جمعرات , 19 ستمبر 2019

او آئی سی کی گولڈن جوبلی یا جنازہ؟

(تحریر: صابر ابو مریم)

او آئی سی یعنی Organisation of Islamic Cooperation(اسلامی ممالک کی تعاون کی تنظیم) اپنے قیام کے بعد سے اب پچاس سالہ گولڈن جوبلی منا رہی ہے۔ اس تنظیم کا صدر مقام جدہ سعودی عرب میں قائم ہے۔ اب اگر مسلمان ممالک کی اس تنظیم کے ماضی اور بنیادوں کی بات کریں تو یہ بتاتا چلوں کہ اس تنظیم کا قیام ایک ایسے حادثہ کے بعد وجود میں لایا گیا تھا کہ جب صہیونیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس میں گھس کر اسے نذر آتش کر دیا تھا، یہ 1969ء کی بات ہے، اس کے ردعمل میں مسلمان ممالک کے حکمران سرجوڑ کر بیٹھ گئے اور او آئی سی کا قیام عمل میں لائے تھے اور علی الاعلان کہا گیا تھا کہ قبلہ اول کا دفاع اولین ترجیح ہے، جبکہ مسلم دنیا میں موجود مسائل کو حل کرنے میں مسلمان ممالک آپس میں مل کر حل کریں گے اور دنیا کی سامراجی قوتوں کے سامنے کسی طور تسلیم خم نہیں ہوں گے۔ اب اس تنظیم کے مقاصد اور بنیاد کو دیکھ کر تو آج بھی میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے، لیکن پھر جب اس تنظیم کے عملی اقدامات کا جائزہ لیتا ہوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

2019ء یہ او آئی سی گولڈن جوبلی منا رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب اس تنظیم کے اکثر ممبر ممالک نے قبلہ اول بیت المقدس کا اعلانیہ طور پر سودا کر لیا ہے اور اس سودے میں امریکی منصوبہ ’’صدی کی ڈیل‘‘ کو قبول کیا ہے۔ یہ گولڈن جوبلی ایسے وقت میں ہو رہی ہے کہ جب مقبوضہ کشمیر کے عوام روزانہ کی بنیادوں پر بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجہ میں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو رہے ہیں، لیکن اس جوبلی کو منانے کے لئے ان عرب ممالک کے حکمرانوں نے مظلوم کشمیریوں کے قاتلوں کو اجلاس میں بلایا ہے اور انہیں غیر معمولی اہمیت سے نوازا گیا ہے۔ کیا یہ مسلم دنیا کے لئے کھلا پیغام سمجھا جائے کہ کشمیر کا معاملہ اب مزید نہیں ہوگا؟ یا یہ سمجھ لیا جائے کہ جو کچھ بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیر میں جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، اب اسے ان عرب ممالک نے کلین چٹ یا لائسنس دے دیا ہے؟ اب اس گولڈن جوبلی کو میں جنازہ کہوں یا کچھ اور کہہ دوں؟ نہیں معلوم۔

حالیہ دنوں منعقد ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو خاص طور پر دعوت دے کر بلایا گیا ہے، اس سے قبل کہ ان کی گفتگو کے بارے میں بات کریں، یہاں یہ بات واضح رہے کہ گذشتہ برس او آئی سی تو نہیں لیکن غیر رسمی طور پر ایسا ہی او آئی سی کا اجلاس سعودی عرب میں ہوا تھا، جس کی قیادت اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی، جہاں تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا، ما سوائے ایران، شام اور یمن۔ اس تقریب کی صدارت امریکی صدر نے کی تھی، جس کے بعد عرب حکمرانوں نے ان کے ساتھ تلواریں ہاتھ میں لے کر رقص بھی کیا تھا۔ بہرحال اس مرتبہ او آئی سی کے رسمی اجلاس میں امریکہ کے ایک اہم ترین شراکت دار بھارت کو مدعو کیا گیا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج خصوصی طور پر ابو ظہبی پہنچیں اور او آئی سی کے اجلاس سے خصوصی خطاب کیا، ایسے وقت میں کہ جب مسلم دنیا کے ایک اہم ترین ملک پاکستان پر بھارت نے گذشتہ کئی دنوں سے جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے نتیجہ میں درجنوں سول شہری شہید ہوئے ہیں، لیکن دوسری طرف عرب حکمران جو ہمیشہ پاکستان کو اپنے ناپاک عزائم کے لئے استعمال کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں، اب کی مرتبہ پاکستان کے دیرینہ دشمن بھارت کی میزبانی کر رہے ہیں۔

او آئی سی کی گولڈن جوبلی کو میں اس لئے بھی جنازہ کہہ رہا ہوں کہ اس تنظیم کے اسٹیج پر ایک ایسے ملک کی وزیر خارجہ نے خطاب کیا ہے کہ جس کے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے رنگین ہیں۔ سشما سوراج نے او آئی سی میں موجود ممبر ممالک سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو ایک بڑی معاشی طاقت بتانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ یہاں 185 ملین مسلمان آباد ہیں، جو کہ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ مختلف ثقافت و رنگ رکھنے کے باوجود بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ کیا او آئی سی میں بیٹھے ممالک کو یہ معلوم نہیں کہ جو بھارت کے موجودہ وزیراعظم ہیں، ان کو گجرات کا قصائی کیوں کہا جاتا ہے۔؟ کیا انہوں نے گجرات فسادات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح نہیں کاٹا تھا؟ کیا کشمیر میں بھارت کے ہاتھ معصوم کشمیری عوام کے خون سے رنگین نہیں ہیں؟ آخر ان سب باتوں کو بتا کر سشما جی کیا ثابت کرنا چاہتی تھیں۔؟ سشما نے اپنے خطاب میں او آئی سی کی گولڈن جوبلی کا تذکرہ بھی کیا، ساتھ میں گاندھی کی ایک سو پچاسویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے امن اور یکجہتی کی بات کی، لیکن یہ کیسی امن کی بات ہے۔؟

گاندھی کی امن کی تعلیمات کا پرچار کرتے ہوئے ان کو تھوڑی دیر کے لئے کیا یہ خیال آیا کہ حالیہ دنوں جو کچھ بھارت امن و امان کو برباد کرنے کے لئے کر رہا ہے، کیا وہ سب انہی گاندھی صاحب کی تعلیمات ہیں؟ یہ کس طرح کا امن ہے کہ خود بھارت پاکستان میں در اندازی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ کشمیر کا سوال کیا ہوا؟ کیا مسلم دنیا کے یہ حکمران او آئی سی کے اجلاس میں بھنگ پی کر بیٹھے تھے؟ کیا ان عرب حکمرانوں نے سشما سے کشمیر کا سوال کیا؟ آخر یہ کیا ڈراما ہوتا رہا او آئی سی میں؟ اب اگر او آئی سی کے گولڈن جوبلی کو جنازہ نہ کہا جائے تو مجھے آپ ہی بتائیں پھر کیا کہا جائے۔؟ سشما سوراج نے او آئی سی ممالک کے ممبرز کو درس دیتے ہوئے بتایا کہ مذہب وغیرہ کو چھوڑ کر سب کو آپس میں ایک ہونا چاہیئے، یکجہتی ہونا چاہیئے اور نہ جانے اس طرح کی کیا کیا چرب زبانی کی گئی، لیکن سوالات پھر وہی ہیں کہ کیا ان تمام باتوں پر خود بھارت عمل کر رہا ہے؟ کیا بھارت کشمیر سمیت دیگر مظلوم قوموں پر ظلم و ستم کو بند کر چکا ہے؟ کیا کشمیر میں معصوم بچوں کو نابینا نہیں کیا گیا۔؟

خلاصہ کلام یہ ہے کہ بھارت کو دوش دینے سے پہلے میں ان عرب ممالک کے حکمرانوں سے سوال کرتا ہوں کہ تم تو دعوے دار تھے کہ پاکستان کے سب سے بڑے خیر خواہ ہو۔ پاکستان تمھارے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے، لیکن پھر یہ سب باتیں کہاں گئیں؟ جب بھارت پاکستان میں جارحیت کر رہا تھا تو تم نے بھارت کی شایان شان مہمان نوازی کی۔ او آئی سی کے اجلاس میں بلا کر نہ صرف اپنی حمیت کا جنازہ نکالا بلکہ پوری امت مسلمہ کا جنازہ نکال دیا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے او آئی سی کی جانب سے بھارت کو مدعو کئے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کیا اور اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ یقیناً غیرت مندی کا تقاضہ یہی تھا۔ یہاں پر ان مسلمان ممالک کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیئے کہ جنہوں نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا، جس میں ایران، قطر اور ترکی شامل ہیں، جبکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ او آئی سی کے اس اجلاس میں کہ جہاں بھارت جیسی دہشت گرد اور جارح ریاست کو آنے کی اجازت ہے، لیکن شام اور یمن جیسے مسلمان ممالک کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔

دراصل عرب دنیا کے ان حکمرانوں نے اپنی عزت و حمیت کا سودا اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کے لئے امریکہ و اسرائیل سمیت بھارت جیسی جارح ریاستوں کے سپرد کر دیا ہے اور اب اس تنظیم کو نہ تو فلسطین کے مظلوم عوام کا احساس ہے اور نہ ہی کشمیر میں ہونے والی بربریت سے ان پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان عرب و مسلم حکمرانوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ یہ اقوام متحدہ میں ایک بڑی قوت کے طور پر موجود ہیں اور دنیا میں آبادی کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ طاقتور ممالک ہیں۔ کاش ان کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا تو یقیناً یہ امریکہ کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے نہ تو صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی حمایت میں نکلتے اور نہ ہی کشمیر میں ہونیوالی بھارتی ریاستی دہشتگردی کی حمایت بھارت کو او آئی سی میں خطاب کی دعوت دے کر کرتے۔ خلاصہ یہی ہے کہ اب اسلامی ممالک کے تعاون کی تنظیم کی گولڈن جوبلی ہو یا سو سالہ تقریبات ہوں، جنازہ تو نکل چکا ہے اور یہ جنازہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت جیسی جارح، دہشت گرد اور غاصب ریاستوں کے کاندھوں پر ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: ‘تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے’

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم …