بدھ , 20 مارچ 2019

پانی فروش عبداللہ ابو طالب کو کس جرم میں شہید کیا گیا؟

حال ہی میں قابض صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں‌ ایک چیک پوسٹ پر 20 سالہ فلسطینی نوجوان عبداللہ ابو طالب کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ کچھ عرصے سے اس گزرگاہ پر راہ گیروں اور مسافروں کو پانی کی بوتلیں فروخت کر کے اپنے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا مگر صہیونی دشمن کو اس کا وہاں پر پانی فروخت کرنا بھی نا گوار گذرا اور اسے بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں قاتلوں کے جرم کا دفاع کرتے ہوئے یہ کہہ کر انہیں معصوم قرار دیا گیا کہ عبداللہ ابو طالب ایک مزاحمت کار تھا اور اس نے چاقو سے یہودی فوجیوں پر حملے کی کوشش کی مگر صہیونی دشمن حسب سابق اس کا نہ تو کوئی ثبوت پیش کرسکے اورنہ ہی وہ اس جرم میں اپنی بے گناہی ثابت کرسکے ہیں۔

صہیونی فوج کی کذب بیانی ایک بار پھر سامنے آ گئی اور فلسطینی نوجوان بے قصورثابت ہوا ہے۔ جب عبداللہ ابو طالب کو اسرائیلی فوج نے الجلمہ گزرگاہ پر گولیاں ماریں اس وقت وہاں پر راہ گیروں اور مسافروں کو پانی فروخت کر رہا تھا۔

یہ گزرگاہ غرب اردن کے دوسرے شہروں اور شمالی فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آمد رفت کا ذریعہ ہے اور یہاں سے آس پاس کے علاقوں میں سفر کرنے والے فلسطینی صہیونی فوج کی طرف سے قائم کی گئی گزرگاہ کو استعمال کرتے ہیں۔

ابو طالب کے عزیزو اقارب کا کہنا ہے کہ شہید گزشتہ کئی ماہ سے الجلمہ گذرگاہ سے گذرنے والے رہ گیروں میں پانی فروخت کرتا۔ وہ روزانہ اپنے ایک پرانے سے موٹرسائیکل پر پانی کی بوتلیں اور آئیس کریم کا ایک صندوق لادتا اور الجلمہ گزرگاہ پر پہنچ جاتا۔ یہ گذرگا نہ صرف ابو طالب بلکہ اس کے خاندان کی کفالت کا ایک اہم ذریعہ سمھجی جاتی تھی۔گرمیوں کے موسم میں وہ وہاں پر تھنڈہ پانی اور آئس کریم فروخت کرتا۔

گزرگاہ پر پانی فروشی
ایک مقامی شہر احمد شعبان نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الجلمہ قصبے کے تمام شہری شہید عبداللہ ابو طالب کو جانتے ہیں۔ وہ الجملہ گزرگاہ پر روزانہ پانی فروشی کے لیے جاتا۔ جس روز اسے شہید کیا گیا اس روز بھی وہ جنین کے مختلف علاقوں میں اپنی فروشی کے بعد اس گزرگاہ پر پہنچا تھا جہاں قابض فوج نے اسے دیکھتے ہی گولیاں مار کر شہید کر دیا۔

گزشتہ سوموار کو شام آٹھ بجے وہ پانی کی بوتلیں لیے اسی جگہ جا کھڑا ہوا جہاں وہ روزانہ جاتا تھا۔ یہ جگہ اس کا ذریعہ معاش تھی اور وہ اپنےایک دوست کے ہمراہ وہاں پہنچا۔ اسرائیلی فوجیوں نے اسے گولیاں ماریں اور موقع پر ہی شہید کردیا جب کہ اس کے ساتھی کو زخمی کردیا گیا جو اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ عبداللہ ابو طالب اور اس کا ساتھی صہیونی فوج کے لیے کسی بھی طورپر خطرہ نہیں تھے۔ صہیونی فوج کا یہ دعویٰ قطعا بے بنیاد ہے۔ گزرگاہ پر ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں اور ان کیمروں میں آسانی کے ساتھ پتا چلایا جاسکتا ہے کہ عبداللہ ابو طالب کو اسرائیلی فوجیوں نے بے قصور ہونے کے باوجود شہید کیا ہے۔

الجلمہ قصبے کے فلسطینی میئر محمد ابو فرحہ نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے لیے کوئی جائے امان نہیں ہے۔ راہ چلتے ہوئے اسرائیلی فوجی جب اور جہاں چاہیں کسی بھی فلسطینی کو گولی مار کر شہید کر دیتے ہیں چے جائے کہ وہ کسی کے لیے خطرہ ثابت ہوں یا نہ ہوں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

ہالینڈ میں دہشت گردی: نعرے بازی سے ہونے والا نقصان

(سید مجاہد علی) یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے بلکہ شاید اتفاق ہی ہوگا کہ ...