بدھ , 20 مارچ 2019

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید)

پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت اور ریاست سے فاصلہ رکھنا چاہئے کہ ہر دو کی کچھ پالیسیوں اور اقدامات پر تحفظات ہیں اور شکایات بھی؟ ان تحفظات اور شکایات پر بالآخر مکالمہ ہی تو کرنا پڑے گا دوسرا راستہ کیا ہے؟ اس وقت جب بھارتی وزیراعظم’ ان کی جماعت اور انتہا پسند ہندو تنظیمیں بھارتی نظام اور سماج کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں پھر بھی بھارت کے اندر سے امن وانسانیت اور ہمسایوں سے بہتر تعلقات کار کے حوالے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ کچھ بھارتی اہل دانش تو پلوامہ حملہ کے حوالے سے چبھتے ہوئے سوالات بھی دریافت کر رہے ہیں۔ ہم سرحد کے اس طرف پاکستان میں رہتے ہیں۔ ریاست اور موجودہ حکومت کے بہت سارے معاملات’ پالیسیاں اور فیصلے ایسے ہیں جن پر ان سطور کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی جگہ سوالات اُٹھاتے ہیں لیکن یہ ہمارا باہمی معاملہ ہے۔ اختلاف اور سوالات دونوں سماجی شعور کی زندگی کا ثبوت ہیں۔ مناسب یہی لگتا ہے کہ سیاسی اختلاف اور بعض تحفظات کے باوجود پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ ماحول میں سوکنوں کی طرح طعنے دینے کی بجائے ایسے اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے جس سے یہ تاثر اُجاگر ہو کہ اگر خاکم بدہن کسی نے جارحیت کا ارتکاب کیا تو جوابی عمل کی توقع بھی رکھے۔ پانچ قومیتوں کے خوبصورت گلدستے والا یہ ملک ہم سب کا ہے۔ کوئی طبقہ یا ادارہ اسے خاندانی ترکے میں لیکر نہیں آیا۔ تقسیم کے پس منظر پر آراء کا اختلاف کفر تھا نہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم مودی انتخابی سیاست کے ماحول میں جنونیت کاشت کرکے من پسند نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جنونیت کی اس لہر سے جو جنگی ماحول بن رہا ہے اس میں اپنے ملک کی جوابی حکمت عملی کی تائید کرنا ہے یا سیاسی وانتظامی معاملات میں ناراضگیوں کا غصہ نکالنا ہے؟ طالب علم کا جواب یہ ہے کہ سرحد کی دوسری طرف پھیلتی جنونیت سے بنے ماحول کے نتیجہ میں اگر کوئی انہونی رونما ہوتی ہے تو تمام تر اختلاف کے باوجود ہمیں اپنی ریاست اور حکومت کی تائید کرنی چاہئے۔ البتہ یہ درست ہے کہ حکومت اور ریاست کو بھی عمومی حالات اور بھارت کے پیدا کردہ جنگی جنون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جوابی حکمت عملی وضع کرنی چاہئے اور کچھ وقت کیلئے ایسے اقدامات سے پرہیز جو اتحاد وتعاون کے منافی ہوں۔

پلوامہ حملہ کے حوالے سے بھارت کے الزامات پر حکومت کا موقف سامنے ہے جمعرات کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا سوچ بچار ہوئی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے تفصیلات آپ تک پہنچ چکیں۔ خدانخواستہ اگر بھارت جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے تو جواب میں وہاں دودھ کی سبیلیں تو نہیں لگائی جائیں گی ظاہر ہے ایسے موثر اقدامات کی پیشگی منصوبہ بندی کر لینی چاہئے جن سے کسی بھی جارح دشمن کو اس کی حد میں رکھا جا سکے۔ بظاہر معاملات جنگ کی طرف جاتے دکھائی نہیں دیتے البتہ یہ ممکن ہے کہ بھارت کا حکمران ٹولہ اپنی کہانی میں رنگ بھرنے کیلئے ہلکی پھلکی موسیقی سے ماحول گرمانے اور بھارتی انتخابات کے رائے دہندگان کو ایک نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑانے کی کوشش کرے۔ یہ کوشش اس لئے بھی ممکن ہے کہ مودی کی جماعت کو انتخابی سیاست میں شکست دکھائی دے رہی ہے۔ اندریں حالات دو باتیں اہم ہیں اولاً یہ کہ پاکستانی رائے عامہ اپنے باہمی اختلاف اور حکومت وریاست سے شکایات کے باوجود بھارتی جنون کے مقابلہ کیلئے متحد ہو اور ثانیاً یہ کہ خود بھارت کو بھی انتخابی سیاست کے بچگانہ تماشوں کی بجائے سنجیدہ ریاست کی حیثیت سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اب ذرا پلوامہ حملہ اور بھارتی الزامات پر بات کرلیتے ہیں۔ پلوامہ حملہ کے حوالے سے جس کشمیری نوجوان کی اعترافی ویڈیو سامنے آئی ( یہ ویڈیو پیغام واقعہ سے قبل ریکارڈ کروایا گیا تھا) اس پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ اس نوجوان کے والد کا دعویٰ ہے کہ اسے سال ڈیڑھ قبل بھارتی سیکورٹی فورسز حراست میں لے چکی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک نوجوان جو کافی عرصہ سے بھارتی سیکورٹی فورسز کی حراست میں تھا اس حملے کا مرتکب کیسے ہوا؟ اگر کسی مرحلہ پر اسے رہائی ملی تھی تو اس نے خاندان سے رابطہ کیوں نہ کیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ انتخابی سیاست میں انتہا پسندی کے جنون کو رواج دینے کیلئے بھارتی منصوبہ سازوں نے اپنے اداروں کی حراست میں موجود نوجوان کو استعمال کیا ہو۔ اس نوجوان کے ویڈیو پیغام کو اگر بغور دیکھا جائے تو اس کے اعترافی بیان کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات میں مماثلت دکھائی نہیں دیتی۔ جس انداز سے وہ اپنا بیان ریکارڈ کروا رہا ہے اس میں مصنوعیت زیادہ ہے۔ بہرطور اس نوجوان کے والد اور خاندان کے دوسرے افراد کے اس بیان کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہے کہ وہ تو بھارتی فوج کی حراست میں تھا۔ یہی بیان اس امر کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ پلوامہ حملہ ایک خاص مقصد کے حصول کیلئے بنائے گئے منصوبے کا حصہ تھا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد ابتدائی تفتیش کے بغیر بھارتی حکام کا پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔ کیا بھارت پلوامہ واقعہ اور اس سے جڑے بعض معاملات کی تحقیقات کیلئے کسی عالمی کمیشن کے قیام پر رضامند ہو سکتا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جاسکیں؟ ایک سوال مکرر عرض کرتا ہوں’ پلوامہ حملہ کا ذمہ دار نوجوان اگر فورسز کی حراست سے رہا کر دیا گیا تھا تو یہ رہائی کب اور کس کے حکم پر عمل میں آئی اس کا کوئی دستاویزاتی ثبوت تو ہوگا وہ کہاں ہے؟ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی اور کشمیر میں جاری مظالم کو ختم کئے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں۔ محض الزام تراشی کافی نہیں ٹھوس ثبوت درکار ہوں گے، بھارتی الزامات کے حوالے سے وہ ہیں تو سامنے لائے جائیں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

ہالینڈ میں دہشت گردی: نعرے بازی سے ہونے والا نقصان

(سید مجاہد علی) یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے بلکہ شاید اتفاق ہی ہوگا کہ ...