اتوار , 8 دسمبر 2019

جنگ اور سفارتکاری میں پاکستان کی فتح

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)

2014ء میں کنٹینر پر کھڑے عمران خان سے متعلق یہی کہا جا رہا تھا کہ یہ لیگی حکومت کو دباؤ میں رکھنے کیلئے محکمہ زراعت کا پریشر ککر ہے، جس کے ذریعے اگر حکومت گر بھی جائے تو اسٹیبلشمنٹ پل میں تولہ اور پلہ میں ماشہ کے موافق کھلاڑی کو پاکستان کا کپتان نہیں بننے دیگی۔ لیکن بالکل سیدھے سادے لفظوں میں پاکستانی عوام، میڈیا، عالمی برادری اور بھارت سرکار کو مخاطب کرنیوالے وزیراعظم کی باتیں سن کر کسی کو یقین نہیں آ رہا کہ عمران خان کنٹینر سے اتر چکے ہیں۔ پاکستان میں انکی مختصر تقریر کا موازنہ ایوب کے معروف اعلان جنگ سے بھی کیا جا رہا ہے اور وہ عالمی سطح پر ایک بڑے لیڈر کے طور پر بھی متعارف ہو چکے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے ماحول میں ان کے اعصاب مکمل طور پر برقرار ہیں، کوئی جھول نہیں، نہ چہرے پہ متانت کے آثار میں کمی آئی ہے، مختصر اور دوٹوک موقف نے ہر ایک کو حیران کر دیا ہے، کسی کے ذہن میں کسی سابق حکمران کا خیال تک نہیں، وہ اچھے انداز میں ملک کو بحران سے بچانے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

بھات طیاروں کو مبینہ دراندازی کے بعد پاکستان ائیرفورس کے لڑاکا طیاروں نے مقبوضہ کشمیر میں کامیاب آپریشن کیا پھر بھارتی ہوا باز گرفتار ہو گیا۔ پاکستان کی پوزیشن مزید بہتر ہوگئی۔ مذاکرات اور تحقیقات کی پیشکش کر کے ایک بار پھر وزیراعظم نے عالمی برادری کے سامنے ثابت کر دیا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا۔ اب جبکہ بھارت الزامات کے سوا کوئی ٹھوس شاہد سامنے نہیں لا سکا، پاکستان کے پاس بھارتی طیارہ اور پائلٹ ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم عمران خان نے امن کی خاطر بھارتی پائلٹ کو کل رہا کرنے کا اعلان بھی کردیا، ساتھ یہ بھی واضح کر دیا کہ بھارت اس سے زیادہ کشیدگی کو آگے نہ بڑھائے اور کشیدگی کم کرنے اور امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی کسی لیت و لعل کے بغیر حکومت اور فوج کی آواز میں آواز ملائی اور دشمن کو للکارا، ساتھ ہی کشمیر پہ پاکستانی موقف کو بھی اجاگر کیا، نہ ہی کمزوری ظاہر ہونے دی، نہ دشنام طرازی کی۔ آج پوری قوم یکجان اور ہم آواز ہے۔

اسی لیے حالات کی سختی اور سنگین چیلنج کے باوجود اپوزیشن کو چور اور ڈاکو کہنے والے وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا شکر گزار ہوں، خراج تحسین پیش کرتا ہوں، حکومت اور اپوزیشن سمیت قوم متحد ہے، خراج تحسین پیش کرتا ہوں، یہ الفاظ وزیراعظم نے دہرائے تاکہ دوست و دشمن یہ یقین کر لیں کہ پارلیمنٹ ایک صفحے پر ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 26 جولائی کو جب وزیراعظم نہیں بنا تھا، اس وقت ایک بیان دیا تھا، بھارت دوستی کی طرف ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے، میرے بیان دینے کی ایک وجہ تھی، ایشیاء میں غربت ہے، اس لیےاس قسم کا بیان دیا تھا، چین نے اپنے لوگوں کو غربت سے نکالا، امریکا جب دہشت گردی کیخلاف جنگ پر پیسہ لگا رہا تھا، چین نے اپنے لوگوں پر پیسہ لگایا، 26 جولائی کو ہی بھارت کو امن اور مذاکرات کی پیشکش کی، مودی کو اقوام متحدہ میں ملاقات کیلئےخط بھی لکھا، مودی کو لکھے گئے خط کا جواب مثبت نہیں آیا، اس کی وجہ بھارتی الیکشن تھے، ہم نے سوچا بھارت میں الیکشن ہوجائیں، اس کے بعد بات آگے بڑھائیں گے۔

وزرات عظمیٰ ملنے کے بعد حکومتی اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کرتاپور راہداری کھول کر بھارت کو پھر مثبت پیغام دیا، کرتارپور راہداری کھولنے کے باوجود بھارت سے منفی بیانات آرہے تھے، ہمیں خوف تھا بھارت کی جانب سے کوئی ڈرامہ رچایا جائےگا، اس دوران پلواما کا واقعہ ہوگیا، آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ پاکستان پر الزام لگا دیا گیا، پلواما واقعے کا وقت دیکھیے، پاکستان میں کتنے اہم اقدامات ہورہے تھے، پلواما واقعے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو سکتا تھا؟ بھارت کو آفر کی، آپ ثبوت دیں ہم کارروائی کریں گے، تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر دستخط کیے ہوئے ہیں، یہ نہیں کہتا پلواما واقعہ بھارت نے کرایا، یہ بتائیں ہمیں اس سے کیا فائدہ؟ بدقسمتی سے بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے جنگی جنون بڑھایا۔ یہی حقیقت بھارت کے اندر سے اٹھنے والی صداؤں میں بھی گونج رہی ہے۔ کیونکہ پلوامہ دھماکہ کے بعد بھارت کے بیشتر رہنماؤں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مودی سرکار الیکشن میں ووٹ بنک بڑھانے کیلئے وحشت کا کھیل کھیل رہی ہے، وقت آنے پہ یہ پول مکمل طور پر کھل جائیگا۔

پلوامہ واقعہ کے بعد وار ہسٹیریا میں مبتلا بھارتی میڈیا نے زمین آسمان ایک کر دیا، جھوٹ پہ جھوٹ بول کے پاکستان کیخلاف بغیر کسی ثبوت کے محاذ جنگ کھول دیا، لیکن پاکستانی میڈیا نے ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور مثبت تجزیات پیش کیے، جس سے پاکستان حکومت کو اپنا کیس مضبوط بنانے میں آسانی ہوئی، جس کی طرف آئی ایس پی آر کے ترجمان بھی اشارہ کیا۔ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران وزیراعظم نے مثبت رپورٹنگ پر پاکستان میڈیا کو خراج تحسین پیش کیا، ساتھ یہ بھی کہا کہ افسوس ہے بھارت میں جس طرح جنگی جنون تھا، مجھے شک تھا کچھ نہ کچھ ہوگا، بھارت کو کہا آپ ہمیں ثبوت دیں ہم کارروائی کیلئے تیار ہیں، لیکن بھارت نے ابھی ڈوزیئر بھیجا ہے، لیکن 2 دن پہلے دراندازی کی، بھارت ہمیں پہلے ڈوزیئر نہیں دے سکتا تھا، دراندازی کرنے کے 2 دن بعد ڈوزیئر دیئے جارہے ہیں، پہلی مرتبہ ایک چانس ہے کہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن آئے، اسی لیے بھارت نے رات کو پاکستان میں دراندازی کی۔ لیکن پاکستان نے فوری طور پر اسکا ردعمل نہیں دیا بلکہ صلاح مشورہ کیا۔

پاکستان نے پہلی دراندازی پر ذمہ دار ریاست بن کرہم نے ایکشن نہیں لیا، اگلے دن جواب صرف اس لیے دیا کہ ہم بھی کرسکتے ہیں، اگلے دن جواب دیا تو 2 بھارتی طیاروں نے پھر دراندازی کی، جس وزیراعظم نے اسی شام نریندر مودی سے بات کرنے کی کوشش کی، ہماری فوج نے دہشت گردی کےخلاف پر عزم جنگ لڑی ہے، پوری قوم اس وقت متفق ہے، پاکستان نہ بھارت کے مفاد میں ہے کہ کشیدگی آگے بڑھے، سب کی کوشش یہ ہے کہ دونوں ممالک میں کشیدگی میں کمی آئے۔ پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران ایک اہم نکتے کی طرف وزیراعظم نے ڈٹ کر بیان دیا کہ کشیدگی کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر ہے، گزشتہ 4 سال میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کی، مقبوضہ کشمیر میں تحریک مزید مضبوط ہوگئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں اب کوئی بھی کشمیری لیڈر بھارت کیساتھ نہیں رہنا چاہتا، کوئی بھی کشمیری اس وقت آزادی کے علاوہ اور کچھ سننے کیلئے تیار نہیں، بھارت نے فوری پاکستان پر انگلی اٹھائی، بھارت کو یہ پوچھنا چاہیے کہ 19 سال کے نوجوان نے ایسا کیوں کیا، کیا بھارت اب تک مقبوضہ کشمیر میں کامیاب نہیں ہوا، کیا آگے کامیاب ہوگا، بھارت میں اس وقت مقبوضہ کشمیر پر بحث کی ضرورت ہے۔

یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پوری دنیا جنگ کی مخالفت کر رہی ہے، پھر ایٹمی طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان جنگ تو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی تباہی کا سامان ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ جنگ ذرا بھی وسعت اور طوالت اختیار کرتی ہے تو اسکا ذمہ دار بھارت ہوگا، پاکستان کے اقدامات نے یہ ثابت کر دیا ہے۔ اسی لیے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھی کہا کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ خودکش حملے تامل ٹائیگرز نے کیے تھے، بھارت کی موجودہ حکومت جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے، اچھی طرح جانتا ہوں بھارت میں بھی لوگ جنگی ماحول نہیں چاہتے، پاکستان اور بھارت کے پاس اہم ہتھیار ہیں، جنگ کا سوچنا بھی نہیں چاہیے، مجھے ڈر ہے کہ کوئی غلط اندازے نہ لگا بیٹھے، غلط اندازوں سے دنیا تباہ ہوجائے گی، دنیا کی بڑی فوج افغانستان میں کئی سال تک لڑی، پھر بھی مذاکرات پر آئے، پاکستان بھارت کو نیوکلیئر بلیک میل کیوں کرے گا؟ بھارت نے اب کچھ کیا تو دفاع میں ہم بھی جواب دیں گے۔

اسوقت جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں لیکن پوری قوم پرعزم ہے، پاکستان امن چاہتا ہے، چاہتے ہیں خطہ ترقی کرے اور غربت کا خاتمہ ہو، اس قسم کی کشیدگی نہ پاکستان کو فائدہ دیتی ہے نہ بھارت کو فائدہ دیتی ہے، کشیدگی کم کرنے اور امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ جیسا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کا ہیرو ٹیپو سلطان ہے، جنگ کوئی نہیں جیت سکتا، انسانیت کی شکست ہوتی ہے، کسی بھی قوم کو پیچھے کی طرف دھکیلیں گے تو غیرت مند قوم آزادی کے لئے لڑے گی، ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان کی فوج کس جگہ پر کس تیاری سے کھڑی ہے، یہ بھی معلوم ہے کل رات بھارت نے میزائل حملے کا منصوبہ بنایا تھا، میزائل حملے کا منصوبہ بعد میں بھارت نے کینسل کیا، دونوں ممالک کے پاس کیسی طاقت ہے، ہمیں اس کا معلوم ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے امن کی خاطر بھارتی پائلٹ کو کل رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اس سے زیادہ کشیدگی کو آگےنہ بڑھائے۔ ان حالات میں ترک صدر، ایرانی حکام اور عرب ممالک نے بھی اسی کا مطالبہ کیا، امریکہ، چین اور مغربی ممالک بھی جنگ کی بجائے بات چیت پر زور دے رہے ہیں۔ دنیا کیلئے یہ بہتر ہے، بال اب بھارت کی کورٹ میں، خدا بہتر کرے، انسان کو انسان رہنے دے، تشدد حیوانیت کی بدترین شکل ہے لیکن حق کیلئے لڑنا نہ صرف ضروری بلکہ انسانی فضیلیت ہے، جسکی تیاری کا حکم ہے، پاکستان اس کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟

خرم حسین خاموشی کو شاید ہی پہلے اتنا زیادہ شور مچاتے دیکھا ہے۔ ایک ایسی …