منگل , 25 جون 2019

شناخت کا مسئلہ

(تحریر: ثاقب اکبر)

ہم علم شناخت یا علم المعرفہ کی بات نہیں کرنے لگے۔ ان سطور میں ہم انسانوں کی اپنی شناخت کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔ اس مسئلے نے انسانوں کو بہت سی فکری اور عملی الجنھوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ شعوری، لاشعوری اور نفسیاتی پہلو سے شناخت کا مسئلہ انسانوں کو اکثر گھیرے رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر کبھی مشرق و مغرب میں بسنے کے حوالے سے ہم اپنی شناخت کرواتے ہیں، کبھی کسی براعظم کی مناسبت سے تو کبھی ہم کسی ملک کے شہری بن جاتے ہیں۔ کبھی زبان ہماری شناخت کا حوالہ بنتی ہے۔ یہاں تک کہ کبھی شکل، صورت، ناک، ماتھے اور آنکھوں کے فرق سے ہم پہچانے جا رہے ہوتے ہیں۔ مذہب اور دین کی تقسیم بھی انسانوں کو تقسیم کر دیتی ہے۔ مسلکوں، فرقوں اور مشربوں نے بھی ہمیں بانٹ رکھا ہے۔ ہم تقسیم ہونے پر آتے ہیں تو لباسوں، ٹوپیوں، پگڑیوں، پتلونوں اور شلواروں کے حوالے بھی ہمیں تقسیم کر دیتے ہیں۔

یہ تقسیم کبھی پہچان سے بڑھ کر، آفت بن جاتی ہے۔ یہی تقسیم لڑائی، جھگڑے اور جنگ کی طرف لے جاتی ہے۔ ملکوں اور براعظموں کے مابین شناخت کا فرق، جنگوں کا باعث بن جاتا ہے۔ شناخت ہی کے حوالے ہمیں جوڑتے بھی ہیں اور پناہ بھی دیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انسانی عقل و خرد کا فیصلہ کیا ہے اور سلامتی کا راستہ کونسا ہے۔ کبھی انسان ہونے کا حوالہ بڑا طاقتور ہو جاتا ہے اور باقی ہر طرح کی تقسیم پیچھے رہ جاتی ہے۔ سعدی کہتے ہیں:
بنی آدم اعضای یکدیگرند
کہ در آفرینش زیک گوہرند
چو عضوی بہ درد آورد روزگار
دگر عضوھا را نماند قرار
تو کز محنت دیگر ان بی غمی
نشاید کہ نامت نھند آدمی
بنی آدم ایک دوسرے کے لیے ایک جسم کے مختلف اعضاء کے مانند ہیں، کیونکہ سب ایک گوہر سے پیدا ہوئے ہیں، جب جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کے دیگر حصے بھی چین نہیں پاتے، اگر تم دوسروں کی تکلیف سے بے غم ہو اور اس کا تمھیں احساس نہیں تو پھر شاید تمھارا نام آدمی نہ رکھا جاسکے۔

سعدی دراصل اپنی آزاد فطرت اور دینی متون سے حاصل کردہ فہم و فراست کے زیر اثر یہ بات کر رہے ہیں، کیونکہ قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے: "یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُو ا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُم مِّن نَّفسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِن ھَا زَو جَھَا وَ بَثَّ مِن ھُمَا رِجَالًا کَثِی رًا وَّ نِسَآئً”(نساء:۱) اے انسانو! اپنے پروردگار کا تقویٰ اختیار کرو، جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اس سے پھر اس کا جوڑا بھی پیدا کیا اور پھر ان دونوں کو ملا کر بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں (اس زمین پر) پھیلا دیں۔ رسول اسلام کا حجة الوداع کے موقع پر شہرہ آفاق خطبہ، اسلام کی اسی اساسی تعلیم کا عکاس ہے جس میں آپ نے فرمایا: "لوگو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ بھی ایک ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ رنگ والے کو کسی سیاہ رنگ والے پر اور سیاہ رنگ والے کو کسی سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ۔” جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "اِِنَّ اَکرَمَکُم عِندَ اللّٰہِ اَتقٰکُم ±(حجرات:۳۱) (سلسلہ احادیث صحیحہ، البانی، رقم ۰۰۷۲)

البتہ ایک تقسیم، ہمیں دینی متون میں ضرور دکھائی دیتی ہے اور وہ ہے ظالم و مظلوم کی تقسیم۔ انبیاء کی پوری تاریخ اس پر شاہد ہے کہ وہ مظلوموں کو ظالم کے شکنجے سے نجات دلانے کے لیے برسرپیکار رہے۔ الٰہی سلسلہ ہدایت کے آخری علمبردار امام مہدیؑ کے بارے میں یہی فرمایا گیا ہے کہ دنیا جیسے ظلم و جور سے بھری ہوگی، وہ اسے اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ یہاں ایک اور تقسیم کا بھی ذکر کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے امیر و غریب کی تقسیم۔ اشتراکیت کی تحریک نے اس تقسیم پر خاصا زور دیا تھا اور غریبوں کو امیروں سے لڑانے کے فلسفے اور فکر کی ترویج کی تھی، لیکن انبیاء کی دعوت امیر و غریب دونوں کے لیے ہوتی ہے، چونکہ اس کا امکان ہوتا ہے کہ امیر کے دل میں غریب کی محبت پیدا ہو جائے اور قرآن حکیم ہمیں بتاتا ہے کہ بعض مستضعفین شکایت کریں گے کہ ہمیں تو مستکبرین نے اس رستے پر لگایا۔ "فَقَالَ الضُّعَفٰٓو الِلَّذِینَ استَکبَرُوا اِنَّاکُنَّا لَکُم تَبَعًا فَھَل اَنتُم مُّغنُونَ عَنَّا مِن عَذَابِ اللّٰہِ مِن شَیئٍ”(ابراہیم:۱۲)

کمزور لوگ مستکبروں اور وڈیروں سے کہنے لگے، ہم تو تمھاری پیروی کرتے تھے تو کیا تم آج اللہ کے عذاب سے ہمیں کچھ بچا سکتے ہو؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب اور فقیر لوگ بھی بعض اوقات حق کو نظر انداز کرکے ظالموں اور مستکبروں کا ساتھ دینے لگتے ہیں، یہ سوچ کر کہ ہمارا مفاد ان سے وابستہ ہے۔

تاہم بدقسمتی سے کچھ چیزیں جن کی حیثیت صرف پہچان کی ہے اور ان سے کوئی انسانی فضیلت وابستہ نہیں ہے اور ایسی شناختیں ہیں، جن پر انسان کا اختیار بھی نہیں ہے، انہیں آویزش اور معرکہ آرائی کی بنیاد بنا لیا جاتا ہے۔ رنگ و نسل کی تفریق، علاقے اور جغرافیے سے تعلق کی بنا پر تفریق، زبان اور لہجے کی تفریق کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سے کسی فرق پر انسان کا اپنا اختیار نہیں ہے، لہٰذا اسے ہرگز تفوق یا کسی کی پستی کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے حوالے سے احساس برتری یا احساس کمتری بھی نامعقول ہے۔ بعض تقسیمیں ایسی ہیں، جو انسانوں کی خود ساختہ ہیں، جو تاریخی آویزشوں کا نتیجہ ہیں یا جغرافیائی اختلافات کا۔ اس وقت اس گلوب کا ایک سو اسی سے زیادہ ممالک میں تقسیم ہونا اس کی ایک مثال ہے۔ اگر اس کی کوئی معقول توجیہ ہو بھی تو اس کی بنیاد پر ایک ملک کے شہریوں کا دوسرے ملک کے شہریوں سے نفرت کرنا معقول نہیں ہوسکتا، لیکن کیا کیا جائے، بعض لوگوں کا اقتدار اور بعض کا روزگار انسانوں کے مابین جنگ و جدال سے ہی وابستہ ہے۔ کسی کو اپنے اقتدار کی خاطر ملکوں اور قوموں کو آپس میں لڑانا ہے تو کسی کو اسلحہ بیچنے کے لیے جنگ کی بھٹی کو گرم کرنا ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ تقسیم کہیں رکتی ہی نہیں، یہاں تک کہ مشرق و مغرب سے چلتی چلتی ایک ملک کے اندر پہنچ جاتی ہے پھر قوم قومیتوں میں بٹ جاتی ہے، قومیت خاندانوں اور قبیلوں میں اور پھر آگے یہ تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں ہم نے مذہب کے نام پر ایسی تقسیم دیکھی، جو آخرکار پاکستان کے مفادات کے نقصان پر منتج ہوسکتی تھی۔ یہ بھی کیا کم ہے کہ پاکستان دنیا کے ایک سو اسی سے زیادہ ملکوں میں سے ایک ہے۔ اتنی تقسیم کے بعد پاکستان ایک اکائی بنتی ہے۔ اسے بھی اگر شیعہ، سنی یا کسی اور بنیاد پر تقسیم کر لیا جائے تو سوچنے کی بات ہے کہ اس کا ضرر کہاں تک پہنچتا ہے۔ گذشتہ دنوں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایک گروہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان نے جو جنگیں لڑی ہیں، ان کے اثرات بد سے ابھی تک ہمارا معاشرہ نبردآزما ہے۔ اس کے تعاون نے جو گھاؤ دیئے، وہ ابھی تک بھرے نہیں، کہیں ایسا نہ ہو اس کا نئے سرے سے تعاون ہمیں پھر کسی مشکل میں الجھا دے۔ سعودی عرب اور پاکستان اگر معاشی حوالے سے ایک دوسرے سے تعاون کریں اور کوئی دوسری شرط اس کے ساتھ جڑی ہوئی نہ ہو، جو پاکستان اور اس کے معاشرے کو کسی اور نئی مشکل میں الجھا دے تو پھر کسی کو اعتراض نہ تھا، لیکن بات بڑھتے بڑھتے کہاں تک پہنچی! اس سے معاشرے کے ایک طبقے میں ایسی افراط و تفریط پیدا ہوگئی کہ جس کا سایہ حکومتی فیصلوں پر بھی دکھائی دیا۔ دوسری مثال جو شاید اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے، وہ ہے پاکستان کے قابل فخر ہیرو حسن صدیقی کے بھارتی جنگی طیارے کو مار گرانے کے بعد مختلف گروہوں کی کیپٹن حسن صدیقی پر اجارہ داری کی مہم! کاش اسے ایک پاکستانی ہیرو رہنے دیا جائے اور فرقوں میں نہ بانٹا جائے۔ اتنی تقسیم اور اسی شناخت پر ہی قناعت کر لی جائے۔

یہ بھی دیکھیں

صدی معاہدہ یا تباہی کا معاہدہ

(بقلم عادل فراز) ڈیل آف سینچری یعنی ’صدی معاہدہ‘ کو عملی شکل دینے کے لئے …