ہفتہ , 21 ستمبر 2019

جیرڈ کشنر کی جانب سے فلسطین اتھارٹی کو خریدنے کی کوشش

(تحریر: علی احمدی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر اس ہفتے مغربی ایشیائی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد امریکہ کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پیش کئے گئے نئے معاہدے "سینچری ڈیل” کو عملی جامہ پہنانے کے مقدمات فراہم کرنا ہے۔ یاد رہے فلسطین اتھارٹی اور اردن جیسے بعض عرب ممالک نے اس راہ حل کی مخالفت کی ہے۔ لہذا اب جیرڈ کشنر سینچری ڈیل کے مخالفین کو پیسے کے ذریعے خریدنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ پیسہ انہوں نے خود خرچ نہیں کرنا بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مقبوضہ فلسطین اور اسرائیل کی ہمسایہ چند عرب ریاستوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کیلئے راضی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مغربی تجزیہ کاروں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سینچری ڈیل کے مخالف عرب ممالک اور فلسطین اتھارٹی اس سودے بازی کو قبول کر لیں گے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اعلان کیا ہے کہ جیرڈ کشنر کا حالیہ دورہ سینچری ڈیل منصوبے کے تحت انجام پا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر گذشتہ دو برس سے اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ سرمایہ کاری اور معیشتی پیکجز کا مقصد فریقین کو ایکدوسرے کو مزید مراعات دینے پر تیار کرنا ہے۔ جیرڈ کشنر نے اسکائی نیوز عربی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "ہم جس حقیقت تک پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ جنگ صرف افراد سے تجارت اور زندگی کو بہتر بنانے کے مواقع چھین لیتی ہے۔ ہمیں امید ہے اگر اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو فلسطینی عوام، اسرائیلی شہریوں اور پورے خطے کی عوام کیلئے بہت سارے مواقع پیدا ہو جائیں گے۔” ابھی تک وائٹ ہاوس نے اس معیشتی پیکج کی تفصیلات شائع نہیں کیں لیکن بعض آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیکج مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں تقریباً 25 ارب ڈالر اور مصر، اردن اور شاید لبنان میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔

یاد رہے امریکہ کی جانب سے "سینچری ڈیل” نامی مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پیش کردہ منصوبہ خطے میں بہت زیادہ قیاس آرائیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ جیرڈ کشنر نے اسکائی نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں نئے الیکشن کے انعقاد کے بعد اس منصوبے کو منظرعام پر لایا جائے گا۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس منصوبے میں فلسطین کی خودمختار ریاست کے قیام کے بارے میں بھی کچھ موجود ہے؟ خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہ دیا۔ جیرڈ کشنر نے مزید کہا: "یہ ایک انتہائی بڑا سیاسی منصوبہ ہے جس کے تحت سرحدوں کا تعین کیا جائے گا اور حتمی صورتحال واضح کی جائے گی۔ سرحدوں سے مربوط تنازعات کو حل کرنے کا یہ مقصد ہے کہ یہ سرحدیں ختم کر دی جائیں۔ اگر سرحدیں ختم کر دی جائیں تو امن برقرار ہو جائے گا اور دہشت گردانہ اقدامات کا خوف بھی کم ہو جائے گا۔ ہم تجارتی سامان اور افراد کی آزادانہ آمدورفت کی امید رکھتے ہیں تاکہ زیادہ مواقع پیدا کئے جا سکیں۔”

اخبار نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ اگر "سرحدوں کے خاتمے” سے جیرڈ کشنر کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی خودمختار ریاست قائم کرنے کے قابل نہیں رہیں گے تو یہ غیر حقیقی تصور ہے کیونکہ ایسا سوچنا درست نہیں کہ فلسطینی معیشت اور سرمایہ کاری کے بدلے اپنے قومی اہداف سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔ اسی طرح مشرق وسطی امن مذاکرات کیلئے سابق امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے مارٹن انڈیک کہتے ہیں: "اس منصوبے کیلئے حمایت حاصل کرنا بہت مشکل ہے چاہے وہ سیاسی میدان میں ہو یا اقتصادی میدان میں۔ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ ہم آپ کو 65 ارب ڈالر دیں گے تاکہ آپ فلسطینی عوام اور عرب ممالک اپنے اس سیاسی مطالبے سے دستبردار ہو جائیں کہ 1967ء کی سرحدوں کو بحال کرتے ہوئے بیت المقدس کی مرکزیت میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے تو یہ میری نظر میں نامعقول ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ غلط مفروضوں پر استوار ہے۔”

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …