بدھ , 20 مارچ 2019

انٹرمیڈیٹ نیو کلیئر فورسز معاہدے سے نکلنے کی امریکی دھمکی

(مصطفی کمال پاشا)

یونانی مائیتھالوجی کے مطابق پینڈورا ایک لڑکی تھی اس کے پاس ایک بکس تھا، جس کے بارے میں اُسے سختی سے ہدایت کی گئی تھی اسے کھولنا نہیں ہے،لیکن اس نے حکم عدولی کرتے ہوئے بکس کھول دیا،جس کے نتیجے میں ایسی قدرتی آفات نازل ہونے لگیں،جس سے انسان ہمیشہ کے لئے متاثر ہونے لگے اور یہ عمل ہنوز جاری ہے۔

انسان قدرتی آفات و بلیات کا شکار ہوتا رہتا ہے،جو اسے پریشان کرتی ہیں۔بیمار کرتی ہیں، کمزور کرتی ہیں اس کی زندگی اجیرن کرتی رہتی ہیں۔ اگر پینڈورا بکس نہ کھلتا تو مسائل و آفات و بلیات درپیش نہ ہوتیں۔امریکہ نے اعلان کیا ہے،بلکہ دھمکی دی ہے کہ وہ درمیانے درجے کے نیو کلیئر فورسز معاہدے سے دستبردار ہوجائے گا، جو300تا3400میل تک ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے میزائل بنانے سے منع کرتا ہے، اگر اس معاہدے سے دستبرداری کے نتائج اور عواقب کے بارے میں سوچ و بچار کئے بغیر دستبرداری کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے نتائج بھی پینڈورا بکس کھلنے جیسے ہوں گے۔دُنیا آفات و بلیات کا شکار ہو جائے گی، تباہی و بربادی کا ایک نیا باب شروع ہو سکتا ہے۔

اِس بارے میں تو ہمیں شک نہیں کہ دُنیا نصف صدی تک جنگ عظیم دوم کے خاتمے سے لے کر 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے تک امریکہ اور اشتراکی روس ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار تانے حالتِ جنگ میں صف آرا رہے۔

سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی حامی اقوام امریکی قیادت میں اور اشتراکی نظام معیشت کی حامل اقوام، سوویت یونین کی قیادت میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہیں، نصف صدی تک خطرناک ہتھیاروں کی تیاری کی ایک ریس جاری رہی، اس دور میں سینکڑوں چھوٹی چھوٹی جنگیں لڑی گئیں، ہزاروں نہیں لاکھوں انسان ہلاک اور مجروح ہوئے۔ حیران کن حد تک مالی وسائل اسلحہ سازی پر ضائع کئے گئے۔امریکہ اور سوویت یونین اپنے اسلحہ خانوں کو ہر دم تازہ رکھنے کے لئے اربوں ڈالر سالانہ خرچ کرتے تھے۔

دونوں ریاستیں ایک دوسرے پر اپنی دھاک بٹھانے اور برتری جتانے کے لئے اسلحہ سازی کو جدید سے جدید تر بنانے میں مصروف رہتی تھیں، لیکن اسی دور میں ہلاکت خیزی سے بچنے کے لئے امریکہ و سوویت یونین نے کئی ایک معاہدے کئے، جن کے ذریعے اچانک یا ناگہانی یا غلطی سے جنگ چھڑ جانے کے امکانات کا تدارک کیا گیا۔

جوں جوں اسلحہ سازی کی صنعت میں جدت طرازی آتی گئی، جنگ کی ہولناکی اسی قدر بڑھتی گی۔ جدید ٹیکنالوجی، انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے باعث معاملات نازک سے نازک تر ہوتے چلے گئے۔

ذرا غور کریں جودھری اسلحہ خانوں میں موجود روایتی کروز میزائل کی مثال لے لیں یہ میزائل الیکٹرانک گائیڈ اینڈ کمانڈ سسٹم سے لیس ہے اس نظام کے ذریعے میزائل نہ صرف اپنی سمت تبدیل کر سکتا ہے، بلکہ فضا میں اڑتے ہوئے ٹارگٹ کو نشانہ بھی بنا سکتا ہے، اپنی رفتار اور سمت میں تبدیلی کرنے کی صلاحیت کے باعث اس کی ہلاکت خیزی ناقابلِ یقین حد تک پہنچی ہوئی ہے۔

یہ ہے روایتی کروز میزائل جو 80ء اور90ء کی دہائی میں تخلیق کئے گئے تھے ان پر ایٹمی ہتھیار نصب کر کے دُنیا میں اہداف تک پہنچائے تھے،بلکہ اب بھی ایسا ہی ہے۔ 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے تک 20 ہزار ایسے ہی میزائل اپنے اپنے طے کردہ اہداف کا نشانہ لئے ایستادہ تھے اشتراکی ریاست نے امریکہ کے شہروں اور فوجی چھاؤنیوں کو نشان زد کر رکھا تھا کہ جب بھی ضرورت پڑنے پر پلک جھپکنے میں ان ایٹمی میزائلوں کو طے کردہ اہداف کی طرف روانہ کر دیا جائے۔ امریکہ بھی یونہی نہیں بیٹھا ہوا تھا اُس نے سٹار وار پروگرام کے ذریعے اپنی فضاؤں کو اس قدر محفوظ بنا لیا تھا کہ جونہی دُنیا کے کسی بھی خطے میں میزائل لوڈ ہو اور اس کا رُخ امریکہ کی طرف ہو تو یہ نظام متحرک ہو جائے اور جونہی دشمن میزائل امریکی فضائی حدود میں داخل ہو اُسے وہیں تباہ کر دیا جائے۔ امریکی صدر رونلڈ ریگن کے زمانے میں 200ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کر کے سٹار وار پروگرام کی تکمیل کی گئی تھی اس طرح امریکی برتری کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔

پھر1989ء میں افغانستان سے اشتراکی افواج کی واپسی نے اشتراکیوں کی وحشت اور وحشت میں کمی کی، حتیٰ کہ1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے باعث امریکی عالمی برتری مسلم ہو گئی۔

اب ایٹمی ہتھیاروں اور کروز میزائلوں کی بہت سی اقوام کو دستیابی کے باعث عالمی توازن طاقت کچھ اس طرح ترتیب پا گیا ہے کہ ایٹمی جنگ اور میزائلوں کا استعمال ممکن العمل نظر نہیں آتا ہے۔ پاک بھارت ہی کو دیکھ لیں۔ کیا بھارت پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے ایٹمی ہتھیار یا میزائلوں کا استعمال کر سکتا ہے؟کیا ایسا کر کے بھارت خود محفوظ رہے گا؟ ہندوستان کی طرف سے چلائے جانے والے ایٹمی ہتھیاروں کے مضر اثرات سے بھارتی شہر بھی بچ نہیں سکیں گے، پھر کیا پاکستان بھی اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال نہیں کرے گا؟ ایسی صورتِ حال میں عالمی برادری کا ردعمل ہو گا؟ یہ سب کچھ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ایسا لگتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں کے گودام کس کام کے ہیں؟ اقوام نے بے بہا انسانی اور مالی وسائل کو ایسے ہتھیاروں کی تیاری اور انہیں ذخیرہ کرنے پر ضائع کر دیاہے،جن کا استعمال ممکن ہی نہیں ہے،صرف ایک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے اور اپنی برتری کا سکہ جمانے کے لئے وسائل کا بے دریغ ضیاع کہاں کی عقل مندی ہے۔ امریکہ و سوویت یونین نہ صرف ایسے ہتھیاروں کی تیاری کی دوڑ میں شامل رہے، بلکہ ان کے استعمال کو روکنے کے لئے معاہدوں کا بھی بندوبست کرتے رہے۔

انٹرمیڈیٹ نیو کلیئر فورسز معاہدہ 1987ء میں ہوا۔ امریکہ اور سوویت یونین نے طے کیا کہ وہ 300سے 3400 میل کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل اپنے اسلحہ خانوں میں نہیں رکھیں گے،یعنی اولاً ایسے ہتھیاروں کو بنانے پر پابندی ہو گی اور اگر اس نوعیت کے میزائل گوداموں، اسلحہ خانوں میں موجود ہیں تو انہیں تلف کر دیا جائے گا۔اب امریکہ گم کردہ عالمی پوزیشن کی بازیابی کے لئے کوشاں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ سفید انسان کی برتری کے حامی ہیں، صیہونیت کے پرچارک اور اسرائیل کی عظیم ریاست کے احیاء کے مذہبی طور پر ماننے والے بھی نہیں، بلکہ اس کے قیام کے لئے کوشاں بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے کے ساتھ ساتھ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر بھی دیا ہے۔

اقوامِ عالم کی بھرپور مخالفت کے باوجود وہ ایسا کر گزرے ہیں انہوں نے عربوں کی مخالفت کی پروا کئے بغیر گریٹر اسرائیل کے احیاء کی کاوشوں کو عملاً سپورٹ کر کے اپنا خبثِ باطن واضح کر دیا ہے۔ اب انٹرمیڈیٹ نیو کلیئر فورسز معاہدے سے نکلنے کی دھمکی دے کر وہ روس کو اس کی اوقات دکھانا چاہتے ہیں کہ امریکہ ہی سپریم پاور ہے، روس کی کوئی اوقات نہیں ہے۔معاہدے سے نکلنے کی دھمکی کسی وقت بھی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ہالینڈ میں دہشت گردی: نعرے بازی سے ہونے والا نقصان

(سید مجاہد علی) یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے بلکہ شاید اتفاق ہی ہوگا کہ ...