ہفتہ , 8 مئی 2021

ڈار، وانی اور نیکو نے بندوق کیوں اٹھائی؟

پلوامہ میں 14 فروری کو خودکش حملہ پاکستان اور انڈیا کو جنگ کے دہانے پر لے آیا۔ یہ حملہ جموں اور سرینگر کی ہائی وے پر ہوا، اس جگہ سے 20 سالہ حملہ آور عادل ڈار کا گھر صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

کاک پورہ گاؤں میں اپنے گھر سے ایک برس قبل بھاگ جانے کے بعد عادل ڈار جیش محمد میں شامل ہو گئے اور بندوق اٹھا لی۔ عادل ڈار کا گھر دو منزلہ ہے جہاں ان کے گھر والے پہلی منزل پر رہتے ہیں۔ یہ کسانوں کا خاندان ہے۔ عادل ڈار کے والد غلام حسن ڈار نے کہا کہ اب کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، وہ جان ومال کو لاحق خطرات سمیت ہر خوف سے آزاد ہو چکے ہیں، اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں، کوئی نہ کوئی کشمیری نوجوان ہر روز زندگی سے محروم ہو کر موت کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہےؕ

غلام حسن ڈار نے کہا کہ میں تنازع کشمیر کے فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات شروع کریں، یہ لوگ میری بات پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر جنگ کے بعد بھی مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑے گا، جب تک مسئلہ کشمیر پر کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا ہمارے نوجوان لہو میں ڈوبے رہیں گے ، آج یہ میرے بیٹے کے ساتھ ہوا، کل یہی کسی اور کی اولاد کے ساتھ ہو گا، کشمیر کے نوجوان میرے بیٹے کی قربانی سے متاثر ہو کر آزادی کیلئے بندوق اٹھا لیں گے، یہ ان بچوں کے مرنے کی عمر ہرگز نہیں ہے، اب یہ خونیں باب بند ہو جانا چاہیے اور ہمارے بچوں کو زندہ رہنے کا موقع ملنا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ جائزہ لے کہ آخر کشمیری نوجوان بندوق اٹھانے پر کیوں مجبور ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میری دانست میں عمران خان کی بات میں وزن اور معقولیت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں کسی نے اس بات پر توجہ دینے کی زحمت کی؟

غلام حسن کا کہنا تھا کہ 18 سے 25 سال تک عمر کے کشمیری نوجوان تیزی سے مسلح جدوجہد کا حصہ بنتے جارہے ہیں، پہلے وہ ذہنی اور قلبی طور پر اس جدوجہد اور شہادت پانے والے اپنے ہم عمر نوجوانوں سے متاثر ہوتے ہیں، پھر ان کے ہاتھوں میں بندوقیں آ جاتی ہیں، 20سالہ عادل ڈار کے والد نے بتایا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے 2016 کے دوران پہلی مرتبہ میرے بیٹے کو پکڑ کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے دادا اور دادی سے ملاقات کے بعد‘‘ نیوا ’’ نامی قریبی گائوں سے گھر واپس آرہا تھا۔

بھارتی فوج کے ظلم کا ایسا ہی دوسرا واقعہ 2017 میں پیش آیا، بھارتی فوجی اہلکاروں نے عادل ڈار کو گرفتار کرنے کے بعد اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کی اہانت بھی کی، غلام حسن ڈار نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے طاقت کے زور پر میرے بیٹے کو سڑک پر ناک رگڑنے پر مجبور کیا، اس ظلم کا شکار ہونے کے بعد جب عادل گھر پہنچا تو اس کے جسم پر کئی زخم تھے جن سے خون بہہ رہا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ مجھ پر جو تشدد ہوا اور بھارتی فوجیوں نے میری جو تضحیک کی اسے برداشت کرکے زندہ رہنے کی نسبت تو مر جانا ہی بہتر ہے۔

غلام حسن ڈار نے کہا کہ مجھ سمیت گھر کے تمام افراد نے عادل کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ اس پر جو ظلم ہوا اسے دل پر نہ لے، کیونکہ بھارتی فوجیوں کو مظالم کرنے سے روکنا ان کے بس کی بات نہیں ہے لیکن عادل ایسی کوئی بات سننے پر رضامند ہی نہیں تھا، اس نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ‘‘ میں ہر قیمت پر آزادی چاہتا ہوں، آزادی کیلئے میں اپنی جان بھی قربان کردوں گا’’۔

غلام حسن ڈار نے سوال اٹھایا کہ مجھے بتائیے کہ ایک باپ کی حیثیت سے میں کیا کروں؟ کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں ہر دوسرے روز بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار نوجوانوں کو وحشیانہ مظالم اور اہانت کا نشانہ بناتے ہیں، جب ہمارے بچے اپنے گھروں سے باہر جاتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دوسرے کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں وحشیانہ مظالم اور اذیت ناک اہانت کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان پر شدید ردعمل ہوتا ہے، ان کے دل کی گہرائیوں سے یہی صدا بلند ہوتی ہے کہ اٹھو اور شمع آزادی پر اپنی جان قربان کر دو۔

مقبوضہ کشمیرمیں واقع شریف آباد وہ علاقہ ہے جہاں برہان الدین وانی اپنے خاندان کے ساتھ رہا کرتا تھا، 2016 میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ ایک مقابلے میں وہ شہید ہو گیا تھا، اس کے فوری بعد پوری وادی میں نہ صرف یہ کہ شدید بے چینی پھیل گئی تھی بلکہ آزادی کشمیر کیلئے مسلح جدوجہد کو بہت بڑے پیمانے پر فروغ ملا تھا، برہان وانی کی شہادت سے کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں میں ایک جذبہ تازہ پیدا ہوگیا تھا جس کا مظاہرہ اب بھی کسی نہ کسی صورت ہوتا رہتا ہے۔

برہان کے والد مظفر احمد وانی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ ریاضی کے استاد ہیں اور اب بھی اپنے خاندان کے ساتھ اسی گائوں میں رہتے ہیں، مظفر وانی نے پہلے تو گفتگو سے گریز کرنے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ پوری وادی میں صورتحال انتہائی مخدوش اور دھماکہ خیز ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ میں اپنے دو جوان بیٹوں کو قربان کر چکا ہوں، ذرائع ابلاغ کے نمائندے اکثر میرے پاس آجاتے ہیں، مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک مرتبہ پھر میرے دروازے پر دستک دیں گے ، میں ایسا نہیں چاہتا کیونکہ اب میں اپنے خاندان کے ساتھ زندگی کی گاڑی کو کھینچنے پر پوری توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔

مظفر احمد وانی نے جو ایک سرکاری سکول کے پرنسپل ہیں، زور دے کر کہا کہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کیلئے حل کرنا بے حد ضروری ہو گیا ہے ، حکومت کو چاہیے کہ اب اس معاملے کو طول دینے کی کوشش ہرگز نہ کرے، بھارتی حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام سے مذاکرات کرے، کشمیر کو محض ووٹ بینک سمجھنا بہت بڑی غلطی ہو گی۔ مظفر احمد وانی نے کہا کون سے والدین اپنے بچوں کی بہتری نہیں چاہتے؟ کون سے ماں باپ نہیں چاہتے کہ ان کابیٹا اچھی تعلیم حاصل کرے، اسے اچھی ملازمت ملے اور وہ اطمینان کے ساتھ باوقار زندگی بسر کرے۔
انہوں نے انتہائی غمناک لہجے میں کہا کہ میری خواہش تھی کہ میرا بڑا بیٹا معاشیات میں پی ایچ ڈی کرے لیکن یہ میری بد نصیبی تھی کہ وہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں نشانہ بن گیا، اسی طرح میں چاہتا تھا کہ چھوٹا افسر بن جائے لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ میرے نصیب میں تو دونوں ہونہار بیٹوں سے محرومی لکھی تھی۔

مظفر احمد وانی نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان اس وقت حالات کے دبائو کی وجہ سے اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں، ہماری نسل تو بڑی حد تک ہچکچاہٹ اور شاید کم حوصلگی کا شکار تھی لیکن اس کے برعکس کشمیریوں کی موجودہ نسل بے خوف اور پراعتماد ہے، ہماری نئی نسل اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر انہوں نے اسلحہ اٹھایا تو جلد یا بدیر بھارتی سکیورٹی فورسز انہیں ہلاک کر دیں گی، اس کے باوجود وہ کشمیر کی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد میں شریک ہونے کیلئے ہر وقت بے تاب رہتے ہیں، یہ بہت خطرناک رجحان ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کو حل کرنے کی خاطر پاکستان اور بھارت کو بلا تاخیر بات چیت شروع کرنی چاہئے اور ان مذکرات کی بنیاد ‘‘ انسانیت’’ ہونی چاہئے، مظفر وانی نے کہا کہ حال ہی میں جب پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کیا تو ہمیں بہت اطمینان ہوا تھا، پاکستان کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت تھا کہ انسانیت ابھی فنا نہیں ہوئی بلکہ زندہ ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی کشمیر میں سب سے زیادہ متحرک حزب المجاہدین ہے جس کی قیادت 33 سالہ ریاض نیکو کے ہاتھ میں ہے جو ہمیشہ ایک استاد رہا ہے۔ نیکو کا تعلق پلوامہ کے گاؤں بیگ پورہ سے ہے، سات برس قبل ریاضی میں اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد نیکو نے ہتھیار اٹھا لیا ۔ریاض نیکو کے اہل خانہ نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ گھر میں جلدی یا دیر سے نیکو کی لاش ہی آئے گی۔

نیکو کے والد اسداللہ نیکو کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی انکاؤنٹر ہوتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا مرنے والوں میں شامل ہو گا۔ جب ان سے علیحدگی پسند تحریک کی حمایت اور بحیثیت والد ان کے جذبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ‘بحیثیت مسلمان یہ فخر کی بات ہے، ہم یہ نہیں گے کہ یہ غلط ہے، اگر وہ منشیات یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتا تو ہمارا نام بدنام ہوتا لیکن ہمیں اس بات کا سکون ہے کہ وہ صحیح کام کر رہا ہے۔’بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …