جمعرات , 23 مئی 2019

آگ کا کھیل

(محمد عامر خاکوانی)

اک آگ کا کھیل ہے جو ہمارے پڑوس میں کھیلا جا رہا ہے۔ہیجان ہی ہیجان۔ جنون اور فسطائیت کا نام دینا چاہیے۔ چند منٹ کے لئے کیبل یا نیٹ پر بھارتی چینل دیکھیں، ویب سائٹس پڑھیں تو آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے منہ سے کف اڑاتے،غصہ سے پاگل ہوئے لوگوں کا ایک ہجوم ہے، ہر طرف وہی چھائے ہیں۔ ٹاک شوز سے لے کرصحافیوں کی رپورٹیں، روڈ شو سے مختلف ممتاز شخصیات کی آرا تک … غیض وغضب کی انتہائی لہریں ہر طرف جھلکتی ہیں۔ ایسا کہاں ہوتا ہے بھلا؟ آخر نوبت اس انتہا تک کیوں پہنچائی جائے؟ واضح محسوس ہور ہا ہے کہ پلوامہ حملہ کو غیر معمولی عجلت سے پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ایسی عجلت جس سے کسی سازش یا طے شدہ منصوبے کی بو آتی ہے۔یوں لگا جیسے یا تو فالس فلیگ آپریشن کیا گیا یا پھراچانک رونما ہونے والے کسی واقعے کو برق رفتاری سے پاکستان پر منطبق کر کے ملک میں جنگی جنون بھڑکانے اور اس سے الیکشن جیتنے کا منصوبہ بنایا گیا۔( انٹیلی جنس اصطلاحات میں فالس فلیگ آپریشن سے مراد ایسا خفیہ آپریشن ہے، جس میں اپنے ہی لوگ کسی مخالف ملک کے جنگجو کا روپ دھار کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔) ۔بات آگے بڑھانے کے لئے مگر ہم چند لمحوں کے لئے فرض کر لیتے ہیں کہ بھارتی موقف درست ہے ۔ تب بھی کیا ایسا مجنونانہ ردعمل دکھانا کسی مہذب جمہوری ملک کو زیب ہے؟وہ ملک جو دنیا کی چھٹی بڑی قوت بننے کا متمنی ہے، جس کی شدید خواہش ہے کہ سلامتی کونسل میں مستقل نشست اسے مل جائے اور ویٹو کا حق حاصل ہو۔ جو ملک تہذیبی اور وطنی نرگسیت کا شکار ہے، جہاں کے لوگوں کے خیال میں دنیا بھر میں انڈیا سا ملک نہیں اور ہندوستانی عوام جیسے لوگ موجود نہیں۔ جن کے خیال میں ہندوستان کے لوگ فنون لطیفہ اور کلچر کے وارث ہیں اور دنیا کی بہترین فلمیں، موسیقی، شاعری اور ادب وہاں تخلیق ہوتا ہے، رقص جن کی گھٹی میں پڑا ہے اور جس کے دانشوروں کے خیال میں قدیم ہندو تہذیب اور افراد اپنی ذہانت اور ٹیکنالوجی میں دنیا بھر سے بازی لے گئے تھے۔ کیا یہ ردعمل جو آج ہم بھارتی میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، جس کاہلکا سا عکس سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے … تہذیبی ورثے کی حامل ، کوئی سمجھدار، بیدار مغزقوم دکھا سکتی تھی؟جواب نفی میں ملتا ہے۔ اس غیر متناسب، وحشیانہ حد تک پہنے جارحانہ ، شدید بھارتی قومی ردعمل میں تین پہلو خاص طور سے دیکھنے چاہئیں۔سب سے پہلانکتہ بھارت میں شدت پسندی اور انتہائی سوچ کا خوفناک حد تک ہر شعبہ زندگی میں سرائیت کرنا بلکہ اس پر چھا جانا ہے۔ یہ غلبہ جس نے پورے ہندوستانی سماج کو یرغمال بنا رکھا ہے، یہ بہت اہم اور قابل غور بات ہے۔ بھارت میں اینٹی پاکستان موقف اور نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کی موجودگی باعث حیرت نہیں۔ ایسا دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ شدت پسندانہ یا انتہائی سوچ رکھنے والے مگرپورے قومی منظرنامے پر چھا نہیں سکتے۔ ان کی اپنی محدودات (LImitations)ہوتی ہیں اور مجموعی قومی سوچ پر ان کا اثر زیادہ نہیں ہوپاتا۔ ایک آدھ میڈیا ہائوس یا اخبار، جریدہ اس جارحانہ سوچ کا حامل ہوسکتا ہے ،مگر مجموعی طور پر مین سٹریم میڈیا ان کے اثر سے باہر ہوتا ہے اور وہی سوسائٹی کو نیوٹرلائز کرتا اور شدت پسندانہ سوچ کو بیلنس کر دیتا ہے۔

انتہائی رائیٹ ونگ یا سخت ، جارحانہ موقف رکھنی والی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہوتی ہیں، مگر عام طور سے انہیں اکثر یت نہیں مل پاتی، اگر کہیں ایسا ہو بھی جائے ، تب بھی ہر ملک میں کچھ نہ کچھ ایسی قوتیں ضرور ہوتی ہیں جو اس غلبے کو نیوٹرلائز کر سکیں، سماج کو زندہ رہنے کے قابل بنائے رکھیں۔ادیب، شاعر، فن کار ، صحافی،کھلاڑی وغیرہ ویسے ہی اپنی آزاد فکر رکھتے ہیں۔شوبز توسب سے غیر سیاسی شعبہ زندگی ہے۔ انسانی احساسات، جذبات اور لطیف خیالات کی دنیا میں رہنے والے فن کار آخر کس طرح نفرت، دہشت گردی، جنگی جنون کی حمایت کر سکتے ہیں؟بھارت میں مگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ شدت پسندی کا عفریت یوں انگڑائی لے کراٹھ بیٹھا ہے کہ اس نے پورے بھارتی معاشرے کو مفلوج بنا دیا۔ لگتا ہے سوچنے سمجھنے والے لوگ کسی بددعا (یا شراپ)کے نتیجے میں تحلیل ہوگئے۔ جو دوچار بچے، ان میں بات کرنے کی جرات ہی نہیں۔ پاکستان بھارت جیسا جمہوری ٹریک ریکارڈ نہیں رکھتا، کئی فوجی آمروں نے یہاں پر حکومت کی، سیاستدان کبھی اتنے طاقتور نہیں ہوئے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے دھکیل سکیں، ہماری تاریخ ہی اکہتر ، بہتر برسوں پر مشتمل ہے، آرٹ اور کلچر کے میدانوں میںبہت پیچھے۔مذہبی شدت پسندی کا شکار ملک، لہور نگ فرقہ واریت، دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ، فکری مناقشے اپنی جگہ۔ ان سب کمزوریوں کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی ریاست اور پاکستانی عوام کا رویہ بھارت کی نسبت کئی گنا زیادہ معقول، میچور اور معتدل رہا ہے۔ ہمارے ہاں انتہائی رائیٹ ونگ جماعتیں، گروہ اور افراد موجود ہیں۔ پورے سماج پر وہ غلبہ نہیں پا سکتے۔ اینٹی انڈیا جذبات ہمارے ہاں یقینا موجود ہیں۔میں اس سے انکار نہیں کروں گا۔ یہ لوگ مگر بہت محدود اثر اور قوت رکھتے ہیں۔دہلی کے لال قلعے پر جھنڈا لہرانے کی بات کی جاتی رہی، مگر اب مذاق میں بھی کوئی یہ نہیں کہتا۔ بھارت کے ساتھ دوستی کی بات کرنے والے بے شک زیادہ نہ ہوں، مگر بھارت کی تباہی پر مصر جنونی بہت کم ہیں۔ جس طرح کا رویہ بھارت میں آج دیکھنے کو مل رہا ہے، ویسا تو پاکستان میں کلبھوشن یادو جیسا مستند قسم کا بھارتی جاسوس پکڑے جانے کے بعد بھی نہیں تھا۔ پاکستان میں دہشت گردی سے سو ارب ڈالر کے قریب نقصان ہوا، ستر پچھتر ہزار پاکستانی شہید ہوگئے، اس کے قوی شواہد ہیں کہ دہشت گردی کے پیچھے کہیں نہ کہیں بھارت کا ہاتھ بھی ہے۔ظاہر ہے اسے ملک میں ناپسند کیا جاتا ہے ، لیکن یہ نہیں کہ پوری قوم جنونیوں کی طرح تمام چیزیں بھول کر چیخنا شروع کر دے ۔ پاگل ہوکر کرکٹ تک کھیلنے سے انکاری ہو اور غضب میں اپنے ملک کی ہندو اقلیت پر چڑھ دوڑے۔ نہیں ایسا بالکل نہیں۔ یہ جنون ، وحشت اور ناسمجھی بھارتیوں کے حصے میں آئی ہے۔ ایک اور اہم بات کشمیریوں کے حوالے سے بھارتی عمومی رویہ ہے۔ شروع میں عرض کیا تھا کہ چند منٹ کے لئے یہی فرض کر لیتے ہیں کہ پلوامہ حملہ پر بھارتی موقف درست ہے۔ اگر ایسا ہو تب بھی ان کا غصہ پاکستان پر اترنا چاہیے، کشمیریوں سے ایسی نفرت کیوں؟

صرف وادی اور جموں ،پونچھ ہی میں نہیں بلکہ بھارت بھرمیں جہاں کہیں کشمیری مقیم ہیں، ہر جگہ انہیں شدت پسندی کے جن سے واسطہ ہے۔ کشمیر سے ہزاروں میل دور واقعی کسی بھارتی یونیورسٹی میں پڑھنے والے کشمیری طالب علم کا پلوامہ حملہ سے کیا لینا دینا ہوسکتا ہے؟ ہاسٹلوں سے تشدد کر کے ان غریبوں کو نکالا جا رہا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ بھارتی عوام یہ سمجھ چکے ہیں کہ کشمیری بھارت کا حصہ نہیں اور ان کا آئندہ بھارت کے ساتھ چلنا بھی ممکن نہیں۔ بھارتی سیاسی جماعتوں، میڈیا، مختلف بااثر گروپوں اور عام آدمی کا کشمیریوں کے ساتھ رویہ ایک غیر،مخالف اور نفرت کرنے والے ہمسایے کا ہے۔ یہ ایک الگ سوال ہے کہ کیا ایسا کر کے بھارتی عوام کشمیر کے کیس اور کاز کو مضبوط نہیں کر رہے؟ اسی طرح مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ چلیں پلوامہ حملہ کی ذمہ داری پاکستان پر تھوپ دی، کشمیریوں سے بھی ناراضی ہوگئی، مگر بھارت کے مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کا اس سب سے کیا لینا دینا؟ان میں سے لاکھوں ، کروڑوں ایسے ہوں گے جنہوں نے پلوامہ کا نام تک کبھی نہیں سنا ہوگا۔

نفرت اور غضب کی لہرمگر پورے بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ سب عقل وفہم سے بالاتر حرکتیں ہیں۔ بھارت میں مسلمان اقلیت ہیں، مگر وہ لاکھ دولاکھ آبادی نہیں جو شائد ملک ہی چھوڑ جائے۔ بیس بائیس کروڑ مسلمانوں کو آخر بھارتی اسٹیبلشمنٹ، انٹیلی جنشیا، فعال طبقات، میڈیا اور سیاسی جماعتیں کیسے دیوار سے لگا سکتی ہیں؟ اگر ایسا کیا تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟محروم ، پسے ہوئے طبقات ہی دہشت گردی کے لئے زرخیز زمین کا کام دیتے ہیں۔ بھارتی فیصلہ ساز ، منصوبہ ساز سامنے کی ان باتوں کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں؟ بھارتیوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پاکستان کے خلاف بلا سوچے ، سمجھے اس قدر شدید ہائپ پیدا کر کے انہوں نے اپنے ملک کو کس خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے؟ حکمران جماعت بی جے پی اور نریندر مودی نے اپنے الیکشن کے چکر میں ، میڈیا نے ہائی ریٹنگ کی خواہش اور اہم ، بااثر طبقات نے اپنے تہذیبی تکبر اور دیوپیکر انا کی تسکین کی خاطر ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ اگر بھارت کسی بڑی جوابی کارروائی سے گریز کرے گا تو ان کی بھد اڑے گی، کوئی ایڈونچر کیا تو پاکستان اس کا بھرپورجواب دے گا اور یوں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ہمارے پاس کھونے کو کیا ہے ، پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں ، کچھ پریشانیاں اور سہی۔ وہ جو سپر پاور بننے کا سپنا دیکھ رہے ، معاشی قوت بننا چاہتے ہیں، انہیں یہ معلوم نہیں کہ سرمایہ اور جنگ کی آپس میں دشمنی ہے۔دونوں ایک جگہ اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ افسوس کہ بھارت میں ایسی ہوشمند آوازیں موجودنہیں جو آگ کا یہ کھیل کھیلنے سے روک سکیں۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

گلوبل دہشت گردی اور عالمی لیڈروں کی ناکامی(۲)

(سینیٹر رحمان ملک) میں دہشت گردی کے سدِباب کے لیے چند ترجیحات پیش کرنا چاہوں …