منگل , 25 جون 2019

فروری : مہنگائی کی شرح میں 8.2 فیصد اضافہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سالانہ کے اعتبار سے روپے کی قدر میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث رواں سال فروری میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر کے مقابلے میں مہنگائی 4 سال کی بلند ترین سطح عبور کر کے 6.78 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔

بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑے شہروں میں تازہ پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں خاصہ اضافہ دیکھنے میں آیا جب کے گزشتہ برس جولائی سے فروری تک کے عرصے میں مہنگائی میں اوسطاً 6.46 فیصد اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ حکومت نے مالی سال 19-2018 کے لیے مہنگائی میں 6 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا تھا لیکن فروری میں ہی مہنگائی مذکورہ سطح عبور کرچکی جبکہ مالی سال 2018 میں مہنگائی کی اوسط شرح 3.92 فیصد اور 2017 میں 4.16 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بھی مانیٹری پالیسی سخت کردی جبکہ مرکزی بینک گزشتہ برس جنوری سے اب تک شرح سود میں بھی 4.50 فیصد کا اضافہ کرچکا ہے۔اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے 31 جنوری کو ریٹ میں 25 پوائنٹ اضافے کے بعد شرح سود بھی 6 سال کی بلند ترین سطح یعنی 10.25 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

تاہم مہنگائی کو اس حد تک پہنچانے میں خوراک اور توانائی کو چھوڑ کر دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے سب سے بڑا کردار ادا کیا جس کے لیے کور انفلیشن کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور عام طور پر معیشت پر طلب کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔چنانچہ خوراک اور توانائی کے قیمتوں کو علیحدہ کر کے کور انفلیشن کی سطح 8.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جو مانیٹری پالیسی میں سختی کے باوجود گزشتہ چند ماہ سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔

یوں رواں برس فروری میں اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں سالانہ کے اعتبار سے 4.5 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے تحت جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں 0.35 فیصد اضافہ ہوا جبکہ خشک خوراک کی قیمت 10.4 فیصد کمی ہوئی۔

اس طرح فروری میں جن اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں ٹماٹر (150 فیصد)، سبز مرچ (37.43 فیصد)، انار (11.24 فیصد)، مرغی کا گوشت (4.17 فیصد)، مچھلی (2.02 فیصد)، گندم (1.43 فیصد)، بکرے کا گوشت (0.72 فیصد)، ملکہ مسور (0.60 فیصد) اور گائے کا گوشت (0.57 فیصد) شامل ہے۔

دوسری جانب خوراک کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ رہا اور شعبہ تعلیم میں 11.61 فیصد، کپڑوں اور جوتے کی قیمتوں میں 6.95 فیصد، بنیادی ضرورت کی اشیا مثلاً گیس، بجلی پانی کی قیمتوں میں اس عرصے کے دوران 8.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

بجلی کی قیمتوں میں 22 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق واپڈا کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے ایندھن کی قیمتوں میں …