بدھ , 20 مارچ 2019

بھارت کا جنگی جنون اور پاکستان کا موقف

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

قوموں کی نفسیات ایک دو دن میں نہیں بنتی، نہ ہی دو چار روز میں تبدیل ہوتی ہے، کم و بیش آدھ صدی سماجی نفسیات کا رخ متعین کرنے میں گذر جاتی ہے، اگلی آدھ صدی اس رخ کے دھارے کو کند و تیز کرنے میں اور پھر اگلی صدی کے ابتدائی عشرے سماجی حیات کے اصل جوہر سامنے لاتے ہیں. تاریخ کا مطالعہ عقیدت کی رو سے کیا جائے تو سوائے واہ واہ یا ہائے ہائے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ہاں مگر تاریخ کو اگر بہ طور سماجی حیات کے نفسیاتی مضمون کے طور پر پڑھا جائے تو فہیم دماغ نتائج ضرور اخذ کرتے ہیں۔ تاریخ کے جنگی ابواب کا مطالعہ فتح و شکست کے افسانوں سے بھرا پڑا ہے، مگر اس ساری داستان گوئی کا نتیجہ انسانی جانوں کی قیمت ہے۔ کیا وہ کمزور دل تھے جنھوں نے انسانی سروں کے مزار بنائے؟ نہیں وحشت اور نفرت کسی سماج کا جزو لازم بن جائے تو اس کے اثرات منفی ہی ہوتے ہیں۔ تاریخ کے دور فاصلوں کو ماپنے کے لئے کون ہے جو اپنی آنکھوں کی بینائی گنوائے اور دماغ سوزی کرے؟ ہر خطے کا ایک مزاج ہے۔ برصغیر کا بھی ایک مزاج ہے، برصغیر کے مسلم کا بھی ایک تفاخرانہ مزاج ہے اور ہندو کا بھی ایک مزاج ہے۔

پاک بھارت سیاسی تاریخ کا یہ المناک باب ہے کہ دونوں ممالک میں قومی انتخابات جارحانہ مذہبی رحجانات رکھنے والی چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے زیر اثر لڑے جاتے ہیں۔ کیا بھارت کی ہندو انتہاء پسندانہ سیاسی جماعتیں بڑی جماعتیں شمار ہوتی ہیں؟ نہیں لیکن ان کا ووٹ بینک اس طرح کا ہے کہ جوڑ توڑ کی سیاست میں اثر انداز ہوتا ہے۔ گذشتہ تین عشروں کے پاک بھارت قومی انتخابات کا تجزیہ کیا جائے تو حقائق کی گھتیاں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ یہ بات پاکستان کے سوا دنیا کا کوئی ملک نہیں کہہ سکتا کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف خطرناک ترین جنگ لڑی اور جیت گیا۔ امریکہ جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مالی و تھینک ٹینک کے اعتبار سے سربراہ ہے اور عملی طور پر بھی نیٹو کے ساتھ شریک ہے، وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کر پا رہا کہ اس نے پاکستان سے زیادہ اس جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔

الزام تراشی دنیا کا آسان ترین کام ہے، لیکن ثبوت فراہم کرنا ایک الگ اور دقیق عمل ہے۔ پلوامہ حملہ ہوا تو بھارت نے حسبِ سابق اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا۔ یہی نہیں بلکہ کہا کہ اس کے لیے یہی ثبوت کافی ہے کہ جیشِ محمد کا سربراہ اظہر مسعود پاکستان میں ہے۔ حالانکہ پاکستان میں جیش ِ محمد سمیت لشکر طیبہ اور اس نوع کی دیگر کئی تنظیمیں جن کی فہرست کوئی 70 کے قریب بنتی ہے، وہ سب کالعدم ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد بھارت نے الزام لگایا تھا کہ یہ حملہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی جانب سے کروایا گیا، ساتھ ہی بھارت نے اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے اس معاملے کو پاکستان سے جوڑا اور پاکستان سے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ واپس لے لیا تھا جبکہ پاکستان سپر لیگ کی نشریات پر بھی پابندی عائد کر دی۔

اس کے علاوہ بھارتی درآمد کنندگان نے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد روک دی تھی۔ بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں ہندو انتہاء پسندوں کی جانب سے مسلمان شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں مسلمان خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پلوامہ حملے کے بعد عام کشمیری مرد و خواتین کو ٹارگیٹڈ حملوں اور ماورائے قانون گرفتاری جیسے معاملات سے محفوظ بنائے۔ ایمنسٹی بھارت کی جاری پریس ریلیز میں انتہاء پسند ہندوؤں کی جانب سے اترپردیش، ہریانہ اور بہار میں مقیم کشمیری تاجروں اور جامعات کے طالبعلموں پر تشدد اور دھمکی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ نے کہا کہ مشتعل ہجوم وطن پرستانہ جذبات کو جواز بنا کر گھر، ہوٹل اور دکانوں پر کشمیریوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں، جو بھارتی آئین کے قطعی منافی ہے۔

بھارتی دھمکیوں کے جواب میں پاکستانی وزیراعظم نے قوم سے جو خطاب کیا اور عالمی برادری کی توجہ جس طرف مبذول کرائی، وہ نہایت اہم نکات ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارتی حکومت کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا اور یہ نہیں سوچا کہ اس سے پاکستان کا کیا فائدہ ہے، اگر پاکستان اتنی اہم کانفرنس کر رہا تھا تو کوئی احمق ہی ہوگا، جو ایسی کارروائی کرے گا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ اگر سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان نہ بھی ہوتا تو بھارت کو یہ سوچنا چاہیئے تھا کہ اس سے پاکستان کو کیا فائدہ ہے؟ کیوں پاکستان اس موقع پر جب ہم استحکام کی طرف جا رہے ہیں تو کیا ایسا واقعہ کریں گے۔؟ بھارتی حکومت کے الزام پر عمران خان نے کہا کہ پڑوسی ملک کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنے کے بجائے پاکستان پر الزام لگا دیتا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی حکومت پر واضح کیا کہ یہ "نیا پاکستان، نئی ذہنیت اور نئی سوچ ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نہ کوئی پاکستان سے جا کر باہر دہشت گردی کرے اور نہ باہر سے آکر کوئی پاکستان میں دہشت گردی کرے، کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے، ہم استحکام چاہتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارتی حکومت کو پیش کش کی کہ پلوامہ حملے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے، اگر آپ کے پاس کسی پاکستانی کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی قابل عمل معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کریں، میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم کارروائی کریں گے۔”

مگر کئی داخلی مسائل میں الجھے ہوئے بھارت نے عوامی جذبات کے تابع رہتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی پلوامہ حملے کی تحقیقات اور اس پر مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی۔ لیکن دنیا اندھی نہیں، دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کے زیادہ تر اراکین نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر میں فوری طور پر مظالم بند کرے۔ یورپی پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر باضابطہ طور پر تبادلہ خیال کیا۔ خیال رہے کہ 2007ء کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ یورپی یونین کے فورم پر باضابطہ طور پر مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی۔

آخری تجزیے میں کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے ہی حل ہوسکتا ہے، بصورت دیگر بھارت اگر سیاسی فوائد کے لئے جنگ کا سوچتا ہے تو بلاشبہ مگر بدقسمتی سے یہ کوئی روایتی جنگ نہیں ہوگی۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ملک ہیں۔ ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی زندگیوں کا سوال ہے۔ عالمی برادری کے فیصلہ ساز ممالک اور اداروں کو بھارتی ہٹ دھرمی اور رویئے پر دبائو ڈالنا چاہیئے اور حالات کو معمول پر لانے کے لئے اپنا عالمی کردارا ادا کرنا چاہیئے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بھارت پاکستان میں دراندازی کرتا ہے؟ دہشت گردوں کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے؟ کیا کلبھوشن یادیو خطے کے لیے بھارتی خطرناک پالیسیوں کا راز فاش نہیں کرچکا۔؟ مودی سرکار جنگیں چھڑنا ایک لمحے کا کام ہے مگر ان کو سمیٹنا پھر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ آپ آئندہ انتخابات معاشی و سماجی کے حل کی تجاویز کے ساتھ لڑیں۔ پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے، یا سبق سکھانے والی باتیں زیبا نہیں۔ آپ ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں۔ کیا آپ کے ملک کے اندر سے ہی پلوامہ واقعے کو مودی حکومت کی سازش قرار نہیں دیا جا رہا۔؟؟

یہ بھی دیکھیں

ہالینڈ میں دہشت گردی: نعرے بازی سے ہونے والا نقصان

(سید مجاہد علی) یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے بلکہ شاید اتفاق ہی ہوگا کہ ...