پیر , 24 جون 2019

پاک بھارت کشیدگی، ایم این اے رمیش کمار کی دہلی میں مودی اور سشما سے ملاقاتیں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے بیک ڈور رابطے شروع ہو گئے ہیں جب کہ تحریک انصاف کے اہم رہنما ایم این اے رمیش کمار ونکوانی نے نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے اہم ملاقات کی ہے۔رمیش کمارکا کہنا ہے انھوں نے اپنا مثبت نوٹ بھارتی وزیراعظم تک پہنچادیا اب ان کے رویے میں تبدیلی آئے گی کراچی سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے اقلیتی رکن اسمبلی رمیش کمار کا دورہ بھارت مذہبی ہے تاہم انھوں نے اس دوران نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوروزیر خارجہ سشما سوراج سے سمیت کئی بھارتی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

رمیش کمار نےبتایا کہ ان کی نریندرمودی سے تقریب کے دوران ملاقات ہوئی ، بھارتی وزیراعظم ان سے گرمجوشی سے ملے۔ انھوں نے نریندرمودی کو بتایا کہ وہ پازیٹونوٹ لیکرآئے ہیں اورمثبت پیغام لیکرواپس جانا چاہتے ہیں جس پربھارتی وزیراعظم کی ہدایت پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ان سے 25 منت تک ملاقات کی۔
رمیش کمار نے بتایا انھوں نے بھارتی وزیرخارجہ کوبتایا کہ پاکستان میں اب کپتان کی حکومت ہے ، وہ پٹھان ہے اورجوکہتا ہے وہ کرکے دکھاتا ہے، ہم آپ کویقین دلاتے ہیں کہ پلوامہ حملوں میں کوئی پاکستانی ادارہ ملوث نہیں ہے ، بھارت ثبوت دیں توہم تحقیقات اورتعاون کریں گے۔

رمیش کمارکے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی سیکھنے کے لیے ہوتا ہے اسے پکڑکرنہیں بیٹھا جاسکتا، دشمن کو دوست بناکربھی دشمنی ختم کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے کہا وہ خود گنگا نہا کر آئے ہیں اور کبھی جھوٹ نہیں بولتے ، بھارت پرواضع کیا کہ پلوامہ حملوں میں پاکستان اورپاکستانی اداروں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ الزامات کی سیاست سے باہرنکلنا ہوگا۔

رمیش کما رونکوانی کے مطابق اس ملاقات کے بعد انھیں برف پگھلتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ رمیش کمارنے سابق بھارتی آرمی چیف جنرل وی پی سنگھ سے بھی ملاقات کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ انڈین کونسل فارکلچرل ریلشن(آئی سی سی آر) کی دعوت پرکمبھ میلے کی تقریب میں شرکت کے لیے بھارت آئے ہیں، اس تقریب میں شرکت کے لئے دنیا کے 125 ممالک سے 220 افرادکومدعوکیاگیا ہے ، پاکستان سے وہ اس تقریب میں شریک ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ممکنہ تحریک عدم اعتماد: چیئرمین سینیٹ نے آصف زرداری سے مدد مانگ لی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ تحریک عدم اعتماد …