جمعہ , 23 اگست 2019

سینچری ڈیل، عرب ممالک سے بلینک چیک وصول کرنے کی امریکی کوشش

(تحریر: فاطمہ صالحی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور مشرق وسطی کیلئے خصوصی نمائندے جیسن گرین بلاٹ نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین سے متعلق امریکی منصوبے سینچری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مشرق وسطی اور عرب ممالک کا دورہ شروع کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتخانے نے اعلان کیا ہے کہ جریڈ کشنر اور گرین بلاٹ نے اپنا مشرق وسطی دورے کا آغاز گذشتہ ہفتے پیر کے دن ابوظہبی سے کیا جہاں انہوں نے شیخ خلیفہ محمد بن زائد سے ملاقات اور گفتگو کی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اس کے بعد بحرین، عمان، قطر اور ایک اور عرب ملک بھی جانا ہے۔ جیرڈ کشنر نے حال ہی میں ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ابھی تک اس منصوبے کی تفصیلات کو خفیہ رکھا ہوا ہے اور یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی نتیجہ ظاہر ہونے سے پہلے ہی معاہدوں کی تفصیلات سامنے آ جاتی تھیں جس کے باعث سیاسی رہنما اسے قبول کرنے سے کتراتے تھے لہذا اس بار ہم نے تفصیلات منظرعام پر نہیں آنے دیں۔

جیرڈ کشنر نے سینچری ڈیل کے بارے میں مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: "ہم نے اپنے منصوبے میں چار اصولوں کو بنیاد بنایا ہے۔ پہلا اصول آزادی ہے۔ ہم چاہتے ہیں عوام مذہبی آزادی، سماجی آزادی، عبادت میں آزادی اور احترام سے برخوردار ہوں۔ ہم عوام کی عزت محفوظ بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ایکدوسرے کا احترام کریں۔ دوسرا اصول سکیورٹی ہے۔ سینچری منصوبے کے معیشتی نتائج صرف اسرائیلی اور فلسطینی عوام تک محدود نہیں بلکہ اردن، مصر اور لبنان سمیت پورے خطے کو اس کا فائدہ ہو گا۔ منصوبے کا سیاسی حصہ بھی بہت وسیع ہے اور اس میں سرحدوں کا تعین، مسائل کا حل اور حتمی صورتحال شامل ہے۔” جیرڈ کشنر کی اس وضاحت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ فلسطینی عوام کی بھلائی چاہتا ہے اور نہ صرف ان کی عزت اور سکیورٹی محفوظ بنانے کیلئے کوشاں ہے بلکہ اس سلسلے میں سفارتی سرگرمیاں بھی انجام دے رہا ہے۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ اب تک اردن اور فلسطین اتھارٹی سمیت کئی عرب ممالک نے سینچری ڈیل نامی معاہدے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کشنر کے بقول فلسطینیوں کی عزت اور سکیورٹی کی ضمانت فراہم کرتا ہے تو پھر اکثر عرب ممالک اس سے گریزاں کیوں ہیں؟

سینچری ڈیل معاہدے اور اس کے بارے میں شائع ہوئی خبروں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر مبہم اور غیر واضح رکھا گیا ہے۔ گویا امریکی حکام اس معاہدے کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لانا چاہتے اور ایسا کرنے سے پہلے عرب ممالک سے اسے قبول کرنے کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ عرب ممالک سے بلینک چیک وصول کرنے کے درپے ہے۔ حال ہی میں وائٹ ہاوس کے دو اہم عہدیداروں کا کہنا تھا: "جیرڈ کشنر سینچری ڈیل کی سیاسی شقوں کے بارے میں عرب ممالک کو تفصیلات فراہم نہیں کرے گا بلکہ اس میں شامل معیشتی پیکجز کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں یہ معاہدہ قبول کرنے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے اور اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کئے جانے کے بعد فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ محمود عباس نے واضح طور پر کہا ہے کہ قدس شریف بکاو مال نہیں اور وہ ہر گز امریکی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔

امریکہ کی جانب سے پیش کردہ سینچری ڈیل نامی مسئل فلسطین سے متعلق امن معاہدے کے سب سے بڑے حامی مسلم ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ اس معاہدے میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق تک نظرانداز کر دیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے فلسطین کے تمام جہادی گروہوں نے بھی کھل کر اس معاہدے کی مخالفت کی ہے۔ لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات فلسطین اتھارٹی اور خطے کے دیگر عرب ممالک پر دباو ڈال رہے ہیں کہ وہ اس امریکی منصوبے کو قبول کر لیں۔ امریکہ اور اسرائیل اپنے علاقائی اتحادی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے اسلامی دنیا میں رائے عامہ کی توجہ مسئلہ فلسطین سے ہٹانے کیلئے سرگرم ہو چکے ہیں۔ یہ ممالک ایک منظم پروپیگنڈے کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلامی ممالک کا اصلی دشمن اسرائیل نہیں بلکہ ایران ہے۔ سعودی عرب کی سربراہی میں بظاہر دہشت گردی کے خلاف گرینڈ الائنس تشکیل دینے کا بھی یہی مقصد ہے۔ یہ اتحاد درحقیقت ایران کے خلاف تشکیل پایا ہے۔ سعودی، اماراتی، بحرینی اور ان کی ہم عقیدہ رژیمیں حقیقت میں ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ان آمرانہ حکومتوں کو سب سے بڑا خطرہ اسلامی جمہوریت کا ہے کیونکہ عوام میں ان کی کوئی جڑیں نہیں۔ چونکہ اسلامی جمہوریت کا مرکز ایران ہے لہذا یہ حکام ایران کو ہی اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ ایران کشیدگی کے خطے پر اثرات

(مرزا اشتیاق بیگ) برطانیہ کے زیر انتظام جبرالٹر، مسلمانوں میں ’’جبل الطارق‘‘ کے نام سے …