جمعرات , 19 ستمبر 2019

ویلڈن پاکستان!

(عارف نظامی)

لگتا ہے کہ بین الاقوامی کوششوں کے نتیجے میںپاکستان اور بھارت کے درمیان ’منی وار‘ کا پہلا راؤنڈ ختم ہو گیا ہے۔ امید ہے کہ اس کے بعد بھارت کو پاکستان کو ترنوالہ سمجھ کر یلغار کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔ منگل کو علی الصبح بھارتی ائیر فورس نے جو شب خون مارنے کی کوشش کی اس سے اس کی مزید جگ ہنسائی ہوئی۔ نہ جانے کیوں ہماری خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے بزرجمہروں نے اس بات پر اتنا زور نہیں دیا کہ انڈین ائیر فورس کے لڑاکا طیارے1971ء کے بعد پہلی بار پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ کے قریب اپنا پے لوڈ(بم اور دیگر سامان) پھینک کرفرارہو گئے۔بھارت کی پراپیگنڈہ مشینری نے کہا ہے کہ اس نے جیش محمد کا تربیتی مرکز تباہ کر دیا ہے اور وہاں پر موجود ڈھائی سے تین سو’ دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ تھا جس کی قلعی چند گھنٹوں میں ہی کھل گئی۔ یہ درست ہے کہ بالاکوٹ میں ایک مدرسہ ہے اور اگر یہ واقعی’ بھارتی سورماؤں‘ کا ٹارگٹ تھا تو وہ اس سے کم از کم ایک کلو میٹر دور ہی بم گرا کر بھاگ گئے اگر خدانخواستہ اتنا جانی نقصان ہوتا جتنا بھارت دعویٰ کر رہا تھا تو دنیا بھر میں کہرام مچ جاتا لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ پاکستان کی طرف سے اس حملے کا فوری طور پر تو کوئی جواب نہیں دیا گیا جس پر بعض ناقدین کا ماتھا ٹھنکا کہ شاید ہماری ائیر فورس ریڈالرٹ ہونے کے باوجود جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔لیکن وزیر اعظم عمران خان نے اگلے روز اپنے خطاب میں واضح کر دیا کہ پاکستان تمام کواکب کا جائزہ لے کر جواب دینا چاہتا تھا اور بدھ کو ہی بھا رت کو رسید مل گئی۔ اس کا ایک مگ21 طیارہ باقاعدہ ڈاگ فائٹ کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے قریب گر الیا گیا اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتارکر لیا گیا جبکہ دوسرے طیارے کا ملبہ مقبوضہ کشمیر میں گرا۔

بھارت نے بوکھلاہٹ میںہا ہا کار مچا دی کہ پائلٹ کے ساتھ جنیوا کنونشن کے مطابق سلوک نہیں کیا جا رہا حالانکہ ایسی فوٹیج ریلیز کی گئی جس میں جنوبی بھارت سے تعلق رکھنے والا پائلٹ ابھی نندن پاکستانی فوجیوں کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اسے واپس بھارت بھیجنے کا اعلان کر کے اچھا فیصلہ کیا، جنگ ہمیشہ تباہی کا راستہ ہوتی ہے بالخصوص ایسی جنگ جو دوایٹمی طاقتوں کے درمیان ہو لیکن اگر جنگ کسی باغیرت قوم پر مسلط کر دی جائے تو اس کامنہ توڑ جواب دینا قومی حمیت اور غیرت کے لیے ضروری ہو جاتا ہے اوریہ پیغام تو یقینا بھارت کو چلا گیا ہے۔ اس صورتحال سے بعض مثبت رویئے نمایاں ہوئے ہیں۔مثال کے طور پر پاکستان کے اندر ایک بہت بڑی لابی جو ایمانداری سے یہ سمجھتی ہے کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے ساتھ برابری کی سطح پربھارت سے صلح ہونی چاہیے اور ایک لابی وہ ہے جوسمجھتی ہے کہ ہر قیمت پر خواہ اپنے بڑے متحارب ہمسائے کے نیچے بھی لگنا پڑے، ہمیں اس سے جپھی ڈال لینی چاہیے۔ موخر الذکر لوگ یہ کہتے بھی نہیں تھکتے کہ مقبوضہ کشمیر میں ’’دہشت گردی‘‘پاکستان سے ہو رہی ہے اورپاکستان دہشت گردوںکی آماجگاہ بناہوا ہے حالانکہ ماضی میں جو بھی ہوا آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور جیساکہ وزیر اعظم عمران خان نے خود کہا کہ ہمارے ستر ہزار افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں اور دہشت گردی کے نتیجے میں جو دکھ پہنچتا ہے، اس کا ہمیں بخوبی علم ہے۔ یقینا پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایسے عناصر کو استعمال نہ کرنے دے اور اب ہماری قومی پالیسی بھی یہی ہے۔

دنیا پر یہ بات کسی حد تک آشکار بھی ہو گئی ہے جسے پاکستان کی خا رجہ پالیسی کے ذمہ داروں کومزید آگے بڑھانا چاہیے کہ کشمیر میں حریت پسندی کی چنگاری آتش فشاںبن چکی ہے جس نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، یہ پاکستان سے گئے ہوئے نام نہاد گھس بیٹھیوں کا مسئلہ نہیںہے بلکہ پوری وادی کشمیری عوام کے آزادی کے نعروں سے گونج رہی ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے خودارادیت اور آزادی کے مسئلے قوموں نے مذاکرات کے ذریعے حل کیے ہیں۔ حالیہ چند دہائیوں میں سوویت یونین کے حصے بخرے ہو کرکئی آزاد ملک بن گئے ،مشرقی یورپ بھی آزاد ہو گیا، افریقہ میں بھی نئے ممالک نے جنم لیا لیکن بھارت کشمیر کے مسئلے کو تسلیم کرتا ہے نہ اس پر کوئی بات چیت کرنا چاہتا اورنہ ہی تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرنے کو تیار ہے اور کشمیریوں کے جمہوری حق استصواب رائے کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک چکا ہے۔ بھارت میں اس بات پر بھی بڑی لے دے ہو رہی ہے کہ جن بھارتی مگ طیاروں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی ،وہ فرسودہ ہو چکے ہیں۔ گویا کہ پاکستان کی ائیرفورس کے شاہینوں نے ان کو مارا یا مار بھگایا نہیں بلکہ ان کا سامان حرب ہی ناقص تھا حالانکہ پاکستان تو اقتصادی طور پر قلاش ہونے کے باعث ائیرفورس کو وہ جدید ترین جہاز نہیں دے سکتا جن کی ضرورت ہے اور چین کی مدد سے جے ایف17 تھنڈر طیارے بنائے گئے اور وہ انہی طیاروں سے بخوبی اپنا دفاع کررہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی ائیرفورس کے پروفیشنل ازم کو جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس نازک مرحلے پراپوزیشن کی طرف بھی اس حد تک دست تعاون بڑھایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے موقف میں کوئی فرق نہیں تھا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارلیمنٹ کے ارکان کو ان کیمرہ خود بریف کیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس موقع پر وزیر اعظم خود بھی موجود ہوتے تاہم انھوں نے اچھا کیا کہ اگلے روز ہی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کر کے کلیدی خطاب کیا اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی منی بجٹ کے موقع پر کی گئی تقریر کے برعکس اس معاملے میں حکومت کو اپوزیشن کے پورے تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا’’ہماری بہادرافواج پوری قوم کی تحسین کے حقدار ہیں، جنگیں کسی مسئلے کاحل نہیں ہوتیں آخرمیں ٹیبل پربیٹھناہوتاہے۔مقبوضہ کشمیرکامسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوناچاہیے، بھارت کوکشمیریوں کوان کاحق دیناہوگا،حق نہیں دیاتویہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اورسفارتی حمایت جاری رکھے گا،مقبوضہ کشمیرمیں گزشتہ4سال میں جو واقعات ہوئے کشمیرکی ہروادی میں برہان وانی اور ڈار پیدا ہوں گے‘‘۔ یہ اچھی روایت ہے جس کوآگے بڑھاتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج کو کم کر کے ورکنگ ریلیشن شپ بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ بھارت پاکستان کو جمہوریت مانتا ہی نہیں اور اس کے مطابق یہاں پر اب بھی فوج راج کر رہی ہے۔ اسے پاکستان کی پارلیمانی جمہوریت، پارلیمانی اپوزیشن اور آزاد میڈیا نظر ہی نہیں آتا۔لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے والے بھارت کا یہ حال ہے کہ وہاں کی اپوزیشن آج بھی رونا رورہی ہے کہ مودی سرکار نے انھیں آن بورڈ نہیںلیا۔ ایک اور حقیقت جو واضح ہوئی اورجس کا اعتراف وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے علاوہ بھی بار بار کیا ہے کہ پاکستانی میڈیا کا مثبت رول ہے۔

میڈیا نے مجموعی طور پر جنگی جنون کو ہوا دینے کے بجائے پاکستان کے قومی موقف کی بھرپور تر جمانی کی اور یہ بھی واضح ہو اکہ پاکستانی میڈیا جو قوم کی ترجمانی کرتا ہے اور لیڈر شپ میں ماضی کے برعکس پختگی آ گئی ہے اورہماری سیاسی اور فوجی قیادت نے بھارتی قیادت اورمیڈیا کے رویئے کے برعکس بڑھک بازی سے گریز کیا ہے۔ ہماری لیڈر شپ آج بھی بھارت کو دعوت دے رہی ہے کہ آئیے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور پلوامہ کے ثبوت لائیں، دہشت گردی پر بات کریں اور خداراکشمیر پر بھی پاکستان سے نہیں تو کشمیری لیڈر شپ سے تو بات کریں۔ بھارتی میڈیا کے کئی اینکرز تو غصے میں کہہ رہے تھے کہ کشمیریوں کو مارو اور پاکستان کو نیست و نابود کردو۔ امید ہے اب ان کے مزاج کچھ ٹھنڈے پڑ گئے ہونگے۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …