جمعرات , 20 جون 2019

پاک بھارت تنازعہ: خیرسگالی کا مثبت اظہار اور سفارتی ٹھوکر

(سید مجاہد علی )

پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق لائن آف کنٹرول کے قریب بدھ کوگرفتارکیے گئے بھارتی پائیلٹ ابھے نندن کو رہا کردیا ہے۔ اس دوران پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ابوظہبی میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔ اب ایک کم تر درجے کا وفد اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کررہا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے او آئی سی کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات سے اس بارے میں بات کی تھی تاکہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مہمان خصوصی کے طور پر بلانے کی دعوت واپس لی جائے کیوں کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرکے سنگین اقدام کیا ہے۔ تاہم پاکستان کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا گیا۔ اس لئے پاکستان کے وزیر خارجہ اس اجلاس میں شرکت کے لئے نہیں گئے۔

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے اس فیصلہ کی حمایت کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے اسے نامناسب فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں دوست ملکوں کودور کرنے کی بجائے ان کے ساتھ روابط بڑھانے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی ضرورت تھی۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان نے ابھے نندن کو رہا کرکے بھارت پر جو سفارتی برتری حاصل کی تھی، شاہ محمود قریشی کی طرف سے او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اسے ضائع کردیا گیا ہے۔

ایک طرف پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ بھارت کو الزام تراشی اور تصادم کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پلوامہ حملہ کے بعد اور پھر اس ہفتہ کے شروع میں لائن آف کنٹرول پر رونما ہونے والے سانحات کے بعد بھی اس بات کو دہرایا ہے کہ پاکستان بات چیت کے ذریعے سب مسائل حل کرنے پر یقین رکھتا ہے کیوں کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ بلکہ پاکستان کی پوزیشن میں اب یہ تبدیلی بھی کی گئی ہے کہ وہ دہشت گردی پر بھی بات چیت کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ منگل اور بدھ کو ہونے والی فضائی جھڑپوں اور اس کے دو مگ طیارے مار گرائے جانے کے واقعہ کے بعد سے بھارت نے فی الحال خاموشی اختیار کی ہے۔

کہا جاسکتا ہے کہ شاہ محمود قریشی اگر ابوظہبی میں ہونے والی او آئی اسی کے وزرائے خارجہ کانفرنس میں شریک ہوتے تو وہ اس سفارتی و اخلاقی برتری کو جاری رکھ سکتے تھے کہ بھارت اگرچہ مذاکرات سے انکار کرتا ہے اور وہ اسلامی تعاون تنظیم کا رکن بھی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے اس کے وزیر خارجہ خود اجلاس میں شریک ہونے آگئے ہیں۔ یہ صورت حال بھارت کے لئے شرمندگی اور خجالت کا سبب بنتی۔ لیکن پاکستان نے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے بھارت کو اس مشکل صورت حال سے بچا لیا ہے۔

دوسری طرف حکومت کی طرف سے شاہ محمود قریشی کو ابوظہبی نہ بھیجنے کا فیصلہ ایک طرف ملک میں بھارت کے خلاف بنی ہوئی فضا میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے تو دوسری طرف بھارتی جارحیت اور پاکستان دشمن پروپیگنڈا کے خلاف پاکستان کا احتجاج رجسٹر کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ (ن) کی طرف اس حکومتی فیصلہ کی تائید کے درپردہ بھی یہی حکمت عملی پوشیدہ ہے۔

تاہم ملک کے سیاست دانوں کو سمجھنا ہو گا کہ عوامی جذبات کو مثبت جانب موڑنا ہی لیڈروں کا کام ہوتا ہے۔ اگر ایک خاص طرح کی فضا میں جذباتی فیصلے کیے جائیں تو اس سے وسیع تر ملکی مفادات کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ اگر پاکستان نے بالآخر بھارت کے ساتھ بیٹھ کر بات ہی کرنی ہے اور یہی حکومت کا مطمح نطر بھی ہے تو او آئی اسی کے اجلاس سے ہی اس کا آغاز کیا جاسکتا تھا۔ بلکہ پاکستانی وزیر خارجہ اجلاس کے دوران ہی سشما سوراج کو یہ دعوت دے سکتے تھے کہ وہ اس کانفرنس کے دوران سائیڈ لائن پر اپنی بھارتی ہم منصب سے بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس کا منفی جواب بھارت کو سفارتی اور اخلاقی لحاظ سے مہنگا پڑتا۔

یوں تو تنازعات حل کروانے، اسلامی ملکوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر مشترکہ سیاسی مؤقف اختیار کرنے میں اسلامی تعاون تنظیم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ فورم دنیا کے تمام مسلمان اکثریت والے ملکوں کا پلیٹ فارم ہے جہاں بعض اوقات ایسی قراردادیں بھی منظور ہوجاتی ہیں جنہیں اسلامی دنیا کی مشترکہ خواہش کا نام دیا جاسکتا ہے۔ گو کہ ان قراردادوں کو منظور کرنے والے ملک بھی اپنی عملی خارجہ پالیسی میں انہیں اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

اس کے باوجود اس فورم کی اس قدر اہمیت ضرور ہے کہ بھارت اپنی بڑی مسلم اقلیت کی بنیاد پر اس تنظیم کی رکنیت کا دعویدار رہا ہے۔ پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے اسے ابھی تک او آئی سی کی رکنیت یا اس میں مبصر کادرجہ نہیں مل سکا۔ اگرچہ سشما سوراج کو او آئی سی وزرائے خارجہ کے 46 ویں اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر ہی مدعو کیا گیا ہے اور بھارت کا اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ کوئی باقاعدہ تعلق نہیں۔ تاہم سشما سوراج اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کا مقدمہ زیادہ شدت سے پیش کرسکیں گی۔ بلکہ ان کا بلایا جانا بجائے خود اس بات کا اشارہ ہے کہ او آئی سی کے بعض طاقت ور ارکان بھارت کو اس ادارے کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بھارت اس فورم کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اس پس منظر میں بھی پاکستانی وزیر خارجہ کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس موقع پر خود بھی موجود ہوتے تاکہ سشما سوراج کی سفارتی کوششوں یا پاکستان کے بارے میں جھوٹ کی قلعی کھول سکتے۔ لیکن جب اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس سے پاکستان نے خود ہی یہ موقع ضائع کردیا۔ اس کے ساتھ ہی ابوظہبی حکومت کے علاوہ سشما سوراج کو مدعو کرنے کا فیصلہ کروانے والے دیگر طاقت ور ارکان کو بھی خفیف کیا۔ پاکستان کو اس وقت وسیع تر عالمی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کے ساتھ جاری تصادم کی صورت حال میں دوستوں کے ساتھ فاصلے پیدا کرنے والا کوئی اقدام بھی نامناسب اور غلط ہی کہلائے گا۔

پلوامہ سانحہ سے ذرا پہلے جب ابوظہبی کے ولی عہد کی طرف سے سشما سوراج کو مہمان خصوصی کے طور پر او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا تو پاکستان نے کوئی سرکاری پوزیشن اختیار نہیں کی تھی۔ بلکہ اخبارات میں یہ رپورٹیں بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ ا س موقع پر شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی دو بدو ملاقات کا امکان موجود ہے۔ اس لحاظ سے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان یہ توقع کررہا تھا کہ بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطہ اور مذاکرات کے لئے کوئی بریک تھرو حاصل کیا جائے۔

یہ خواہش و کوشش کسی لحاظ سے نامناسب نہیں تھی۔ تاہم اس ہفتہ کے دوران لائن آف کنٹرول پر ہونے والی کارورائیوں کے بعد اس کانفرنس میں شرکت سے انکار پرانی حکمت عملی کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ اگر پاکستان سشما سوراج کو دعوت دینے کے فوری بعد اپنی مخالفت کا اظہار کرتا اور واضح کیا جاتا کہ بھارتی وزیر خارجہ کو بلایا گیا تو پاکستان اجلاس میں نہیں آئے گا تو اس وقت شاہ محمود قریشی کے دلائل کو قبول کرنا آسان ہوتا۔ تاہم چند ہفتے قبل اختیار کی گئی پوزیشن کو تصادم و تنازعہ کی صورت میں تبدیل کرنے کا یہی مطلب لیا جائے گا کہ پاکستان، بھارتی نمائیندوں کے دلائل کا سامنا کرنے سے کترا رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تصادم کی صورت میں بظاہر کمی آئی ہے۔ امریکہ سمیت متعدد ممالک نے دونوں ملکوں سے روابط کیے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رابطوں کے نتیجہ میں مثبت پیش رفت کی خبر بھی دی ہے۔ تاہم تصادم کو ٹالنے کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ تنازعہ حل ہو گیا ہے یا پاکستان کی طرف سے بات چیت کی پیش کش کو مان لیا گیا ہے۔ صورت حال اب بھی اتنی کشیدہ ہے کہ پاکستان نے ابھی تک اپنی ائیر سپیس کو مکمل طور سے انٹرنیشنل پروازوں کے لئے نہیں کھولا ہے۔

ابھے نندن کی واپسی جیسے اہم اور فوری اظہار خیر سگالی کے باوجود بھارت نے پر اسرار خاموشی اختیار کی ہے۔ سرکاری طور ابھی تک نہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی رائے دی گئی ہے اور نہ ہی پاکستان پر الزام تراشی میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس لئے نہایت احتیاط کے ساتھ یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ جذبات پر معقولیت حاوی ہوگی اور بھارت کوئی نیا ایسا اقدام نہیں کرے گا جو ایک نئے تنازعہ اور تصادم کا سبب بن جائے۔

پاکستان اور بھارت کسی صورت عسکری تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے لیکن دونوں جانب ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں ہے جو جنگ ہی کو تمام مسائل کا واحد حل سمجھتے ہیں اور اپنے تئیں یہ گمان رکھتے ہیں کہ ان کی افواج ’دشمن‘ کو ایک ہی ہلے میں زیر کرلیں گی۔ یہ رویہ اختیار کرنے والوں کو یہ بتانے سے مسلسل گریز کیا جاتا ہے کہ جنگ صرف تباہی کا نام ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی قسم کی جنگ دونوں ملکوں کی معیشت کے لئے ہلاکت خیز ہوگی۔

پاکستان کو بطور خاص اس ہفتہ حاصل ہونے والی سفارتی اور اخلاقی برتری کے زعم میں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بھارت بڑی آبادی اور کثیروسائل کا حامل ملک ہے۔ دنیا بھر کے ممالک ا س کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ پاکستان کو ہر فورم اور ہر موقع کو یہ بات واضح کرنے کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بھارت کا دشمن نہیں ہے اور اس پر عائدکیے جانے والے الزامات درست نہیں۔ اس حوالے سے ابوظہبی کے اجلاس میں شرکت سے انکار دراصل پاکستان کے مفاد کے برعکس فیصلہ ہے۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

دس سالوں کی انکوائری

(ظہیر اختر بیدری) ’’نالائق‘‘ وزیر اعظم نیازی نے بیٹھے بیٹھے اشرافیہ کو پریشان کردیا کہ …