پیر , 25 مارچ 2019

مغرب سے ایشیا کی جانب رخ کیوں ؟

پاکستان کے بدلتے تیور 

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بن سلمان کی جانب سے ایشیا کی جانب رخ کرنے کےپیچھے یورپ کی جانب سے اسے تنہائی کا شکار کرنے کا خوف ہے ۔’’سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد مغرب اور بن سلمان کے درمیان ایک قسم کا کچھاؤموجود ہے اور بن سلمان محسوس کررہا ہے کہ مغرب اسے اب پہلے کی طرح نہیں دیکھتا بلکہ بعض ممالک نے تو سعودی عرب میں کرسی ولی عہدی میں بدلاؤتک کی بات کی ہے ‘‘۔

اخبار کا خیال ہے کہ’’ وہ ایشیا میں طاقتور ممالک جیسے چین اور ہندوستان کے قریب ہونا چاہتا ہے اخبار نے بن سلمان کےانتہائی قریبی افراد سے یہ بات نقل کی ہے کہ ایشیا کی قربت سے وہ عالمی سطح پر ہونے والی تنہائی اور بحران سے نکل سکتاہے اور ایشیائی ممالک اس کے لئے اسٹراٹیجکل اور اقتصادی مسائل میں مددگار بن سکتے ہیں ۔‘‘

ماضی میں بن سلمان کا پورا انحصار امریکہ اور مغرب پر تھا اور وہ گذشتہ سال مارچ اور اپریل میں امریکہ کا طویل دورہ کرچکا تھا ۔وہ اس دورے میں بہت سے اہداف تک پہنچ سکتا تھا کہ جس میں سب سے بڑا ہدف اپنا ایک سافٹ چہرہ دکھانا تھا لیکن خاشقجی قتل نے سب کئے دھرے پر پانی پھیر دیا ۔

پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کے لئے سعودی عرب سے سرمایہ کاری، قرضوں اور امداد کی شکل میں رقوم اینٹھنے کا یہ بہترین موقع ہے لیکن کیا ایشیا پر انحصار بن سلمان کی متاثرہ شدہ ساکھ کو واپس بحال کرسکتا ہے ؟ یہ آنے والے وقتوں میں اس کی ان ممالک کے بارے میں پالیسیز پر انحصار کرتا ہے ۔اگر بن سلمان سرمایہ کاری اور رقوم کے بدلے ان ملکوں میں اپنی پراکسی جنگ لڑنا چاہے گا تو یقیناً اسے ناکامی ہوگی اور مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

بن سلمان کا دورہ پاکستان
بن سلمان کے دورہ پاکستان میں اب تک بظاہر پاکستان کی معیشت کے لئے آنے والے وقتوں میں مثبت اقدامات دکھائی دیتے ہیں۔لیکن پاکستان کی نئی اور ناتجربہ کار مگر خلوص نیت رکھنے والی حکومت کی جانب سے اس دورے کو لیکر جس طرح کی ناپختہ حرکتیں دکھائی دیں ہیں وہ کوئی اچھی علامات نہیں ۔

بن سلمان کے استقبال سے لیکر اس دوران داخلہ و خارجہ سطح پر نشر ہونے والے بیانات و اقدامات اگر حکومت کی بدلتی ہوئی پالیسی کے عکاس ہیں تو آنے والے بحرانوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا ۔

وزارت داخلہ کی جانب سے فرقہ وارانہ نوٹیفیکشن سے لیکر وزیر خارجہ کے اسرائیل کےساتھ نارملائز کی خلیجی ممالک کی پالیسی کی تائید اور پھر ہمسائیہ ملک ایران کو لیکرپاکستانی سرزمین سے سعودی وزیر خارجہ کی باتیں ۔۔اچھی علامات بالکل بھی نہیں ہیں ۔

دلچسب بات یہ ہے کہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں اور کشمیر کے بارے میں سعودی شہزادہ اور وزیر خارجہ نے چپ سادھ لی ۔وارسوا کانفرنس سے جس طرح فلسطین مسئلہ غائب تھا اسی طرح شہزادے کے طویل وزارتی سفارتی لشکر و گفت و شنید میں کشمیر کا ایشو غائب رہا۔نہیں معلوم کہ اس دورے کے سبب حکومت کے بدلتے تیور میں ترکی اور قطر کے لئے بھی کوئی گنجائش باقی رہی ہے یا نہیں ۔

واضح رہے کہ ترکی اور قطر کی سعودی عرب خاص کر بن سلمان کے ساتھ ایک نہیں بنتی ۔اس دورے کا ایک فوری فائدہ ،خان اور بن سلمان کی ملاقات نے سعودی جیلوں میں بغیر کسی مقدمے کے سالوں سے قید 3309میں سے 2017قیدیوں کی رہائی کا اعلان ہوا لیکن باقی ایک ہزار سے زائد قیدیوں کا کیا ہوگا ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔

اگرچہ سعودی جیلوں میں قیدہر قیدی اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کی ایک الگ داستان رکھتا ہے لیکن بطور عام ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے مارچ 2018میں نشر ہونے والی ایک رپورٹSaudi Arabia: Scant Justice for Pakistanis کے مطابق پاکستانی قیدی بغیر کسی عدالتی کارروائی اور انتہائی معمولی نوعیت کے جرائم کے سبب سالو ں سال سے جیل میں قید ہیں اور ان کے حالات انتہائی نامساعد ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق ان قیدیوں میں اکثریت مزدوروں کی ہے کہ جنہیں کسی بھی قسم کی قانونی مدد تک نہ تو دسترس حاصل ہے اور نہ ہی جیل میں ان کی کوئی شنوائی ہوتی ہے ایک بار پکڑے جانے کے بعد سالوں تک ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔آنےو الے دنوں میں اس دورے اور اس کے آفٹر شاکس کے بارے میں مزید بہتر انداز سے گفتگو کی جاسکتی ہے ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

نیوزی لینڈ سانحہ پر ایک نظر

(تحریر: جاوید عباس رضوی) گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد ...