جمعرات , 13 مئی 2021

مودی کا جنگی جنون اور اصل محرکات

(شاہد اللہ اخوند) 

بھارت کی کئی ریاستوں میں مودی کو الیکشن میں بدترین شکست ہوئی، جس کے بعد مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مودی سرکار نے پچھلا الیکشن پاکستان دشمنی کی بنیاد پر جیتا ہے۔ اس لیے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کو مبصرین مودی کے سابقہ طریقہ کار کو ایک بار پھر آزمانے کا وتیرہ قرار دے رہے ہیں۔ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے بارہا امن مذاکرات کی پیشکش کیے جانے کے باوجود بھارت پر جنگی جنون سوار ہے۔

اس جنگی جنون کی بظاہر کئی وجوہ ہیں جنہیں مدنظر رکھ کر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اس حملے میں مودی سرکار اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا؛ اور اس لیے بھی کہ خود بھارت کے کئی مبصرین، تجزیہ کار اور ملٹری کے سابقہ افراد اسے مودی کا سیاسی چال قرار دے رہے ہیں۔

بھارت میں جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں، سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس پر بیان بازی کرکے، عوام کو جذباتی کرکے اپنا ووٹ بینک بڑھا لیتی ہے۔

اس مرتبہ بھی بھارت سرکار نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش تو کی لیکن وہ بُری طرح ناکام ہوگئی۔ پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تو بھارت دبک کر بیٹھ گیا جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی مسلح افواج کو پاکستان پر حملے کی مکمل چھوٹ دے دی۔ اس سب کے پیچھے مودی سرکار کا مقصد اپنا ووٹ بینک بڑھانا تھا۔ مودی سرکار نے پاکستان میں دوسری سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا دعویٰ کیا اور بھارتی عوام اپنی سرکار کے دعووں میں اندھے ہوکر اس کے پیچھے چھُپے گھناؤنے مقصد سے بے خبر رہے، تاہم اب بھارت میں بی جے پی کے آویزاں کیے گئے انتخابی بینرز نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔

بی جے پی کے انتخابی بینرز پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مودی سرکار نے پاکستان میں دوسری مرتبہ سرجیکل اسٹرائیک کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ مودی سرکار بھارتی فضائیہ کی اس بھونڈی کارروائی کو انتخابی مہم میں استعمال کرکے اپنے ووٹ بینک میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ مودی کی اس گھناؤنی سازش سے تب پردہ اُٹھا جب خود بی جے پی کے رہنما نے بیان دیا کہ پاکستان پر حملے کے بعد ہم الیکشن میں 22 سیٹیں زیادہ جیتیں گے، جس نے مودی سرکاری کی گھناؤنی سازش کو مزید بے نقاب کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک کے صدر اور اپوزیشن لیڈر بی ایس یدی پورپا نے جوش خطابت میں اپنے وزیراعظم کی مذموم سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت دراصل الیکشن جیتنے کی منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔ بی جے پی کرناٹک کے صدر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش سے نوجوانوں کے جذبات بھڑک اُٹھے ہیں اور یہ جذبات لوک سبھا الیکشن میں ہمارے ووٹرز میں تبدیل ہوجائیں گے، اس طرح کرناٹک کی 28 میں سے 22 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

بھارت سرکار کی اس گھناؤنی سازش پر بھارت کے اپنے عوام اور بھارتی ایوانوں میں موجود اپوزیشن نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ مودی سرکاری جس دعوے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا رہی ہے، اُس سے متعلق ایک تصویر بھی بطور ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے، جب کہ دوسری وجہ یہ بھی بیان کی جارہی ہے کہ اس وقت عالمی عدالت میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا کیس چل رہا ہے جسے محفوظ کردیا گیا ہے۔ اس لیے بھارت اس کیس کو کمزور کرنے کےلیے پاکستان کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔ لیکن پاک فوج کے جوانوں نے اس سازش کو بری طرح ناکام بنا دیا۔

اس کے علاوہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کی باتیں ہورہی ہیں جس میں انڈیا، پاکستان کے خلاف مسلسل سازش میں مصروف ہے تاکہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈال کر پاکستان پر معاشی پابندیاں عائد کردی جائیں۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …