جمعہ , 23 اگست 2019

سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے

(وسعت اللہ خان)

یہ سمجھنا راکٹ سائنس نہیں کہ اگر جمہوری اقدار کا سیاسی و عمومی سطح پر شعور ایک خاص حد تک بلند نہ ہو اور کثیر الصوت و وسیع المشرب سماج کی وکیل سیاسی قوتیں تساہل کی عادی ہونے لگیں تو پھر جمہوریت دشمن فسطائیت اور طالع آزمائی اسی جمہوری دروازے سے اندر داخل ہو کر چٹخنی چڑھا دیتی ہے اور وہ اونٹ بن جاتی ہے جسے باہر نکالنے کی کوشش میں خیمہ اکھڑ جاتا ہے ۔

ہٹلر بھی انتخابات جیت کر ہی آیا تھا اور پھر اس کے بعد جو ہوا آپ کے سامنے ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں اسی کی دہائی سے جمہوریت و سیکولر ازم کی داعی قوتوں کی مسلسل پسپائی اور ان کی خالی خولی باتوں کے نتیجے میں پھیلنے والی مایوسی کا گراف اگر دیکھنا ہے تو وہ فاشسٹ جن سنگھ عرف آر ایس ایس کے سیاسی چہرے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل پیش قدمی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔

یہ سب ایک دن میں نہیں ہوا۔اس کے پیچھے بانوے برس کا کام ہے جب انیس سو ستائیس میں جن سنگھ نے مہاسبھائیوں سے ہندو قوم پرستی کا جھنڈا لے کر تھاما اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی دعویدار انڈین نیشنل کانگریس کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرنا شروع کیا اور برطانوی جمہوری نظریے پر استوار کانگریس کے مقابلے میں مسولینی کے اطالوی اور ہٹلر کے نازی نسل پرست نیشنلزم کی فوٹو کاپی ہندوتوا کے نام سے غیر منقسم ہندوستان میں متعارف کروانے کا طویل مگر ثابت قدم سفر شروع کیا۔

جن سنگھ نے خود کو برطانوی ہند کی ریاستی دوربین سے پرے رکھنے کے لیے ایک غیر سیاسی سماج سیوک تنظیم کا مکھوٹا چہرے پر سجا لیا اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ایجی ٹیشنل سیاست سے بظاہر خود کو الگ تھلگ رکھا مگر تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے دوران فسادات میں جن سنگھی ’’ سماج سیوکوں ’’ نے جس طرح اپنا خونی کردار نبھایا کانگریسی قیادت کی جانب سے اس سے کبھی لاتعلقی کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ گاندھی جی کے عدم تشدد اور ایکتا کی نظریاتی چھتری تلے ولبھ بھائی پٹیل جیسے رہنماؤں کی معنی خیز خاموشی جن سنگھیوں کو بلاواسطہ طاقت فراہم کرتی رہی۔

اگر نتھو رام گوڈسے کے ہاتھوں گاندھی جی اپنی ’’ پاکستان نوازی‘‘ کے سبب قتل نہ ہوتے تو جن سنگھ کو نہرو پٹیل حکومت کی جانب سے علامتی سیاسی پابندی کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتا۔علامتی میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ گاندھی جی کے قتل کے سال بھر بعد جن سنگھ کو بطور گروہ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا اور اس فیصلے کے نتیجے میں سیکولر بھارت کے جمہوری نقشے میں جن سنگھ کے وجود کو عملی طور پر جائز سیاسی تسلیم کر لیا گیا۔یوں بھارت کے جمہوری سیاسی کلب میں فاشسٹ نظریے کو بھی برابری کا درجہ مل گیا۔

چنانچہ جن سنگھ نے سماج سیوک سنگھٹن کا رہا سہا چولا بھی اتار پھینکا اور اپنی ذیلی تنظیموں اور شاکھاؤں کی مدد سے ستر کی دہائی تک ایک مضبوط جال بن لیا۔انیس سو پچھتر میں اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کی اور حزبِ اختلاف سے جیلیں بھرنا شروع کیں تو جن سنگھ کی قیادت کو بھی جیل میں ڈالا گیا مگر اس کی بیشتر لیڈر شپ معافی نامے بھر کے ضمانت پر رہا ہو گئی۔انیس سو ستتر کے انتخابات میں جن سنگھ نے جنتا پارٹی کے اتحادی کے طور پر پہلی بار عام انتخابات میں اتنی کامیابی حاصل کی کہ وہ مرکز کی مخلوط حکومت کا حصہ بن گئی۔

اٹل بہاری واجپائی کی بطور وزیرِ خارجہ تقرری اس بات کا اعلان تھی کہ آیندہ جن سنگھ بھارتی جمہوریت کے کلب کے ایک فعال رکن کے طور پر اپنی فاشسٹ آئیڈیالوجی کے جائز طریقے سے پرچار میں آزاد ہے۔

انیس سو اسی کے لوک سبھا انتخابات میں اگرچہ جنتا پارٹی بطور اتحاد ناکام ہو گئی اور اندراگاندھی دوبارہ برسرِ اقتدار آ گئیں مگر بھارتی سیاست میں دو نام اور شامل ہو گئے۔جن سنگھ نے راشتریہ سیوک سنگھ کا چولا پہن لیا اور اس کے سیاسی بازو نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے جنم لیا۔

انیس سو چوراسی میں بھارتیہ جنتا پارٹی لوک سبھا کی صرف دو نشستوں پر کامیاب ہوئی اور اسے پونے آٹھ فیصد ووٹ ملے چنانچہ ووٹ بینک بڑھانے کے لیے بابری مسجد عرف رام جنم بھومی کا مدعا ایجاد کیا گیا اور انیس سو نواسی کے عام انتخابات میں بی جے پی کو پچاسی نشستیں ملیں اور ووٹ بینک ساڑھے گیارہ فیصد تک پہنچ گیا۔

انیس سو اکیانوے کے انتخابات میں بی جے پی کی نشستیں ایک سو بیس اور ووٹ بینک بیس فیصد تک بڑھ گیا۔انیس سو چھیانوے کے عام انتخابات میں ایک سو اکسٹھ نشتسوں کے ساتھ بی جے پی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی بن کے ابھری اور اٹل بہاری واجپائی نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر دیا مگر یہ حکومت تیرہ دن کے بعد ختم ہو گئی کیونکہ واجپائی بطور وزیرِ اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔
انیس سو اٹھانوے کے انتخابات میں بی جے پی کا ووٹ بینک چھبیس فیصد اور نشستوں کی تعداد ایک سو بیاسی تک پہنچ گئی۔ واجپائی جی دیگر جماعتوں کی حمایت سے حکومت سازی میں کامیاب ہو گئے اور تیرہ ماہ تک حکومت کر پائے۔تب تک بابری مسجد کے معاملے کو نچوڑا جا چکا تھا لہذا بی جے پی کے ووٹ بینک کو بڑھانے کے لیے ایٹمی دھماکے کیے گئے۔اگرچہ ان ایٹمی دھماکوں کے سبب حسبِ توقع ووٹ بینک میں اضافہ تو نہ ہو سکا مگر انیس سو ننانوے کے انتخابات میں بی جے پی نے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی اور اس بار جو حکومت بنی اس نے پانچ برس پورے کیے۔

لیکن بی جے پی کا شائیننگ انڈیا کا نعرہ چونکہ شہری طبقات کو ہی چمکا پایا اور دیہی ووٹ بینک کو شہری ترقی کی چکا چوند میں نظرانداز کر دیا گیا۔لہذا اس کی قیمت دو ہزار چار کے انتخابات میں چکانی پڑی اور ایک سو بیاسی نشستیں کم ہو کر ایک سو اڑتیس ہو گئیں۔

دوہزار نو کے انتخابات میں یہ نشستیں مزید کم ہو کر ایک سو سولہ رہ گئیں۔چنانچہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں یہ سمجھیں کہ پرانے دن لوٹ آئے ہیں لہٰذا پھر وہی تساہل اور کرپشن سے آنکھیں موندنے کی عادت عود کر آئی۔

ان برسوں میں بی جے پی نے اپنی انتخابی سٹرٹیجی پر خاصا کام کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ ہر بار ہندو کارڈ کام نہیں آئے گا لہذا اچھے دن آنے والے ہیں اور سب کا ساتھ سب کا وکاس ( ترقی ) کے نعرے کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی گجرات کے ترقی ماڈل کو شو کیس کیا گیا اور اس ماڈل کے ’’ معمار ’’ نریندر مودی کو آگے بڑھانے کا جوا کھیلا گیا اور آر ایس ایس کو پیچھے رکھ کے شخصی بنیاد پر ایک مضبوط لیڈر کو برسرِ اقتدار لا کر بھارت کو اس کا جائز مقام دلانے کے نکتے پر انتخابی مہم چلائی گئی۔

آر ایس ایس کی تنظیمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال ہوا۔کانگریس سمیت دیگر جماعتیں ان تنظیمی صلاحیتوں سے عاری تھیں۔سرمایہ دار بھی ہوا کا رخ پہچان گیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ بی جے پی دو ہزار چودہ میں مودی کے نام پر پانچ سو تینتالیس نشستوں کی لوک سبھا میں دو سو بیاسی نشستیں جیت کر تنِ تنہا حکومت بنانے کے قابل ہو گئی۔اس کا ووٹ بینک اٹھارہ فیصد سے بڑھ کر بتیس فیصد تک پہنچ گیا۔

مودی نے یہ انتخابی معرکہ مارنے کے لیے اقتصادی ترقی ، روزگار اور تمام طبقات کی مساوی ترقی کے جو خواب دکھائے تھے، وہ جزوی طور پر ہی پورے ہو سکے۔ملک نے اگرچہ سات فیصد سالانہ کے حساب سے اقتصادی ترقی کا گراف برقرار رکھا مگر ترقی کے یہ ثمرات چند ہاتھوں میں ہی مرتکز ہو گئے۔

نچلی سطح تک بالخصوص دیہی ووٹ بینک تک یہ ثمرات نہیں پہنچ پائے اور نوٹ بندی کے اقدام نے نچلے طبقات کی حالت اور پتلی کر دی۔لہذا حکومت کو پچھلے ایک برس سے یہ لائن اختیار کرنا پڑی کہ جو وعدے پورے نہیں ہو سکے انھیں دو ہزار انیس کے چناؤ کے بعد پورا کیا جائے گا۔

ووٹروں کو متاثر کرنے کے لیے احمد آباد تا ممبئی بلٹ ٹرین اور سردار پٹیل کا دنیا کا سب سے بلند مجسمہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچ گیا مگر اندازے بتا رہے ہیں کہ ووٹ بینک ایسے چمتکاروں سے مطمئن نہیں۔دسمبر میں پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج نے بھی ظاہر کر دیا کہ عام چناؤ میں گذشتہ انتخابات کی طرح کی اکثریت دکھانے کے لیے کچھ بڑا کرنا پڑے گا۔

اگر پلوامہ کے غبارے میں جنگی ہوا نہ بھی بھری جاتی تب بھی بی جے پی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی بن کے ابھر سکتی ہے کیونکہ حزبِ اختلاف کے نفاق اور کسی ایک ٹھوس انتخابی پروگرام پر عدم اتفاق بی جے پی کی انتخابی مدد کے لیے کافی ہے۔مگر صرف سادہ اکثریت سے بی جے پی بھارتی سیکولر آئین کو ایک ہندو راشٹر کے آئین میں نہیں بدل سکتی۔دو تہائی اکثریت ملے گی تب ہی ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں بھی بی جے پی کی اکثریت ہو پائے گی اور تب ہی آئین میں وہ تبدیلیاں کی جا سکیں گی کہ جس کا خواب بی جے پی کے نظریاتی بزرگوں نے بانوے برس پہلے دیکھا تھا۔

لہٰذا جمہوری ڈھانچے کو فاشزم کی سیڑھی بنانے کے لیے فرقہ ورانہ تناؤ اور پاکستان کی قیمت پر جنگی قوم پرستی کو عروج پر پہنچانا بے جے پی کی انتخابی مجبوری ہے۔بھلے یہ حکمت عملی بھارت کے طویل المیعاد جمہوری مستقبل کے لیے کیسی ہی مضر کیوں نہ ہو۔کیا بھارت فاشزم کا مارچ روک سکتا ہے ؟

شاید دیر ہو چکی ہے۔جب تک آنکھیں کھلیں گی تب تک باجہ بج چکا ہو گا۔فاشزم بھلے کسی بھی راستے سے آئے مگر جاتا بربادی کے راستے سے ہی ہے۔لہٰذا اپنی نشست سیدھی کر لیجیے اور بیلٹ باندھ لیجیے۔موسم کی خرابی کے سبب پرواز ناہموار ہونے جا رہی ہے۔بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …