بدھ , 21 اگست 2019

کریک ڈاؤن کی آڑ میں قانون کا غلط استعمال

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے شہر بوریوالہ میں ’ریاستی اداروں اور قومی شخصیات‘ کے خلاف سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے کے الزام میں ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔مبینہ ملزم اظہر حسین کے خلاف ایف آئی آر پولیس کی مدعیت میں ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت درج کی گئی ہے جس میں ایکٹ کی شق 25 ڈی کا اطلاق کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے ’محترمہ فاطمہ جناح، فوج، عدلیہ اور وزیرِ اعظم پاکستان‘ کے خلاف منافرت پر مبنی مواد سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ کیا تھا۔

ڈیجیٹل رائٹس کے ماہر قانون دان یاسر لطیف ہمدانی کے مطابق ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جہاں قانون کا غلط استعمال کیا گیا ہے کیونکہ مبینہ الزام ٹیلی گراف ایکٹ کی شق ڈی 25 کے زمرے میں نہیں آتا‘اس کیس میں شکایت کنندہ پولیس کے اے ایس آئی احمد کامران جو کہ اسی تھانے میں تعینات ہیں جہاں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احمد کامران کا کہنا تھا کہ ’ہمیں حسب ضابطہ گذشتہ روز احکامات ملے ہیں کہ جو شخص بھی حکومتی اور ریاستی اداروں بشمول عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر نازیبا پوسٹ کرے اس کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ کی شق ڈی 25 کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے۔‘

ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق اے ایس آئی احمد کامران نے بتایا کہ وہ معمول کے گشت پر گول چوک بوریوالہ میں موجود تھے جب انھوں نے اپنی فیس بک دیکھی تو مبینہ ملزم اظہر حسین، جن کو وہ ذاتی طور پر جانتے ہیں، کی چند پوسٹس ان کی نظر سے گزریں جو نازیبا تھیں جس کے بعد قانونی کاروائی کی گئی۔

اس گرفتاری کا پس منظر کیا ہِے؟
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ حکومت جلد سوشل میڈیا پر پائے جانے والے انتہا پسندی پر مبنی بیانیے کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی۔فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ حکومت نے وہ طریقۂ کار وضع کر لیا ہے جس کی بنیاد پر ان عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے گی جو سوشل میڈیا پر منافرت پھیلا رہے ہیں۔

انھوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ حکومت آنے والے ہفتوں میں ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ریاست ڈائیلاگ کرنا چاہتی ہے اور ڈائیلاگ ہو نہیں سکتا اگر اگلا اجازت نہ دے۔’

کیا قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے؟
ٹیلی گراف ایکٹ کی شق ڈی 25 کے مطابق کوئی شخص اگر ٹیلی فون کا استعمال کرتے ہوئے کسی دوسرے شخص کو دھمکائے، ہراساں یا برہم کرے تو وہ ایک جرم ہے جس کی سزا قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے۔یاسر لطیف ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’حکومت جانتی ہے کہ یہ مقدمہ عدالت سے خارج کردیا جائے گا پر ایسی گرفتاریوں کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا ہے۔‘

ان کے مطابق یہ گرفتاری اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ حکومت آزادی رائے کو صلب کرنا چاہتی ہے۔ ’ایسے اقدامات تو آمرانہ دورِ حکومت میں بھی نہیں اٹھائے گئے جن میں قانون کا غلط استعمال کیا گیا ہو۔‘

یہ بھی دیکھیں

مراجع عظام کی جانب سےکشمیری عوام کے خلاف ظالمانہ اقدامات کی مذمت

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے بزرگ مراجع تقلید نے کشمیری مسلمانوں پر جاری مظالم کی مذمت …