جمعرات , 19 ستمبر 2019

انڈیا کے پائلٹ ابھینندن کی گرفتاری کی کہانی

پاکستان کی جانب سے بدھ کو گرفتار کیے گئے انڈین پائلٹ ابھینندن ورتھمان، دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں توجہ کا اہم مرکز بن گئے ہیں۔ہوا بازی میں 16 سال کا تجربہ رکھنے والے لڑاکا پائلٹ کا تعلق انڈیا کے جنوبی شہر چنائی سے ہے جس کا پرانا نام مدراس تھا۔ان کا طیارہ اس کارروائی کے دوران مار گرایا گیا تھا جسے پاکستان، انڈیا کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور حملے کے جواب میں کی گئی ’جوابی کارروائی‘ قرار دیتا ہے۔ابھینندن کی گرفتاری کی ڈرامائی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

’میں پائلٹ کو زندہ ہی پکڑنا چاہتا تھا۔ میں نے ان کے پیراشوٹ پر انڈیا کا جھنڈا دیکھ لیا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ وہ انڈین ہیں۔‘ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں ضلع بھمبر کے رہائشی محمد رزاق چوہدری نے بی بی سی کے الیاس خان کو اس لمحے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انڈیا کے جہاز مگ 21 کو نشانہ بنتے ہوئے اور زمین پر گرتے ہوئے دیکھا تھا۔

58 سالہ رزاق چوہدری نے کہا کہ وہ بھی باقی گاؤں والوں کے ساتھ اس جگہ پہنچے جہاں طیارہ گرا تھا۔رزاق چوہدری کے مطابق انہیں ڈر تھا کہ ’گاؤں والے پائلٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے یا خود ان کا نشانہ بنیں گے۔‘’ہمارے لڑکے غصے میں تھے اور پائلٹ کو مکے اور تھپڑ مارنے لگے۔ کچھ لوگوں نے انھیں روکنے کی بھی کوشش کی۔ میں نے بھی انھیں روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ انھیں فوج کے حوالے کرنا چاہیے۔‘

انڈیا کے مقامی میڈیا کے مطابق جیسے ہی ان کی گرفتاری کی خبر پھیلی، ہجوم نے ان کے خاندانی گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ ہندوستان ٹائمز میں چھپے ان کے ایک رشتہ دار کا بیان ہے کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر انڈین حکومت سے ان کی’ رہائی ممکن’ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ان کے خاندان نے ان کی گرفتاری پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

اعزاز یافتہ سابقہ پائلٹ کے بیٹے، ونگ کمانڈر ابھینندن کو پہلی بار 2004 میں کمیشن ملا۔ ان کی والدہ ایک ڈاکٹر ہیں۔ ان کی عمر 30 اور40 کے درمیان بتائی جارہی ہے۔ان کے والد ائیر مارشل، سما کٹی ورتھمان نے 2017 میں تامل فلم میکر مانی رتنام کے ساتھ ان کی فلم کے ایک مشیر کے طور پر کام کیا تھا۔ یہ فلم ’کاترو ویلی دائی‘ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1999 کی کارگل جنگ کے تنازعہ پر مبنی ہے۔

کارگل کی جنت کے وہ آخری معرکہ تھا جب پاکستان نے کسی انڈین فوجی کو گرفتار کیا۔ گروپ کیپٹن کمبامپتی نچِکیتا، جو ایک ائیر فورس پائلٹ بھی تھے، اپنا طیارہ پاکستانی حدود میں گر کر تباہ ہونے کے بعد آٹھ دن تک پاکستان کی تحویل میں رہے۔اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور انڈیا کے جنوبی شہر حیدر آباد میں رہتے ہیں۔

’ان (ونگ کمانڈر ابھینندن) کے ساتھ ایک آفیسر جیسا مناسب سلوک کیا جانا چاہیے اور انہیں انڈیا واپس بھیجا جانا چاہیے،‘ گروپ کیپٹن نچِکیتا نے بی بی سی تیلگو سے بات کرتے ہوئے کہا۔ ’وہ بہادر اور باہمت شخص ہیں اور ہم سب کو ان پر فخر ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی گرفتاری کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’تمام آفیسرز کو اس بارے میں تربیت دی جاتی ہے، مجھے امید ہے کہ وہ جلد ہی ہمارے ساتھ ہوں گے اور واپس اپنے یونٹ کو جوائن کریں گے۔‘ 2001 میں ایک مقامی ٹیلی ویثرن شو ۔ این ڈی ٹی وی گوڈ ٹائمزکے دوران لیا گیا ان کا کلپ بھی وسیع پیمانے پر گردش کر رہا ہے۔اس کلپ میں مذاق کرتے ہوئے انھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ایک فائٹر پائلٹ کے طور پر کامیاب ہونے کے لیے کیسے آپ کو ’برا رویہ‘ رکھنا پڑتا ہے۔

ہوا میں اپنے ساتھی پائلٹ پر ’اندھے اعتماد‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کس طرح آپ اپنے ساتھیوں پر اپنی زندگی کے ساتھ بھروسہ کرتے ہیں۔انڈیا نے بدھ کو ابتدائی طور پر پاکستان کی طرف سے انڈین پائلٹ کی گرفتاری کے دعوں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے سب پائلٹ خیریت سے ہیں۔

لیکن پھر پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کی طرف سے ایک وڈیو جاری کی گئی جسے بعد میں ہٹا دیا گیا، اس وڈیو میں ابھینندن کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور چہرے پر خون تھا۔ جس نے آگ بگولہ دہلی کو پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی پر مجبور کر دیا اور انہوں نے ویڈیو کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘زخمی اہلکار کی بے ہودہ نمائش’ قرار دیا۔اس کے بعد ایک اور ویڈیو میں انھیں آنکھوں پر پٹی کے بغیر چائے پیتے دکھایا گیا اور ان کا چہرہ بھی صاف تھا۔

انھوں نے اپنا نام اور آرمی میں عہدہ بتایا اور کہا کہ ان کا تعلق انڈیا میں جنوب سے ہے لیکن انھوں نے اپنے مشن کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’میں یہ آپ کو نہیں بتا سکتا۔‘

پاکستان آرمی کے ترجمان میجر جنرل غفور کے مطابق پائلٹ کے ساتھ ’آرمی کے قواعد اور اخلاقیات کے مطابق‘ سلوک کیا گیا۔حزبِ اختلاف کی طرف سے ایک مشترکہ بیان میں حکومت پر ‘مسلح افواج کی قربانیوں پر کھلم کھلا سیاست’ کرنے کا الزام لگایا گیا۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …