جمعرات , 23 مئی 2019

جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک ، امریکی صدر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدگی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور دیگر ممالک جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جمعے کی دوپہر اوول آفس میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال انتہائی خراب ہے اور یہ انتہائی خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تمام تر صورتحال کو روکنا ہو گا، کئی لوگ مارے جا چکے ہیں، ہم اسے ہر حال میں روکنا چاہتے ہیں اور اس عمل میں پوری طرح شریک ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی بھارتی فوج کے قافلے سے ٹکرا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 40 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے کی ذمے داری جیش محمد نے قبول کی تھی لیکن بھارت نے فوری طور پر پاکستان کو حملے کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے جوابی حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر بھارت ثبوت فراہم کرے تو پاکستان معاملے کی تحقیقات کرے گا لیکن ساتھ ساتھ خبردار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کے حملے کی صورت میں پاکستان بھرپور جواب دے گا۔جمعے کو پاک فوج نے بھی بھارت کو کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جارحیت کی گئی تو بھارت کو حیران کردیں گے۔

دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان جاری لفظی جنگ نے عالمی طاقتوں کو بھی خبردار کردیا تھا جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر پاکستان اور بھارت سے رابطہ کر لیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہم دونوں ملکوں سے بات کر رہے ہیں، کئی لوگ ان سے بات کر رہے ہیں، یہ انتہائی پیچیدہ توازن کی صورتحال ہے کیونکہ جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کافی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

انڈیا پاکستان سے بات چیت میں کسی ثالث کے کردار کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے دوطرفہ بات چیت پر اصرار کرتا رہا ہے لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ وہ شدت پسندی کا بہانہ بنا کر پاکستان سے دوطرفہ مذاکرات سے بھی مستقل انکاری ہے۔

اس صورتحال میں ثالثوں کے لیے ایک خطرناک صورت پیدا ہو گئی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے ان کی جانب سے کی گئی کوششوں کا بھی سرعام ذکر نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں خطرہ ہے اس سے بھارت ناراض ہو جائے گا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے اب تک اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ امریکا اور دوسری عالمی قوتوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں۔

ٹرمپ نے بھارت کو یقین دلایا کہ امریکا ان کے احساسات کو سمجھتا ہے، بھارت نے حملے میں تقریباً 50 لوگوں کو گنوایا ہے اور میں یہ سمجھ سکتا ہوں، ہماری انتظامیہ دونوں ملکوں کے حکام سے بات کر رہی ہے۔

پاکستان پر جوابی حملوں کی دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی تنہا کرنے کے لیے اقدامات شورع کر دیے ہیں جہاں اس نے پاکستان سے ’سب سے پسندیدہ قوم‘ کا درجہ واپس لیتے ہوئے اس کی تمام مصنوعات پر 200فیصد ڈیوٹی عائد کردی ہے۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے تمام ملکوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پلوامہ حملے میں ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھارت سے ہرممکن تعاون کریں۔

اسی دن پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے شدت پسند عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم فلاحِ انسانیت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ۔پلوامہ حملے پر بھارت سے تعزیت کرنے کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں حالیہ دنوں میں آنے والی بہتری کا ذکر بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو 1.3ارب ڈالر کی ادائیگی روک دی ہے جو ہم ان کو دیا کرتے تھے، اس دوران ہم پاکستان کے ساتھ چند ملاقاتوں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔البتہ امریکی صدر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ملاقاتیں کس سطح کی ہوں گی اور ان کی نوعیت کیا ہے یا ان کا انعقاد کس وقت کیا جائے گا۔

حال ہی میں امریکا کے قریبی ساتھی سینیٹر لنڈسے گراہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نومنتخب پاکستانی وزیراعظم عمران خان واشنگٹن آنے کی دعوت دے کر ان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں۔

تاہم امریکی صدر کی جانب سے منسوخ شدہ امداد پر اصرار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن ملاقاتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں بھی پاکستان کو دی جانے والی امداد کی بحالی پر گفتگو کی جائے گی۔

ٹرمپ نے پاکستان کی امداد روکنے کے فیصلے کی ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دیگر امریکی صدور کی موجودگی میں امریکا کا بہت فائدہ اٹھایا۔ ہم پاکستان کو سالانہ 1.3ارب ڈالر دے رہے تھے، میں نے وہ امداد بند کر دیں کیونکہ پاکستان ہماری اس طرح مدد نہیں کر رہا تھا جس طرح اسے کرنی چاہیے تھی۔

یہ بھی دیکھیں

دہشت گرد شام میں کیمیائی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، روس

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک)شام میں روس کے ہم آہنگی کے مرکز کے سربراہ نے ایک بار …