جمعرات , 20 جون 2019

جنگ امن کی ضمانت

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

جنگ بہت بری چیز ہے، اس سے بچنا چاہیئے، جنگ سے شہر برباد ہو جاتے ہیں، راستے ویران ہو جاتے ہیں اور زندگی کی جگہ معاشرے میں موت رقص کرتی ہے۔ وہ ریاستیں جو اپنی عوام کی تربیت جنگ پر کرتی ہیں، انتہا پسندی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جنگ بھوک، پیاس، بربادی اور تباہی لے کر آتی ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ ہائے عظیم میں کروڑوں لوگ قتل ہوئے، ملکوں کے ملک تباہ ہوگئے، اسی لیے آج کے یورپ کا انسان جنگ سے شدید نفرت کرتا ہے۔ حکومتوں کا کیا کیا جائے وہ تو اسلحہ کی فروخت کے بڑھاوے کے لیے دنیا میں تنازعات کو ختم نہیں ہونے دیتیں۔ تنازعات حل کئے جا سکتے ہیں، کوئی تنازع انسانی دانش سے بڑا نہیں ہوتا، لیکن یہ اس وقت ممکن ہے، جب فریقین تنازع ختم کرنا چاہیں اور طاقتور فریق ایسا ہونے بھی نہیں دیں۔

جیسے تھانے والے باہم دست و گریباں پارٹیوں کے درمیان صلح نہیں ہونے دیتے، کیونکہ صلح ہوگئی تو ان کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ بالکل اسی طرح اس دنیا کے کچھ نام نہاد اور خود ساختہ بڑے ہیں، جو تنازعات میں جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا انداز ہے۔ امریکہ بہادر براہ راست حملے کرتا ہے، دنیا بھر میں گروپس بناتا ہے، ان کو تربیت دیتا ہے اور پھر انہیں اپنے مفادات کی خاطر جنگ کی نذر کر دیتا ہے۔ شام، عراق اور افغانستان اس کے شاہد ہیں۔ امریکہ کی ایک اور بات جو اسے منفرد کرتی ہے کہ یہ بڑی ڈھٹائی اپنے ہی بنائے گروپس کو خود ہی ختم کرنے فوج لیے پہنچ جاتا ہے، افغان مجاہدین سے لیکر داعش تک سب کے سب اسی پالیسی کے شکار ہیں۔

مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان وجہ تنازع ہے، یہ حل ہو جائے تو دوسرے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے، مگر امریکی اور روسی اسلحہ بھارت کو فروخت کیا جا رہا ہے اور چائنہ کا اسلحہ ہم خرید رہے ہیں، جن کی اربوں ڈالر کی تجارت اس تنازع سے وابستہ ہو تو وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ یہ تنازع ختم ہو، وہ تو ہر دو کو شہ دیں گے اور اسے انا کا مسئلہ بنا دیں گے۔ جب انڈیا نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان پر حملہ کیا اور اس کے جہاز کشمیر کراس کرکے کے پی کے تک پہنچ گئے تو اس سے پوری پاکستان قوم کو شدید دھچکا لگا۔ لوگ بجا طور پر شدید اور موثر ردعمل کا مطالبہ کرنے لگے، کیونکہ ہر محبت وطن اس حملے کو خود پر بوجھ محسوس کرنے لگا۔ ہماری ائیرفورس نے اس حملے کا فوراً جواب دیا اور چھ مختلف جگہوں پر ٹارگٹ حاصل کرکے بتا دیا کہ ہماری قوت و طاقت کیا ہے؟ اور تم کتنے پانی میں ہو۔؟

بڑے طریقے سے دو جہازوں کو پاکستانی علاقے میں لایا گیا اور پھر ان کو بارود سے اڑا دیا گیا۔ ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا، دو جہازوں کی تباہی اور ایک کمانڈر کی گرفتاری سے پورا انڈین میڈیا جیسے سکتے میں چلا گیا۔ اس سے پہلے تو وہ پاکستان کو بنانا سٹیٹ سمجھ رہے تھے، جیسے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں، ہندوستانی جہاز جائیں گے اور کارروائی کرکے آجائیں گے۔ اس سے انڈیا میں بہت سے لوگوں نے آوازیں اٹھائیں کہ میڈیا کے غلط رول کی وجہ سے فوجی جوانوں کی زندگیوں کو داو پر لگا دیا گیا، جب گرفتار انڈین کمانڈر کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے ہندوستان کے لوگوں نے دیکھیں تو وہ بھی حیران رہ گئے، کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ لوگ جو جنگ جنگ کھیل رہے تھے اور ہر صورت میں جنگ چاہتے تھے، اس ایک جھڑپ کے نتیجے میں آسمان سے زمین پر آئے اور اب صورتحال یہ ہے کہ انڈیا کے ٹویٹر پر کل ٹاپ ٹرینڈ جنگ نہیں امن ہے تھا۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات ایسے تھپڑ کا لگنا بہت ضروری ہو جاتا ہے، جس سے انسان حقیقت پسند بن جاتا ہے۔

انڈیا کے ایک سابق فوجی افسر کی تحریر پڑھ رہا تھا، اس نے لکھا کہ انڈیا کو پاکستان کے خلاف غیر روایتی جنگ لڑنا ہوگی، بارڈر پار کرکے کبھی بھی ان کو شکست نہیں دی جا سکتی، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں، جس سے پاکستان خود مجبور ہو جائے۔ اس حوالے سے اس نے جو خطرناک باتیں لکھیں، ایک یہ سندھ طاس معاہدے کے خلاف عملی اقدامات کیے جائیں، اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ پاکستان کی عوام، حکومت اور ریاستی اداروں پر دباو ڈالے گی کہ انڈیا سے مذاکرات کرو اور نتیجے میں ہم ان سے اپنی باتیں منوائیں گے۔ انڈیا نے پاکستانی چیزوں پر دو سو فیصد ڈیوٹی عائد کی ہے، اس نے تجویز دی ہے، ایسے اقدامات کو بھی بڑھایا جائے، جس سے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ مالی نقصان پہنچے۔ ایک اور بات جو بین السطور تھی کہ پاکستان کے معاشی منصوبوں اور دوست ممالک سے تعلقات کو خراب کیا جائے۔ میدان جنگ میں کامیابی سے مایوس ہو کر پاکستان کے خلاف شاطرانہ چالوں کی بات کی گئی ہے۔ ہمیں اس کا بھی موثر جواب دینا ہوگا۔

اس پورے تنازع میں انڈیا دہشتگردی کے ایشو کو اٹھانے کی بھرپور کوشش کرتا رہا، مگر ہم اس پورے تنازع کی جڑ یعنی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ناکام رہے۔ اہل کشمیر اتنی سختیوں اور تشدد کے باوجود پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ڈٹے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کے مقدمہ کو بھرپور انداز میں اس طرح حکمت عملی سے پیش نہیں کیا، جس طرح اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔ ایک اہم بات یہ بھی نوٹ کی کہ بین الاقوامی میڈیا پر جن پاکستانی صحافیوں کو موقع ملا، وہ بھی ہمارا موقف دینے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے، وہ بھی دہشتگردی کے خلاف ہی بات کرتے رہے۔ یہ موقع تھا کہ انڈیا کی اہل کشمیر کے خلاف دہشتگردی کو عیاں کیا جاتا۔
ہمارے وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے خظاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کل انڈین کمانڈر کو رہا کر رہے ہیں اور یہ امن کی خاطر کر رہے ہیں۔

امن کی بات بہت اچھی بات ہے، مگر جسے جنگ کی خواہش ہو، اس سے بار بار امن کی بات کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ کیا انڈیا کے کسی ایک بڑے سیاستدان نے یہ کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔؟ خدا نخواستہ اگر کوئی پاکستانی جوان انڈیا کی قید میں چلا جاتا تو اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جاتا اور اسے تیسرے دن رہا کر دیا جاتا۔؟ محترم جناب عمران خان صاحب یہ کمانڈر صاحب پاکستان آئس کریم کھانے نہیں آئے تھے، ہمارے بہادر بھائیوں نے جان پر کھیل کے جہاز کو ہٹ کیا اور پھر جان پر کھیل کر اسے گرفتار کیا ہے۔ آپ چند دن صبر کرتے اور تماشہ دیکھتے، ہر روز ایک نیا انٹرویو سوشل میڈیا پر ڈال دیتے اور اسے گھر والوں سے بات کا موقع دیتے اور اس سے انڈیا میں بھی رائے عامہ ہموار کرتے۔ آپ کا یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا اور حکمت سے خالی لگتا ہے۔ دشمن اسے امن کی مخلصانہ پیش کش کی بجائے ہمارے کمزوری سمجھے گا۔ خان صاحب بعض اوقات جنگ امن کی ضمانت ہوتی ہے، بالخصوص اس صورت میں جب آپ کا مدمقابل کسی غلط فہمی میں مبتلا ہو۔

یہ بھی دیکھیں

دس سالوں کی انکوائری

(ظہیر اختر بیدری) ’’نالائق‘‘ وزیر اعظم نیازی نے بیٹھے بیٹھے اشرافیہ کو پریشان کردیا کہ …