ہفتہ , 8 مئی 2021

جنگ نہیں امن

(نادر شاہ عادل) 

پاک بھارت کشیدگی نے دو طرفہ تعلقات اور خطے کو ’’ڈیول اینڈ دی ڈیپ سی ‘‘ کا ہولناک منظر نامہ عطا کیا ہے ۔ پچھلے دنوں بھارتی طیاروں نے اڑان بھری اور بالا کوٹ کے ایک دور افتادہ جنگل کے سناٹے میں حملہ کیا اور بھارتی میڈیا کے ابتدائی بیان کے مطابق جیش محمد کے زیر تربیتی کیمپ پر حملہ کے نتیجہ میں350 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، تاہم بھارتی میڈیا کے سامنے بھارتی فضائیہ کے اعلیٰ افسران حقائق بتا نہ پائے، ان کی سبکی ہوئی، لیکن ثابت ہوا کہ آزاد یا کنٹرولڈ ہر دو قسم کے میڈیا میں سچ کبھی چھپ نہیں سکتا ۔

چنانچہ پیرکے اخبارات میںیہ خبر نمایاں طور پر چھپی کہ بالاکوٹ میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، بھارت کا اعتراف ۔ یہ محض اعتراف نہیں، دروغ گوئی سے تائب ہونے کی ابلاغی مجبوری تھی ۔ دوسری طرف حقائق کی جستجو میں آنکھوں کے سامنے تھنک ٹینکس ، مطالعاتی اداروں اور دفاعی مبصرین کی تجزیاتی رپورٹیں آئیں تو ذہن الجھن کا شکار ہوگیا کہ انٹیلی جنس رپورٹوں میں پاک بھارت ایٹمی جنگ کے امکانات نہیں، مگر سنگین خطرات کا ذکر اور تفصیلی حوالہ موجود ہے ، مگربھارتی نوکر شاہی اور فوجی سٹیبلشمنٹ نے اسی بے نیازی اور تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا۔

جس کا شاخسانہ نائن الیون کے مہیب سانحہ کی صورت سامنے آیا ، امریکا کے ٹون ٹاور کے درودیوار ہل گئے۔ انسانی ہلاکتوں نے دنیا بھرکے امن پسندوں اور جنگ سے بیزار عوام کو وسوسوں، صدمے، تحیر ، جشن مسرت اور شادمانی کے ناقابل یقین منظر دکھائے۔ بالاکوٹ واقعے نے بھارت اور پاکستان کی جنگی تیاریوں کی حقیقت اور افسانے کو بہت ہی مختصر دورانیے میں دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ۔نریندر مودی کے وہم وخیال میں بھی نہ تھا کہ اسے پاکستان ایسا دھوبی پاٹ مارکر ’’انوکی لاک‘‘ لگا دے گا کہ بھارتی عسکری ڈاکٹرائن کے ڈھول کا پول ہی کھل جائے گا ۔ یہ دیو مالا کہ بھارت اپنی عددی طاقت پر تو پہلے سے نازاں تھا مگر اسرائیلی کنکشن اور اسلحے کے انبار لگانے پر اسے خوش فہمی تھی کہ وہ ملٹری مہم جوئی سے اپنا مقصد بھی حاصل کرسکتا ہے ۔ پاکستان کو بیک فٹ پر بھی لانے کی طاقت رکھتا ہے ۔
یہ کہانی 2018 ء کی ایک تجزیاتی رپورٹ سے ملی، جس کا جھکاؤ بھارتی جوہری عزائم کی طرف تھا ، رپورٹ میں کئی اہم انکشافات کیے گئے، ان میں ایک یہ انتباہ تھا کہ پاک بھارت موجودہ جوہری دہلیزکے سیاق وسباق میں پورے جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر اسٹرٹیجی اور ڈیٹرنس کے ضابطے خود بنائیں گے ۔ مسئلہ پر اس پہلو کو نمایاں رکھا گیا کہ جوہری اسٹرٹیجی کے تحت خطے کی علاقائی ایٹمی طاقتیں اپنے طرز عمل کے ذریعے حالات کو جنگ کی عینک سے دیکھ رہے ہیں، صورتحال کو امریکا اور سوویت یونین کی سرد جنگ کی کشمکش اور کشیدگی کا تناظر بھی دیا گیا، تاہم اس بات کوکوئی سمجھ نہ پایا کہ اس کے تخمینہ پر دونوں ایٹمی طاقتوں کے تجربات کے کیلکولیشن کا پاک بھارت چوائسز پر اطلاق نہیں ہوتا، مگر عجیب بات تھی کہ اسٹرٹیجک تبدیلیاں جو برصغیرمیں جنم لے رہی ہیں انھیں نظر اندازکیا جاتا رہا ، سوال اٹھایا گیا کہ یہ تبدیلیاں کہاں ہیں؟

رپورٹ کے مصنف کا کہنا تھا کہ میرے ذاتی فیلڈ تجربہ سے مجھے ادراک ہوا کہ انڈیا اور پاکستان کی اسٹرٹیجک ترجیحات میں تبدیلی آئی ہے۔ جو اس بات کا عندیہ دے رہی ہیں کہ جوہری چوکھٹ پر پہنچنے والی ان طاقتوں میں جلد ایک محدود جنگ ہوگی اور نئی دہلی اور اسلام آباد کے بالادست عسکری حلقوں سے یہ عندیہ ملا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں جگہ شارٹ ، شارپ اور محدود کانفلیکٹ کی تیاری تشویش اور تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے، اسٹرٹیجک منظر نامہ بدل سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا جاتا ہے بھارتی در اندازی کی شکل میں حالیہ واقعات سے اندازہ ہوجانا چاہیے کہ اسمال اور محدود جنگ قابل عمل نظرآتی رہی ہے۔ یاد رہے بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے جنوری 2018 ء میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت پاکستان کی جارحیت کے جواب میں چپ یا تحمل سے کام نہیں لے گا ، بپن راوت نے اسلام آباد کی ریڈ لائنز پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کاری کے حوالہ سے سوالات اٹھائے۔ باقی حقیقت قارئین پیش آنے والے پاک بھارت شو ڈاؤن میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب رپورٹ محدود جنگ کی ایسی صاف پیش گوئی کر رہی ہے تو اب تک کی محدود جنگ کے بعد کی صورت حال کیا ہوگی۔

اس پر دو رائے تو نہیں ہوسکتی۔ نریندر مودی کا جنگجوئی پر مبنی شاونسٹک مائنڈ سیٹ اور بی جے پی کے ہندو توا ایجنڈے کی آڑ میں آیندہ بھارتی انتخابات سے پہلے خطے کے امن کو لاحق خطرات کے تدارک کے لیے دنیا بھرکے امن پسندوں کو متحرک ہونا پڑے گا ۔ ایک اور رپورٹ میں پاکستان کے شارٹ رینج ٹیکٹیکل نیوکلئیر ہتھیاروں پر بھی سلامتی کے حوالے سے رائے زنی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کب پاکستان ان ٹیکٹیکل ہتھیاروں کی مدد سے بھارت کی پہل کاری روک سکتا ہے جب کہ بھارت کے پاس محدود جنگ کی صلاحیت ہی نہیں رہے گی۔ پاکستان نے یہ دفاعی ضرورت محسوس کی جس کا سبب بھارت کا روایتی جنگی سبقت میں اضافہ تھا، بھارت نے روایتی و نیم روایتی جنگی ہتھیاروں کو جدید ترین بننے کا اقدام بھی کیا۔

تاہم بھارتی عسکری حلقوں کے حوالے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی بھارتی روایتی محدود جنگ کے عزائم کو روکنے کے لیے اور سپیس کو مستقل طور پرکلوزکرنے کی کوشش نے بھارت کو اپنے جنگی ڈاکٹرائن کو طاقتور بنانے کی نمایاں تبدیلیوں کی طرف مائل کر دیا ۔2004 ء میں انڈین آرمی نے فیصلہ کیا کہ دفاعی اور ینٹڈ ڈاکٹرائن جو 1947 ء سے جاری ہے پاکستان کی طرف سے خطرات کا روایتی وکم روایتی سطح پر جواب نہیں دے سکے، لیکن اس بات کو مشتہر نہیں کیا گیا ۔کولڈ اسٹارٹ کا تصور اسی سے پیدا ہوا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئی دہلی کو یقین ہوچلا تھا کہ پاکستان کی عسکری قیادت اپنے پہلے جوہری دفاع کی سوچ کے تمام پہلوؤں کے بارے میں اچھی خاصی جانکاری کرچکا ہے۔ پاکستان کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ دفاعی جنگ میں بھی بھارت کے لیے پاکستانی حملہ کا دفاع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ان رپورٹوں میں مضمر حقیقت پسندانہ تجزیے، اہل فکر ونظرکے لیے سوچنے کا کافی سامان موجود ہے۔ پاکستان نے مودی کے جنگی جنون والی امن دشمن سوچ کوگزشتہ چند دنوں میں جس شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ بھارتی جنگی تیاریوں پر بریک لگانے کے لیے جنگ کے شیدائی بھارتی سیاستدان اور جنگ آزما میڈیا اپنے طرز عمل کا محاسبہ کرے ،امن کو ایک موقع دے ، تاکہ خطے میں جنگ ٹل جائے کیونکہ یہی سب کے مفاد میں ہے۔اس موضوع سے متعلق ایک کتاب کا ذکر ضروری ہے جو جنگ اور رزمیہ شاعری کے سیاق وسباق میں ہے، اس کے مصنف قاسم یعقوب ہیں۔ قاسم یعقوب کے مطابق برصغیر ایک ایسا خطہ ہے جو ہمیشہ حالت جنگ میں رہا ۔ جب بھی کوئی بیرونی حملہ آور اس خطے میں داخل ہوا۔

اس نے یہاں کی معاشرتی زندگی کے تارو و پود بکھیر کر رکھ دیے، پورا سماج گروہوں میں تبدیل ہوتا گیا ، اسی وجہ سے معاشرتی سطح پر یہ علاقہ کثیر نسلی ہے ۔ اردو زبان میں بیرونی حملہ آوروں کے اردو سے ہی تخلیق کے عمل سے گزرنا شروع ہوگئی تھی۔ اس لیے جنگ وجدل اور ہنگامہ آرائی اس زبان کو ورثے میں ملی ۔ بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں نے نصف صدی کے اذہان کو بانجھ کرکے رکھ دیا، مصنف کا کہنا ہے کہ جنگ کا پہلا مقصد دشمن کی فوجی طاقت کو ختم کرنا ہے، پھر اس علاقے پر مکمل کنٹرول کرنا ہوتا ہے تاکہ کوئی فوجی عسکری طاقت دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔ یہ بات چشم کشا کہی گئی کہ جنگ کے عزائم دشمن کے ذہن کو تبدیل کرنا ہوتا ہے،کیونکہ جنگ صرف ہتھیاروں سے ہتھیارکا مقابلہ نہیں ہوتا جب کہ ہتھیار چھوڑ دینے سے بھی ایسی جنگوں کا اختتام نہیں ہوتا ۔

ہم نے بیسویں صدی کی جنگوں کی ہولناکیوں کو اپنے شہروں میں نہیں لیکن دوسرے ملکوں میں دیکھا۔ میری نسل کے لوگ لاتعداد جنگی فلمیں برس ہا برس سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔ شکست وفتح سے زیادہ نوع انسانی کے لیے مرگ آفریں جشن مسرت ثابت ہوئے۔ ارنسٹ ہیمنگوے کا قول ہے کہ کبھی مت سوچیے کہ جنگ قابل تعزیر نہیں چاہے اس کے شروع ہونے کا جواز ہی کیوں نہ پیش کیا جائے۔ ممکن ہے وزیراعظم عمران خان سے عوام آج نہیں کل سوال کرسکتے ہیں کہ بندہ پرور آپ کو مینڈیٹ تبدیلی کے نام پر ملا تھا لیکن ’’کامیاب ‘‘ خارجہ پالیسی کے شور میں قوم کو پاک بھارت جنگ کا دہشت ناک پیغام کیسے مل گیا۔کیا ہوا ؟ وہ باتیں تری وہ فسانے ترے…..!

ایک اور مسئلہ بھی غور طلب۔ جو ممالک ثالثی کے خواہاں ہیں وہ پاکستان اور بھارت سے کشیدگی ختم کرنے کا بیک زبان مطالبہ کرتے ہیں،جب کہ انھیں معلوم ہے کہ جارح اور کشیدگی کا ذمے دار بھارت ہے،اسے کہا جائے کہ امن ناگزیر ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …