانہ ایک ارب ڈالر سود ادا کیا جا رہا ہے۔ جوں جوں قرضوں کا حجم بڑھتا چلا جائے گا، اسی نسبت سے سود کی ادائیگی کے حجم میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے سابق چیئرمین ایلین گرین سپین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی قرضوں میں بڑھوتی عالمی معیشت کو سردبازاری میں دھکیل دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سردبازاری کسی وقت بھی امریکی معیشت کو لپیٹ میں لے لے گی اور اس دفعہ ایسا بڑھتے ہوئے خسارے اور قرضے کے باعث ہو گا‘‘۔

یہاں یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ امریکی معیشت ،عالمی معیشت کے انجن کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکی معیشت اپنے حجم، بڑھوتی کی رفتاری اور نوعیت کے اعتبار سے پوری عالمی معیشت کو چلتے رہنے کا باعث بنتی ہے۔ وال سٹریٹ، عالمی سٹاک مارکیٹ کا رخ متعین کرتی ہے۔ یہاں ہونے والے کاروبار کی گونج پوری دنیا میں سنی جاتی ہے۔
یہ تمام فیکٹر اپنی جگہ درست، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزری تین دہائیوں کے دوران بہت سا پانی ٹیلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ روس، اشتراکی ریاست کے خاتمے کے صدمے سے سنبھل چکا ہے۔ اور اب اپنی سابقہ عالمی حیثیت منوانے کی کاوشوں میں مصروف ہے۔ دوسری طرف چین ایک ایسی معاشی طاقت بن چکا ہے، جسے قبول کئے اور مانے بغیر چارہ ہی نہیں ہے۔ چین نے ایک نئی طرز کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے جو اس کے اثرات کو چہار سو پھیلا رہی ہے۔ چین ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے کے تحت دنیا کے تین براعظموں ایشیا یورپ اور افریقہ میں اس کی گرفت مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے کاروباری مفادات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اس کی رسائی میں گہرائی اور گیرائی پیدا ہو رہی ہے۔800ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنا کاروباری اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ چین عالمی قوت بننے والا ہے اور بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی معاملات میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ عالمی تجارت میں چینی اثر و رسوخ واضح اور ثابت شدہ ہے۔

چین ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ سے آگے نکل رہا ہے۔ اقوام مغرب بشمول امریکہ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، اٹلی، کینیڈا وغیرہ علوم و فنون میں مغربی برتری اور اجارہ داری کے علمبردار ہیں۔ بیسویں صدی میں مغربی سپرمیسی کے ایک حریف سوویت یونین نے بھی سائنس و ٹکنالوجی کے شعبے میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے، لیکن اپنے کمزور و غیر فطری نظام ریاست و سیاست کے باعث اشتراکی ریاست کی اتحادی اکائیاں ہیں، کے ساتھ نہ رہ پائیں، اس لئے سوویت یونین کی سائنس و تکنیکی ترقی عالمی میدان میں کوئی گہرے اثرات مرتب نہ کر سکی۔

چین نے ساٹھ کی دہائی میں ریورس انجینئرنگ کی تکنیک کے ذریعے چھوٹی موٹی اشیاء کی نقلیں تیار کرکے کم قیمت پر پہنچانی شروع کیں۔ چینی ریاست نے قوم کو تعمیر و ترقی کی راہ پر لگایا۔ سائنسی و تکنیکی شعبے میں چین نے اپنا ہی ماڈل اپنایا۔ بڑی خاموشی کے ساتھ ترقی کی پائیدار بنیادیں تعمیر کی جاتی رہیں۔ امریکہ اور روس اس دوران سرد جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے۔ مغربی دنیا بھی اشتراکیت کو شکست دینے کے لئے کوشاں تھی، جبکہ چین چپکے چپکے تعمیر و ترقی میں لگے رہے۔ جب اشتراکی ریاست کے خاتمے کے بعد امریکہ اپنی بالادستی کا اعلان کر رہا تھا اس وقت چین عالمی میدان میں اترنے اور اپنا آپ منوانے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔نائن الیون نے امریکہ اور اس کے حامیوں کو ایک طویل اور نہ جیتے جانے والی جنگ کا شکار کر دیا۔ امریکہ اپنی عالمی برتری کو منوانے کے لئے پاگلوں کی طرح جنگ میں جُتا ہوا تھا اور بے پناہ خطرات اس کا تعاقب کررہے تھے اس وقت چین دنیا پر چھا جانے کی کمر کس چکا تھا۔

چین نے 2013ء میں بیلٹ اینڈ روڈ اینیشیٹو کا آغاز کیا، جس کے ذریعے دنیا کے تین براعظموں میں تعمیر و ترقی کے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا۔2015ء میں چین نے ایک اور عظیم الشان منصوبے ’’میڈ ان چائنا 2025ء‘‘ کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے سائنس اینڈ تیکنالوجی کے شعبے میں اپنی عالمی برتری منوانے کی سعی کی گئی۔ چین ٹھونک بجا کر عالمی برتری اور غلبے کی مہم سر کرنے چلا ہے۔ اس کا اپنا ہی منصوبہ ہے، اپنا ہی مال ہے اور اپنا ہی طریق کار ہے اور یہ سب کچھ منفرد ہے، نیا ہے، پراثر ہے، اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ اپنی عالمی حیثیت دوسروں پر ٹھونسنے کی کاوشیں کر رہا ہے، جبکہ چین اپنی حیثیت منوانے کی کاوشیں کر رہا ہے۔

امریکہ و چین کے درمیان صحیح معنوں میں ٹکراؤ 2017ء میں اس وقت شروع ہوا، جب چینی کمپنیوں ھواوے اور زیڈ ٹی ای نے اعلان کیا کہ انہوں نے 5جی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ گویا وہ امریکہ و دیگر اقوام مغرب سے آگے نکل گیا ہے۔یہ انٹرنیٹ چلانے والی وائرلیس ٹیکنالوجی ہے، اس کی ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت حیرت انگیز ہے۔ مثال کے طور پر 4جی ٹیکنالوجی میں ڈیٹا 10تا 30میگابائیٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے منتقل ہوتا ہے، جبکہ 5جی ٹیکنالوجی میں ڈیٹا 10گیگا بائیٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے منتقل ہوتا ہے۔ یعنی ایک HD فلم صرف دس سیکنڈ میں بذریعہ نیٹ دنیائے ویب سے ہمارے کمپیوٹر میں منتقل ہو جائے گی۔ اب ذرا سوچیں مستقبل میں 5جی ٹیکنالوجی کے ذریعے کاروبار اور پیداواری عمل کہاں تک جا پہنچے گا۔

امریکہ اسے اپنے لئے، اپنی عالمی بالادستی کے لئے چیلنج سمجھتا ہے ، اس لئے اس نے چین کے خلاف تجارتی جنگ شروع کر دی ہے۔ چینی درآمدات پر امریکی پابندیوں کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیکس عائد کر دیئے ہیں۔ معاملات تجارتی جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اسی جنگ کے اثرات بارے ورلڈ بینک رپورٹ میں خطرناک صورت حال کی نشاندہی کی گئی ہے اور بڑی حد تک درست پیش بینی کی ہے کہ امریکہ چین تجارتی جنگ عالمی معیشت کا بھٹہ بٹھا دے گی۔

یہ بھی دیکھیں

نیوزی لینڈ سانحہ پر ایک نظر

(تحریر: جاوید عباس رضوی) گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد ...