بدھ , 21 اگست 2019
تازہ ترین

مشرق وسطی سے متعلق امریکہ کی گرینڈ اسٹریٹجی

تحریر: نادانا فریڈرخسن (روسی صحافی)

علم سیاسیات میں وسیع حکمت عملی یا Grand Strategy کی مختلف لیکن ملتی جلتی تعریفیں پیش کی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر گرینڈ اسٹریٹجی سے مراد ایک ملک کی جانب سے طویل المیعاد قومی اہداف کے حصول کیلئے پیچیدہ ترین انداز میں منصوبہ بندی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں اس ملک کے پاس موجود ذخائر کا مطلوبہ اہداف کے حصول میں بروئے کار لائے جانے کے تناظر میں جائزہ لیا جاتا ہے۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متنازع اقدامات خاص طور پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے کئی عالمی معاہدوں سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کے نتیجے میں بعض سیاسی ماہرین ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنی پالیسیوں کیلئے طے شدہ منصوبہ بندی کے فقدان کا الزام عائد کرنا شروع ہو گئے۔ لیکن ساتھ ہی بعض ماہرین ایسے بھی ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع اقدامات کو امریکہ کی ایک گرینڈ اسٹریٹجی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ روس کے نامور صحافی اور تجزیہ کار نادانا فریڈرخسن کا شمار انہی ماہرین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں میگزین "نیشنل انٹرسٹ” میں ایک کالم شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک گرینڈ اسٹریٹجی کے تحت مشرق وسطی میں ایک نئی اور بڑی کھیل کا آغاز کر دیا ہے۔

نادانا فریڈرخسن لکھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت آہستہ سے لیکن مسلسل انداز میں اپنی خارجہ پالیسی ڈاکٹرائن کو جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ ڈاکٹرائن اپنے حریف ملک چین کا مقابلہ کرنے، اپنے دشمن ایران کی نابودی اور شور شرابہ مچانے والے روس کو کنٹرول کرنے پر مبنی ہے۔ یہ اہداف ایکدوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹجی کے مطابق ایک تیر جس نے پہلے سے تہران کو نشانہ بنا رکھا ہے خود بخود باقی دو اہداف کو بھی نشانہ بنائے گا۔ یہ ڈومینو کی مانند ہے۔ یعنی ایک ملک میں پیدا ہونے والا عدم استحکام دیگر ممالک کیلئے بھی شدید مشکلات پیدا ہو جانے کا سبب بن جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر چین ایران سے حاصل ہونے والے سستے خام تیل سے محروم ہو جاتا ہے تو وہ بحران کا شکار ہو جائے گا جس کے نتیجے میں اسے اس کمی کا ازالہ کرنے کیلئے خام تیل برآمد کرنے والے دیگر ممالک سے رجوع کرنا پڑے گا اور مارکیٹ ریٹ پر خام تیل خریدنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے جنوری 2019ء میں چین نے امریکہ کی عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران کی تیل اور گیس کی صنعت میں تین ارب ڈالر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر بھی خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ یورپی یونین ایران سے گیس درآمد نہیں کر سکتی جس کی وجہ سے وہ امریکہ سے مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہے۔ مزید برآں، اسرائیل بھی 2025ء تک یورپی یونین کو تیس ارب میٹر مکعب گیس برآمد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ "ترکش اسٹریم” نامی منصوبے کا حریف تصور کیا جاتا ہے۔ یہ یورپی یونین کیلئے بہت اہم مسئلہ ہے کیونکہ کوئی یورپی رہنما نہیں چاہتا کہ ترکی گیس برآمد کرنے والے بڑے مرکز میں تبدیل ہو جائے۔ اس بات میں بہت بڑا رسک پایا جاتا ہے کہ کہیں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان یوکرائن کی طرح گیس کی منتقلی کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع نہ ہو جائیں۔ اسی طرح ایران میں عدم استحکام روس کو بھی شدید انداز میں متاثر کر سکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں جنوبی قفقاز اور کیسپین سی کے علاقے میں ہلچل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ امریکہ حال ہی میں روس کے ساتھ درمیانی رینج والے میزائلوں سے متعلق معاہدے سے دستبردار ہو چکا ہے جس کے بعد اس کی جانب سے اس خطے کے ممالک میں کم اور درمیانی رینج والے میزائل نصب کئے جانے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایسی صورتحال میں جارجیا ممکن ہے بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ایران کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحد کی حفاظت کیلئے امریکہ سے اپنی فوجی تعیینات کرنے کی درخواست کر بیٹھے۔

درحقیقت امریکہ میں نئے صدارتی الیکشن اور سیاسی ہلے گلے کی آمد آمد ہے جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ ایک بڑی فوجی کامیابی کی اشد ضرورت محسوس کر رہے ہیں تاکہ جنگ کے اس میڈل کے ذریعے امریکہ کی اصل مشکلات حل کر سکیں۔ شام سے امریکی فوجیوں کا انخلا امریکہ کی ایران مخالف اسٹریٹجی کا اہم حصہ ہے۔ واشنگٹن کی نظر میں ایران کو شام سے نکال باہر کرنے کی ذمہ داری امریکہ کی بجائے اس کے علاقائی اتحادیوں (اسرائیل اور سعودی عرب) پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف ریاض اور تل ابیب بھی اس ذمہ داری کو انجام دینے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ البتہ وہ یہ کام واشنگٹن کی خاطر نہیں بلکہ اپنے مخصوص مفادات کی خاطر انجام دینا چاہتے ہیں۔ اسرائیل حزب اللہ لبنان کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی سرحدوں کو ایران نواز گروہ سے محفوظ بنا سکے۔ اسی طرح اسرائیل ایران سے لبنان تک زمینی رابطہ توڑنے کا خواہاں ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب بھی مشابہہ اہداف کا حامل ہے۔ سعودی عرب ہر گز نہیں چاہتا کہ شام ایران کی گیس اور خام تیل کی دیگر ممالک کو منتقلی کے روٹ میں تبدیل ہو جائے۔ سعودی عرب "شیعہ کریسنٹ” کی روک تھام کیلئے بہت زیادہ تگ و دو کر چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے فوجی انخلا کے اعلان کے بعد ایران کے خلاف اپنے قدیمی اڈے مضبوط بنانا شروع کر دیے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے قطر کا دورہ کیا اور وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا معاہدہ انجام دیا ہے۔ مزید برآں، امریکہ عراق میں مزید ایک ہزار فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ ایران کا محاصرہ کر کے اسے عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کی بحالی کے بعد ایران میں مظاہرے ہوئے۔ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا صرف داعش کے مکمل خاتمے اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کی برقراری کی صورت میں انجام پائے گا۔ یوں ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ بلکہ اسے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے کی امید بھی ہے۔ اسی وجہ سے اسے کابل اور طالبان کے درمیان ایک معاہدے کی ضرورت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ دونوں (افغان حکومت اور طالبان) مل کر داعش کے خلاف امریکہ سے مدد مانگیں گے۔ لیکن امریکہ کیسے انہیں مذاکرات کی میز پر واپس لا سکتا ہے۔ خاص طور پر جب دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنا نہیں چاہتے؟ افغان حکومت اس مشکل کا چھوٹا حصہ ہے۔

افغان صدر اشرف غنی امریکہ نواز سیاست دان ہے اور اسے واشنگٹن کی حمایت کی ضرورت ہے۔ لیکن طالبان کو امن معاہدے کیلئے قانع کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی فوجیوں کی جانب سے طالبان کی قید سے داعش کمانڈرز کی آزادی ایک واضح پیغام لئے ہوئے ہے جو یہ ہے: "یا ہمارا ساتھ دیں گے یا ہم تمہیں داعش کے مقابلے میں اکیلا چھوڑ دیں گے اور تم جنگ میں فتح حاصل نہیں کر سکتے جس طرح 2016ء میں حاصل نہیں کر پائے تھے۔” اس بات کا امکان موجود ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ طالبان سے ایران سے اپنا معاہدہ توڑنے کا مطالبہ کرے۔ اس معاہدے کے تحت طالبان داعش کو ایران کی سرحد سے دور رکھنے کا پابند ہے۔ آخرکار امریکی حکام طالبان کی دعوت پر داعش کو ایران کی سرحدوں کی جانب دھکیل دیں گے۔ طالبان اس کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ اس منظرنامے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ستمبر 2018ء میں ایران کے شہر اہواز میں انجام پانے والے دہشت گردانہ حملے کی طرز پر ہونے والے واقعات میں اضافہ ہو گا۔

عراق حکومت امریکہ سے طے شدہ سکیورٹی معاہدہ ختم کرنے کی بات کر رہی ہے اور اس نے یہ دھمکی بھی دے رکھی ہے کہ تمام بیرونی فوجی قوتوں کو اپنے ملک سے نکال باہر کرے گی۔ عراق کا یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کا مقصد ایران پر نظر رکھنا ہے۔ روس اور ایران بھی عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا چاہتے ہیں اور اس کیلئے کوشش بھی کر رہے ہیں۔ عراق اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان تازہ ترین ملاقات کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئے لاوروف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ماسکو امریکہ کی جانب سے عراق میں اپنے طے شدہ ایجنڈے کی پابندی کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ لیکن امریکہ کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ عراق میں مزید دو فوجی اڈے تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ عراق پر دباؤ ڈالے گا اور اس کی کمزوری یعنی کردستان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔

حال ہی میں کردستان خودمختار علاقے کے وزیراعظم نیچروان بارزانی نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کو کردستان میں باقی رہنا چاہئے۔ اس کے محرکات واضح ہیں۔ اس وقت بارزانی اور ٹرمپ کے درمیان مشترکہ مفادات کیلئے تعاون جاری ہے۔ یہ تعاون صرف بغداد پر دباؤ ڈالنے تک محدود نہیں بلکہ امریکی صدر پی کے کے پارٹی میں بارزانی کی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں۔ دوسری طرف بارزانی ثالثی کا کردار ادا کر کے اپنے قبیلے کے سیاسی اثرورسوخ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ شام کے حکومت مخالف گروہوں نے کردستان کے سابق سربراہ اور نیچروان بارزانی کے چچا مسعود بارزانی سے شام بحران حل کرنے میں مدد کی درخواست دی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گرینڈ اسٹریٹجی پر گامزن ہیں۔ وہ آئے، انہوں نے دیکھا اور اب انہیں فتح حاصل کرنی ہے۔ البتہ ماسکو، تہران اور بیجنگ جوابی اقدامات انجام دیں گے اور امریکی صدر بھی ان پر ردعمل ظاہر کریں گے۔ ردعمل مختلف قسم کا ہو سکتا ہے: خانہ جنگی میں فاتح کی حیثیت سے بشار اسد کو تسلیم کر لینا یا ان کے ساتھ اعلانیہ طور پر مصافحہ کرنا اور تعاون اور مالی امداد کی پیشکش کرنا۔ اگر روس اس صورتحال سے نکلنے کا مناسب راستہ تلاش نہ کرے تو شاید ایک بڑی جنگ کا آغاز ہو جائے۔ الٹی گنتی کا آغاز ہو چکا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں!

(راؤ منظر حیات) عیدکی نمازکے بعد، امام صاحب نے بڑی رقت کے ساتھ فلسطین، کشمیراوردنیامیں …