جمعرات , 23 مئی 2019

بھارتی تجارتی دہشتگردی سے سارک ممالک کے تاجر پریشان، پاکستان بھی جوابی وار کیلئے تیار

(ترتیب و تدوین: ایس حیدر)

بھارت کی ہٹ دھرمی سے ساؤتھ ایشئین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن (سارک) کے تمام رکن ممالک کے تاجروں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ بھارت نے آئندہ ماہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہونے والی سارک چیمبر آف کامرس کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کو روکنے کیلئے منفی حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں، اس کیلئے بھارت سارک چیمبر ممبرز پر دباؤ ڈالنے کی پلاننگ میں مصروف ہے، جس کیلئے وہ کانفرنس میں شرکت سے انکار بھی کر سکتا ہے، دوسری جانب پاکستان نے بھی بھارت پر جوابی وار کرنے کی تیاری کرلی ہے اور فوری طور پر 90 بھارتی اشیاء کو منفی لسٹ میں ڈال کر ان اشیاء پر 200 فیصد ریگیولیٹری ڈیوٹی عائد کئے جانے کا قوی امکان ہے، جبکہ پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت بھی بھارتی برآمدات کو روک سکتا ہے۔ سارک چیمبر اجلاس کے حوالے سے سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر اور پاکستان کے معروف بزنس مین افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ سارک چیمبر آف کامرس کے ممبر ممالک آئندہ ماہ 15 اور 16 مارچ کو کھٹمنڈو میں سارک چیمبر کے اجلاس میں ضرور شریک ہونگے اور ہمیں یقین ہے کہ بھارت بھی اس اجلاس میں شریک ہوگا، کیونکہ علاقائی تجارت میں خسارہ بھارت برداشت نہیں کر پائے گا۔

افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اس کانفرنس میں شریک نہ بھی ہو، تو پاکستان سے وفد بھرپور انداز میں شریک ہوگا اور اس اجلاس میں ہم علاقائی تجارت میں اضافے کیلئے تمام ممالک سے بات کریں گے۔ افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ بھارت کے بزنس مین بھی موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں، کیونکہ بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی انہیں بھی شدید نقصان سے دوچار کر رہی ہے۔ پاکستانی صنعتکاروں نے بھارت کی جانب سے تجارت بند کرنے کے اقدام کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا انتخابی حربہ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس سے بھارت کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی تاجروں نے پاکستان سے تمام آرڈر منسوخ کئے تھے، جس کی وجہ سے پاکستانی تمام درآمدات بند کر دی گئی تھیں اور پاک بھارت سرحد پر سیمنٹ کے 500 کے قریب بڑے ٹرک بھی رک گئے تھے، آرڈر منسوخی کے ساتھ ہی بھارتی تاجروں نے پاکستانی ایکسپورٹرز کو ادائیگیاں بھی روک دی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے کروڑوں ڈالر پھنسنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پاکستان سے بھارت کو چھوارے اور کھجوریں برآمد کرنے والی پاکستانی خاتون تاجر اور ایف پی سی سی آئی کی سابق نائب صدر شبنم ظفر نے بتایا کہ واہگہ بارڈرز پر کھجوروں اور چھواروں کے کنٹینرز روک دیئے گئے ہیں اور جو مال بھارتی حدود میں جا چکا تھا، اسے بھی بھارتی تاجروں نے واپس بھیج دیا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، لیکن ہمارے ملک کی بقاء اورعزت کے سامنے یہ نقصان کچھ بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارتی تجارتی دہشتگردی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے پاکستان نے بھی جوابی پالیسی تیار کرلی ہے، قوی امکان ہے کہ پاکستان فوری طور پر 90 بھارتی اشیاء کو منفی لسٹ میں ڈال کر ان اشیاء پر 200 فیصد ریگیولیٹری ڈیوٹی عائد کر دے گا۔ اطلاعات کے مطابق وزارت تجارت نے بھارت کیلئے 4 نکاتی جوابی پالیسی تیار کرلی ہے اور یہ پالیسی باضابطہ منظوری کیلئے آئندہ قومی سلامتی سے متعلق اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ 90 اشیاء کو منفی لسٹ میں ڈالنے سے بھارت کی 70 سے 80 کروڑ ڈالر تک کی برآمدات کو دھچکہ لگے گا۔

اس کے علاوہ پاکستان بھی بھارتی اشیاء پر 200 فیصد ریگیولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ کرے گا۔ پاکستانی وزارت تجارت حکام کے مطابق ایم ایف این اسٹیٹس کی واپسی سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ایم ایف این اسٹیٹس محض ایک دکھاوا تھا، کیونکہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو ایم ایف این اسٹیٹس دیئے جانے کے باوجود پاکستانی اشیا پر مختلف نان ٹیریف بریئرز لگا ئے گئے تھے، جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کی بھارتی منڈیوں تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی جنگ میں بھارت کو زیادہ نقصان کا سامنا ہوگا، پاک بھارت تجارت میں بھارتی برآمدات کا حجم پونے دو ارب ڈالرز کے قریب ہے، جبکہ پاکستان بھارت کو صرف 36 کروڑ ڈالر کی برآمدات کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

’پاکستان میں بجٹ خسارہ نہیں، اعتماد کا خسارہ ہے’

(راجہ کامران) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے گزشتہ 10 ماہ کے …