منگل , 25 جون 2019

ڈی پی دھر، اسرائیل اور مُودی

(محمد اظہار الحق)

بھارت میں بہت سے حلقوں کو یقین ہے کہ پلواما کے واقعہ میں مودی سرکار خود ملوث ہے۔ براہِ راست یا بالواسطہ! ان حلقوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی ’’براہِ راست‘‘ ذمہ دار ہے۔ بنرجی کہتی ہیں کہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی مودی نے اس واقعہ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ’’تمہیں حملے کا پہلے سے علم تھا۔خفیہ اطلاعات میسر تھیں۔ جوانوں کو ایئر لفٹ کیا گیا۔ نہ سڑکوں پر ناکے لگائے گئے۔ ہر کوئی آ جا رہا تھا۔ کیوں؟ تا کہ الیکشن کے لیے کچھ مل جائے! اور اب مودی جنگ کا کھیل کھیل رہا ہے۔‘‘ بنرجی نے الزام لگایا کہ بی جے پی لوگوں کو روپیہ دے کر پارٹی میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہی ہے۔ وہ پوچھتی ہے یہ روپیہ کہاں سے آ رہا ہے؟ ہندوئوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے برقعے خریدے ہیں۔ یہ برقعے بدمعاشوں کو پہنائے جا رہے ہیں۔ کارروائیاں وہ کریں گے۔ بدنام مسلمانوں کو کیا جائے گا۔ بنرجی نے دعویٰ کیا کہ…’’ایسے واقعات ہمارے علم میں لائے گئے ہیں…‘‘ دوسری طرف معروف برطانوی صحافی اور شہرۂ آفاق کالم نگار رابرٹ فسک نے دعویٰ کیا ہے کہ بالاکوٹ میں گرائے گئے بم اسرائیل کے بنے ہوئے تھے۔ بی جے پی حکومت اور اسرائیل کے درمیان اسلام پسندوں کے خلاف اشتراک کام کر رہا ہے۔ رابرٹ فسک اسے ’’خطرناک‘‘ قرار دیتا ہے۔ رابرٹ فسک جیش محمد کے تربیتی کیمپ کو بھی ’’خیالی‘‘ قرار دیتا ہے کہ وہاں تو صرف چٹانیں تھیں اور درخت۔

2017ء کے دوران بھارت اسرائیلی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ 530ملین پائونڈ کا ایئرڈیفنس سسٹم، راڈار،اسلحہ، ہوا سے زمین میں مار کرنے والے میزائل سب کچھ خریدا گیا۔ یہ سارے ہتھیار فلسطینیوں پر آزمائے جا چکے تھے۔ میانمار(برما) نے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ ایک طرف مغربی حکومتوں نے میانمار پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کو کھلی چھٹی ہے کہ میانمار کی سفاک حکومت کو ٹینک، ہتھیار اور جنگی جہاز فروخت کرے۔ اس کی اجازت ہے۔ اسرائیل کے صحرائوں میں بھارت اور اسرائیل کے ’’خصوصی کمانڈوز‘‘ مشترکہ مشقیں کرتے ہیں۔ بھارتی کمانڈوز مہینوں اسرائیل کی ایئرفورس کے پاس رہ کر تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بھارت کے دورے پر آیا تو بمبئی حملے کا ذکر کر کے مگر مچھ کے آنسو خوب خوب رویا۔ بھارت کے کئی دانش وروں نے آواز اٹھائی ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسند ہندوئوں اور صیہونیوں کے درمیان اشتراکِ عمل کو پسندیدہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بی جے پی کے انتہا پسند ہندو، انٹرنیٹ پر، اسرائیل کے دیوانے ہیں۔ اس لیے کہ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے۔

ظلم کا یہی رویہ بی جے پی کا آئیڈیل ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بی جے پی کے انتہا پسند وہی سلوک کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے صیہونی، مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کا اشتراکِ عمل اُن لوگوں کے لیے اچنبھے کا باعث نہیں جو ڈی پی دھر سے متعارف ہیں۔ ڈی پی دھرکا تعلق کشمیر سے تھا۔ اسے ہسپانیہ بھیجا گیا تھا۔ وہ ایک خاص مشن پر تھا کہ ہسپانیہ سے مسلمانوں کا صفایا کس طرح کیا گیا۔ بھارت وہی کچھ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ یہ وہی ڈی پی دھر ہے جو 1971ء میں مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت کا معمار تھا۔ مداخلت کا منصوبہ اسی نے بنایا تھا۔ اس سے پہلے وہ سوویت یونین میں بھارت کا سفیر رہا۔ اسی نے سوویت یونین اور بھارت کے درمیان ’’دوستی اور تعاون‘‘کا بیس سالہ معاہدہ کیا تھا۔ بنگلہ دیش بننے کے فوراً بعد، بھارت اور بنگلہ دیش میں دوستی کا جو پہلا معاہدہ ہوا تھا، وہ بھی ڈی پی دھر کے ذہن کا شاخسانہ تھا۔ ماسکو کے بھارتی سفارت خانے میں ’’ڈی پی دھرپال‘‘ آج بھی اس کی ’’خدمات‘‘ کی تصدیق کرتا ہے۔ ڈی پی دھر 1975ء میں مر گیا۔ چھ سال بعد اسے مرے نصف صدی ہو جائے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان آج بھی موجود ہیں۔ کئی ڈی پی دھر آئے اور گئے۔ مُودی تاریخ کے کوڑے دان میں اتر جائے گا۔ کشمیری مسلمانوں کی جلائی ہوئی قندیل آج بھی روشن ہے۔ کل بھی کوئی نہیں بجھا سکے گا۔ آزادی کی تحریکیں ٹینکوں اور گولیوں سے نہیں دبائی جا سکتیں۔ یہی کشمیری، مسلمان نہ ہوتے تو مغربی طاقتیں اب تک انہیں آزاد کرا چکی ہوتیں۔ ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کے علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کی گئی۔

آج دنیاکے صفحے پر یہ آزاد ممالک ہیں۔ کشمیریوں کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ مغرب کبھی ان کی حمایت نہیں کرے گا۔ مسلمان جنوبی فلپائن میں ہوں یا غزہ کی پٹی میں، کشمیر میں ہوں یا افغانستان میں، مغربی طاقتوں کو ان پر رحم نہیں آتا۔ یہ وہی مغرب ہے جہاں جانوروں پر رحم کھانے والی سوسائٹیاں ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ لومڑیوں کو ہلاکت سے بچانے کے لیے فرکے کوٹ پہننے سے روکا جا رہا ہے۔ پرندے ہوں یا چوپائے، سب کی فکر ہے۔ درختوں کے غم میں دُبلے ہوئے جا رہے ہیں۔ ماحولیات کی فکر مارے جا رہی ہے۔ اگر نہیں پروا تو مسلمانوں کی نہیں۔ جن کے بچے بوڑھے عورتیں مرد ہر جگہ گاجر مولی کی طرح کاٹے جا رہے ہیں۔ تعصب کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ خود مسلمان حکومتیں، مظلوم مسلمانوں کی مدد نہیں کرتیں۔ یاسر عرفات آخر دم تک بھارت کا مداح رہا۔ آج بھی کتنے مسلمان ملک کھل کر کشمیر کی تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں؟ مسلمان حکمران خواب گاہوں اور مہمان خانوں والے ہوائی جہازوں کے شائق ہیں۔ ان کی گاڑیاں، ان کے کمروں کے کنڈے، تالے اور غسل خانوں کی ٹونٹیاں تک سونے کی بنی ہوئی ہیں۔ مگر کشمیری مسلمانوں کو چند ہزار ڈالر نہیں دے سکتے کہ وہ بندوقیں ہی خرید سکیں۔ کشمیری مجاہدین ٹینکوں کا مقابلہ پتھروں سے اور بندوقوں کا مقابلہ لاٹھیوں سے کر رہے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو Punchingبیگ بنایا ہوا ہے۔

پتہ بھی ہلتا ہے تو الزام پاکستان پر لگتا ہے۔ پھر یہ پاکستان کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ دنیا کے سامنے صفائیاں پیش کرتا پھرے۔ ان مغربی طاقتوں نے بھارت سے کبھی نہیں پوچھا کہ مفلوک الحال بھارتی مسلمان گائے فروخت کرنے جا رہا ہو تو اسے بھی اذیتیں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ گھر میں بکرے کا گوشت بھی پک رہا ہو تو بپھرا ہوا ہجوم حملہ کر دیتا ہے۔ داس کماری سے لے کر ہمالیہ کی ترائیوں تک بربریت دندناتی پھر رہی ہے۔ دنیا خاموش ہے! دنیا منہ دوسری طرف کر لیتی ہے۔ دنیا کو جانوروں، درندوں، چوپائوں، لومڑیوں، کتوں، بلیوں، درختوں، جھاڑیوں کی فکر کھائے جا رہی ہے مگر مسلمان…گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان…مر رہے ہیں۔ سسک رہے ہیں، کٹ رہے ہیں۔ بھارت آنکھ کا تارا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ’’جمہوریت‘‘ ہے۔ واہ! کیا معیار ہے! کل جو مودی دہشت گرد تھا اور بحرِ اوقیانوس پار نہیں کر سکتا تھا، آج ملکوں کے حکمران اس سے معانقے کر رہے ہیں۔ پاکستان ترنوالہ ہے نہ کشمیر نے غلامی کے معاہدے پر انگوٹھا لگایا ہے۔ آج نہیں تو کل…کل نہیں تو پرسوں…کشمیر نے آزاد ہونا ہے! زار ختم ہو گئے۔ سٹالن انجام کو پہنچا۔ وسط ایشیا آج آزاد ہے۔ مودی کو تاریخ میں زیادہ سے زیادہ فٹ نوٹ نصیب ہو گا۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

صدی معاہدہ یا تباہی کا معاہدہ

(بقلم عادل فراز) ڈیل آف سینچری یعنی ’صدی معاہدہ‘ کو عملی شکل دینے کے لئے …