پیر , 17 مئی 2021

جنگ کی ریہرسل

(ظہیر اختر بیدری)

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جوکچھ ہوا اور ہو رہا ہے، اسے ہم جنگ تو نہیں کہہ سکتے، البتہ جنگ کی ریہرسل ضرور کہہ سکتے ہیں۔اس حوالے سے میڈیا میں جو کچھ آرہا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کا ایک مگ طیارہ گرایا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کرلیا۔ بھارتی جنگی ہوائی جہاز پاکستان کی سرحدوں کے اندر کئی کلومیٹر تک آئے اور چلے گئے۔

اس جنگی ریہرسل میں کس کا کتنا نقصان ہوا اس کے بارے میں درست جانکاری بہرحال نہیں مل سکتی کہ جنگ کے فریقین سارا سچ اس لیے نہیں بتاتے کہ یہ جنگی اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ فرض کرلیں کہ جو کچھ معلومات ملیں وہ بھی قابل مذمت اس لیے ہیں کہ جنگ خواہ وہ کتنے ہی چھوٹے پیمانہ پر لڑی جائے وہ جنگ ہی ہوتی ہے اور فریقین جنگ میں نقصان کا سہرا اپنے سر باندھنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے ۔

یہ ہندوستان کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ انھیں مودی کے روپ میں ایک ٹرمپ مل گیا ہے، جوکشمیری عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد طاقت کے ذریعے کشمیری عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا آرہا ہے ۔ مودی نے جنگ کے لیے جس بہانے کا انتخاب کیا ہے اس میں بھی مودی اس لیے کامیاب نہیں ہوسکا کہ دہشتگردی اب مقامی یا علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی عالمی بیماری ہے جو عموماً جنگ پسندوں کو لگ جاتی ہے ۔ مودی کا ماضی خون میں رنگا ہوا ہے۔

مودی کی وجہ شہرت گجرات کا وہ قتل عام ہے جو بھارت کے حساس شاعروں کی شاعری کا موضوع بن گیا۔ بھارت ہی کے ایک شاعر نے ’’ماں‘‘ کے عنوان سے جو شعر کہے ہیں وہ پتھر دل لوگوں کی آنکھوں میں آنسو لے آتے ہیں، اس سے قبل بھارتی ریاست گجرات میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام پر جس کا سو فیصد ذمے دار مودی ہے ہندوستان کے شعرا نے مودی کی مذمت میں جو شاعری کی ہے وہ سخت مذمتی شاعری ہے۔ یوں مودی کا نام اس خطے میں ایک انتہا پسندی کی علامت بن گیا تھا۔ اتنی ذلت کے بعد بھی مودی کا پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی کے جسم میں ہلاکو اور چنگیز کی روح موجود ہے۔

دنیا میں آج تک جتنی جنگیں لڑی گئی ہیں، ان کا نتیجہ بے گناہ انسانوں کے خون ہی کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے لیکن انسانوں کی پوری تاریخ انسان کو دیے گئے اس مہذب خطاب کی نفی کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ انسان جنگل کے درندوں سے بہت بڑا درندہ ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ غریب ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے مودی کا ہر کام فتنہ انگیز ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں عوام ایسے شخص کو اپنا سربراہ چنتے ہیں جو انسانوں کی بھلائی چاہتا ہے لیکن یہ بات حیرت انگیز ہے کہ بھارتی عوام نے ایک ایسے لیڈر کو اپنا سربراہ چنا جس کا ماضی انسانی خون سے تربتر ہے۔ دنیا میں جو اصل لڑائی ہے وہ طبقاتی استحصال کی لڑائی ہے۔ مودی کا تعلق اس طبقے سے ہے جس کا ہمیشہ اشرافیہ نے استحصال کیا ہے۔ یہ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا مودی غریبوں کا خون بہا رہا ہے۔

پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موقف ہمیشہ تعمیری اور مثبت رہا ہے اس بار بھی وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے انتہائی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے گرائے گئے طیارے کے پائلٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران کے اس فیصلے کا ہندوستان اور پاکستان کی سرکردہ شخصیتوں نے خیر مقدم کرتے ہوئے، اس خیال کا اظہارکیا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی امن کی خواہش کا غماز ہے۔

یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہہ کر فخر کرنے والی بھارتی حکومت کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے انتہائی غیر جمہوری رویہ کیوں اپنا رہی ہے؟ یہ بات بھارتی حکمران 1948ء سے اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کشمیر میں رائے شماری ہو تو کشمیری عوام پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے، یہی وہ خوف ہے جو بھارت کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے روکتا ہے لیکن بھارتی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ جن دہشتگردوں کے حوالے سے پاکستان پر الزام لگاتی آرہی ہے وہ دہشتگرد ستر ہزار پاکستانیوں کا خون بہا چکے ہیں۔

مذہبی انتہا پسندی کو کسی ایک ملک سے نتھی کرنا بہت زیادتی ہے کیونکہ دہشتگرد بے شمار دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر دھڑے کا اپنا ایک منشور ہے۔ افغانستان میں بھی دہشتگرد اپنے ہی ہم وطنوں اور ہم مذہب والوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ایسی پیچیدہ صورتحال میں پاکستان پر دہشتگردوں کی مدد کرنے کا الزام غیر منطقی ہی نظر آتا ہے۔

بھارت پاکستان سے 5 گنا زیادہ طاقت کا مالک ہے، اگر روایتی ہتھیاروں سے جنگ لڑی جائے تو یقینا بھارت کا پلہ بھاری رہے گا۔ یہی وہ صورتحال ہے جو ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا کرتی ہے اور ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں کا اندازہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما پر گرائے گئے صرف دو ایٹم بموں سے ہوسکتا ہے۔ اگر دنیا کے حکمران طبقے خصوصاً متحارب ممالک کے حکمران 1945ء کے المناک المیے کو نظر میں رکھیں تو منطقی طور پر اپنے اپنے حل طلب مسائل کو پرامن طریقے سے وقت ضایع کیے بغیر اپنے اپنے مسائل پرامن طریقے سے حل کرنے کی طرف آئیں گے۔ بھارت کے نامعقول حکمران اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان بھرپور جنگ کا آغاز ہوتا ہے تو اس جنگ میں لازمی طور پر ایٹمی ہتھیار استعمال ہوں گے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو دونوں ملکوں کے بے گناہ عوام کا کتنا بھاری جانی نقصان ہو سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان جنگی فضا کے برقرار رہنے کی اور کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے اہل علم، اہل دانش خاص طور پر میڈیا نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو انھیں ادا کرنا چاہیے تھا ، یعنی اخلاقی پریشر اتنا شدید ہونا چاہیے تھا کہ جنگ پسند اور ہٹ دھرم حکمران طبقہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر مجبور ہو جاتا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے بھارتی قیدی کو رہا کرکے اور بار بار مذاکرات کی دعوت دے کر بھارتی حکمرانوں پر اخلاقی فتح تو حاصل کرلی ہے۔ اب یہ مودی اینڈ کمپنی کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کی پیش کشوں کو قبول کرکے کشمیر کا تنازعہ حل کرنے کی طرف پیشرفت کرے۔

یہ بھی دیکھیں

اچانک گنگا الٹی بہنے لگی؟

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس …