جمعرات , 19 ستمبر 2019

بھارتی پائلٹ کی جلد واپسی؟

(عبدالرفع رسول)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کرنا چاہتا ہے اوربھارت کومذاکرات کی دعوت دیتاہے اپنے خطاب کے آخرپراعلان کیاکہ 27فروری بدھ کو پاکستانی فضائیہ نے جس بھارتی جنگی طیارے کومارگرایااس کے گرفتار پائلٹ کو یکم مارچ جمعہ کورہاکردیاجائے گا۔قارئین کرام آپ جب یہ کالم پاکستان کے قومی اورکثیرالاشاعت اخبارروزنامہ 92نیوز میں پڑھ رہے ہونگے توبھارتی پائلٹ بھارت میں ہوگا۔بدھ کو پاک فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کے آرپارپر دو انڈین طیاروں کو مار گرایا ہے اور ایک ہوابازابھی نندن کمار کو حراست میں لے لیا۔بھارتی مگ 21طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کا طیارہ بدھ کو پاک فضائیہ کے اسکارڈن لیڈر پاکستان کے ہیرومحمدحسن کا نشانہ بن گیا ۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین 1999ء میں کرگل کے فلک بوس پہاڑوں پر جنگ ہوئی اس جنگ کے دوران پاک فضائیہ نے27 مئی1999ء میں لائن آف کنٹرول کے قریب انڈین فضائیہ کے دو مِگ 29طیارے مار گرائے ۔ ان دونوں طیاروں کے جو دو ہواباز اس آپریشن میں شامل تھے ان میں سے پاکستان کی جانب سے ایک ہواباز فلائیٹ لیفٹیننٹ کمبامپتی نچِکیتا کو زندہ جبکہ دوسرے کی لاش کو انڈیا کے حوالے کیا گیا تھا۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ جنگی قیدیوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں۔جنگی قیدیوں کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین میں سب سے معتبر دستاویزجنیوا میں طے پانے والا ایک معاہدہ ہے جسے عرف عام میں’’ جنیوا کنونشن‘‘ کہا جاتا ہے۔

اس دستاویز پر پہلی مرتبہ1929 ء میں اتفاق کیا گیا تھا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد 1949 ء میں پہلے معاہدے میں خاصی تبدیلیاں کی گئیں اور اس میں جنگی قیدیوں سے سلوک کے حوالے سے کئی شقوں کا اضافہ کیا گیا۔ اس معاہدے کو تیسرا جنیوا معاہدے یا ’’تھرڈ جنیوا کنونشن‘‘ کہا جاتا ہے۔اب تک دنیا کے 149 ممالک اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، جن میں انڈیا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔1949ء میں جنیوا کے مقام پر جنگی قوانین اور قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے معاہد۔ کیا گیا تھا۔جنیوا کنونشن ہر رکن ملک کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی جنگی قیدی سے تفتیش کے دوران ہر قسم کے جسمانی یا ذہنی تشدد یا کسی بھی قسم کے دبائو سے پرہیز کرے گا، اور جس قدر جلد ممکن ہو گا، قیدی کو جنگ کے مقام سے دور لے جائے گا۔

کنونشن کی شق نمبر49تا 57کا تعلق ایسے قیدیوں سے ہے جنھیں جلد اپنے ملک کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ ایسے قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ان سے کوئی ایسا کام یا مشقت نہ لی جائے جو ان کے فوجی عہدے کے شایان شان نہ ہو۔یعنی نہ صرف ان کے عہدے، عمر اور جنس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے بلکہ ان سے کوئی ایسا کام بھی نہیں کرایا جا سکتا ہے جو مضر صحت یا خطرناک ہو سکتا ہے۔اس تناظرمیں بات کی جائے تومقبوضہ کشمیر میں کسی بھی قیدی کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس پر انٹرنیشنل آرمڈ کانفلیکٹ ’’بین الاقوامی مسلح تصادم‘‘کے قوانین کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔یہ ایک لیگل فریم ورک یا قانونی ڈھانچے کا نام ہے جو اس وقت عمل میں آتا ہے جب کسی مقام پر جنگ کی صورتِ حال ہو، یعنی فوج کی موجودگی بہت زیادہ ہو اور وہ علاقہ زیر قبضہ بھی ہو۔ یہ دو چیزیں مل کر اسے انٹرنیشنل آرمڈ کانفلیکٹ بنا دیتی ہیں۔اگر ایسے تنازعے یا مسلح تصادم میں کشیدگی بڑھتی ہے اور کوئی شخص گرفتار ہوتا ہے تو اس کی قانونی حیثیت ایک کمبیٹنٹ یا لڑنے والے سپاہی کی ہوتی ہے۔

گویا جوبھارتی پائلٹ فروری 2019ء یا1999ء میں پاکستان کی حراست میں تھے انھیں کمبیٹنٹ یا جنگی قیدی کے حقوق حاصل ہوں گے اور وہ جس بھی قانونی سلوک کے مستحق ہوں گے وہ دیا جانا چاہیے۔عین اسی طرح کشمیرمیں اپنے حق خود ارادیت کے لیے لڑنے والے کشمیری نوجوانوں کوبھی حقوق حاصل ہیںجوبھارت نہیں دیتا۔ ایسے معاملات میں عمومی قوانین کی بجائے’’ انٹرنیشنل ہیومینیٹیرین ‘‘لاز کا اطلاق ہوتا ہے، ایسے قوانین جو آپ سے انسانیت کا تقاضا کرتے ہیں۔یعنی پائلٹ کے معاملے کو آپ انٹرنیشنل ہومینیٹیرین لاء اور کانفلیکٹ لا ء کے پیرائے میں دیکھیں گے۔اس قانونی ڈھانچے کا اطلاق نہ صرف کشمیر کے محاذ پر پکڑے جانے والے فوجیوں پر ہوتا ہے بلکہ اپنے حق خود ارادیت کے لیے لڑنے والے کشمیری نوجوانوں کی قانونی حیثیت بھی ایک کمبیٹنٹ یا سپاہی کی ہو جاتی ہے اور ان پر بھی بین الاقوامی قوانین کے عمومی اصولوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ جو اپنے حق خود ارادیت کے لیے لڑ رہے ہوں، انھیں بھی طاقت کے استعمال کا حق ہوتا ہے۔

ابھی نندن کی ویڈیویو ٹیوب اورسوشل میڈیاپر دستیاب ہے ایک منٹ 20 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں اس سے چند سوالات کیے گئے جن کے جواب میں وہ کہتاہے کہ پاکستان میں اس کے ساتھ اچھا سلوک ہو رہا ہے اور اگر وہ اپنے ملک واپس گئے تو اپنا بیان نہیں بدلیں گے27مئی1999ء کے گرفتارشدہ بھارتی پائلٹ گروپ کیپٹن کمبامپتی نچِکیتا کی طرح 27 فروری 2019ء میں گرفتارہوئے بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن نے بھی یہ گفتگو چائے پیتے ہوئے کی اور پاکستانی فوج کی چائے کی تعریف بھی کی ہے، تاہم یہ آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہوگا کہ چائے کے باغات کے لیے مشہور جنوبی انڈیا سے تعلق رکھنے والے بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی چائے سے رغبت انڈیا پاکستان کی حالیہ کشیدگی کی نذر تو نہیں ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ آزادکشمیر کے بھمبرعلاقے کے گائوں ہوران میں اترنے والے بھارتی پائلٹ نے زمین پر اترنے کے بعد گائوں والوں سے پوچھا کہ کیا وہ انڈیا میں ہیں اور ایک حاضر دماغ نوجوان نے عقل مندی سے کام لیتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں یہ انڈیا ہے۔ بھارتی پائلٹ نے اپنے آپ کو پیراشوٹ سے الگ کیا اور انڈیا کے حق میں نعرہ بازی کی جس کے جواب میں وہاں موجود لوگوں نے پاکستان کے حق میں نعرے لگانا شروع کر دیے۔ اس موقع پر پائلٹ نے پستول نکال لیا اور لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہوا میں فائرنگ کی۔بھارتی پائلٹ نے چھپنے کی بہت کوشش کی لیکن گائوںکے چند نوجوانوں نے آدھے کلو میٹر تک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا پیچھا کیااور اس پر قابو پالیا۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …