پیر , 17 جون 2019

ٹرمپ کے خلاف مقدمہ

(ظہیر اختر بیدری)

امریکا کی 16 ریاستوں نے ایمرجنسی کے نفاذ پر امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائرکردیا ہے۔ مقدمہ عوام کی دولت کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے پر دائرکیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے خلاف ملک گیر مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔

ٹرمپ میکسیکوکی سرحد پر ’’حفاظتی‘‘ دیوار قائم کرنا چاہتے ہیں، دیوارکی تعمیر پر مرضی کے مطابق فنڈز نہ ملنے کی وجہ ٹرمپ نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔ 16 ریاستوں کی طرف سے ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے فرمایا ہے کہ آئین کا سہارا لے کر مجھے برطرف کرانا غداری کے مترادف ہوگا ۔

ریاست کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں صدر ٹرمپ کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرکے سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے خلاف حکم امتناعی کی درخواست دائرکی ہے۔ اس حوالے سے ریاست کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل نے میڈیا کو بتایا ہے کہ 16 امریکی ریاستوں نے عدالت سے صدر ٹرمپ کو ٹیکس ادا کرنے والوں کی رقوم کو ذاتی مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست کی ہے ۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اپنے مقاصد میں کامیابی کی صورت میں مستقبل کے صدور کے لیے مثال قائم ہوجائے گی اور جب بھی کانگریس نے کثرت رائے سے فنڈز جاری کرنے سے انکارکیا تو صدر ایمرجنسی نافذ کردیا کریں گے۔

میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے درکار فنڈز کے لیے من مانی رقم نہ ملنے پر امریکی صدر نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے جس کے بعد انھیں کسی بھی کام کے لیے من مانے فنڈز کے اجرا کا اختیار مل گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک عدالتی عہدیدار کے مطابق آئین کا استعمال کرکے انھیں عہدہ صدارت سے ہٹانا غداری کے مترادف ہوگا۔

ٹرمپ کی جانب سے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے لیے فنڈز کو محفوظ کرنے کے مقصد سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے خلاف واشنگٹن، نیویارک، شکاگو سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ٹرمپ کے خلاف میکسیکو کی عدالت میں مقدمہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اصل میں صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ رائے عام ہے کہ وہ ایک ابنارمل شخصیت ہیں میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر ٹرمپ کی ابنارمل شخصیت کا ہی ایک حصہ ہے۔ دنیا کے جتنے مسائل ہیں وہ دراصل سیاست دانوں کے پیدا کردہ ہیں اور جب تک ٹرمپ ٹائپ کے حضرات سیاست کے ذریعے اقتدار میں آتے رہیں گے دنیا میں غیر حقیقی صورتحال پیدا ہوتی رہے گی۔پسماندہ ملکوں میں نام نہاد سیاستدان ٹرمپ کے مقابلے میں ایک اور بدتر بیماری کا شکار ہیں اور وہ بیماری ہے کرپشن کی۔

آج ہمارا ملک اربوں کھربوں کی کرپشن کے جس بحران میں پھنسا ہوا ہے، یہ کارنامہ سیاستدانوں کا ہی ہے اور سیاستدان جمہوری انتخابات کے ذریعے ہی اقتدار میں آتے ہیں۔ ٹرمپ کی کارروائیوں کا تعلق بھی عوامی دولت کے بے جا استعمال ہی سے ہے امریکا ایک ترقی یافتہ ملک ہے وہاں صدر کے اختیارات پر عوام کڑی نظر رکھتے ہیں اور اگر صدر قومی دولت کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف احتجاج کے علاوہ قانونی کارروائیاں بھی ہوتی ہیں۔

دو ملکوں کے درمیان باڑ یا دیوار اس لیے اٹھائی جاتی ہے کہ یا تو جرائم پیشہ افراد کے سرحدیں پار کرکے آنے کا ڈر ہوتا ہے یا پھر فوجی کارروائیوں کا۔ دونوں صورتیں انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی توہین ہیں۔ اگر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ان خطرات سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ دیوار اٹھانا ہے تو یہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی بھی توہین ہے۔ دنیا میں اب تک اس قسم کی خرابیوں اور خطرات کی روک تھام کے لیے جو طریقے اختیارکیے جا رہے ہیں وہ مکمل حفاظت کے ضامن نہیں بلکہ دل کی تسلی کی کوشش ہیں ۔ ان خطرات سے بچنے کے دو ہی درست اور بامعنی طریقے ہیں ۔

ایک یہ کہ عوام کے معاشی مسائل اس طرح حل کیے جائیں کہ انسان کو جرائم کی طرف جانے کی ضرورت نہ رہے، دوسرا منطقی طریقہ یہ ہے کہ نصاب تعلیم میں ان برائیوں کے اثرات و مضمرات کی نشان دہی کی جائے اور یہ بتایا جائے کہ جرائم اور فوجی خلاف ورزیاں انسانیت کی توہین کے ساتھ معاشرتی بگاڑکے لیے ترغیب کا کام انجام دیتی ہیں۔دنیا جرائم کا اڈہ بنی ہوئی ہے دنیا کا کوئی ملک جرائم سے پاک نہیں۔ ابتدائی کلاسوں کے نصاب میں مضامین اور کہانیوں کی شکل میں جرائم کے انفرادی اور اجتماعی نقصانات پر اسباق ،کہانیاں ایسے دلچسپ اور علمی انداز میں لکھی جائیں کہ طلبا کے ذہنوں میں اس کے مثبت اثرات پیدا ہوں۔ ان حوالوں سے بدقسمتی سے اب تک منظم طریقے سے کوششیں نہیں کی گئیں ورنہ دنیا جرائم سے پاک نظر آتی۔

جن ملکوں میں صدارتی نظام ہے، ان ملکوں کے عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ بہت احتیاط کے ساتھ صدرکا انتخاب کریں کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں چیک اینڈ بیلنس کا ایک مربوط نظام موجود ہوتا ہے جو وزیر اعظم کو بے لگام ہونے سے روکتا ہے لیکن دولت کی ہوس پارلیمانی نظام کو بھی کرپشن کا نظام بنا دیتی ہے۔ اس حوالے سے دور کیوں جائیں پاکستان ہی کو دیکھ لیجیے پاکستان میں پارلیمانی نظام ضرور ہے لیکن سابق حکومت نے چونکہ خود بھی خوب کھلا کھایا اور اپنے وزرا کو بھی کھلا چھوڑ دیا جس کی وجہ ہمارا پارلیمانی نظام بے ایمان نظام میں بدل گیا۔

پانچ سال کی کھلی لوٹ مار کے بعد جب احتساب کا ڈنڈا گھمایا گیا تو وزیر اعظم ان کے بھائی پنجاب کے وزیر اعلیٰ وزیر اعظم کے صاحبزادگان چیف منسٹر کے صاحبزادے سمیت بے شمار لوگ کرپشن کے مرتکب پائے گئے۔ جن کے خلاف عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں۔ ہمارے جمہوری دانشور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کا نومولود کرپشن کے فیڈر سے دودھ پی کر بڑا ہوتا ہے اس کی رگ رگ میں کرپشن بھری ہوتی ہے لاکھ احتساب کا ڈول ڈالیں پانی گندہ ہی رہے گا۔

امریکا اور دوسرے مغربی ملکوں میں کرپشن کا وہ کلچر نہیں ہے جو پسماندہ ملکوں میں پایا جاتا ہے لیکن اونچے لیول پر یہاں بھی احتیاط کے ساتھ کرپشن کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ صدارتی نظام میں اگرچہ صدرکے اختیار زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن صدر اس وقت بے بس ہوتا ہے جب ایوان زیریں ، ایوان بالا انصاف اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں ۔امریکا کی پچاس ریاستوں میں صرف 16 ریاستوں نے ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائرکیا ہے اگر 50 میں سے 50 ریاستیں ٹرمپ کی آمریت کے خلاف مقدمے میں شامل ہوتیں تو پھر بلاشبہ اسے ہم حقیقی جمہوریت کہہ سکتے تھے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

باغ بانی کے شوقین صہیونی آرمی چیف کا حقیقی مکروہ چہرہ!

اسرائیل میں رواں سال جنوری میں چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر تعینات ہونے …