بدھ , 12 مئی 2021

ٹرمپ کی صدارتی مہم کے سابق سربراہ کو 47ماہ قید کی سزا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ صدارتی مہم کے سربراہ پال مینا فورٹ کو ٹیکس چوری اور بینک فراڈ پر 47ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق مینا فورٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال یوکرین کے سیاستدانوں سے مشاورت کے دوران حاصل ہونے والی لاکھوں ڈالر کی آمدنی چھپائی اور ان پر یہ جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایک اور مقدمے میں بھی سزا سنائے جانے کا امکان ہے جہاں کولمبیا ڈسٹرکٹ میں چل رہے ایک علیحدہ مقدمے میں ان پر غیرقانونی طور پر لابی کرنے کا الزام ہے۔

جج ٹی ایس ایلس کی جانب سے سزا سنائے جانے سے قبل مینافورٹ نے کہا کہ یہ کہنا انتہائی کم ہو گا کہ میں انتہائی شرمندہ ہوں تاہم انہوں نے اپنے عمل پر کوئی معافی نہیں مانگی اور جج نے سزا سانتے ہوئے اس عمل کو مدنظر رکھا۔مینافورٹ نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کو چلایا تھا اور اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بعدازاں 2016 انتخابات میں مبینہ طور پر روس کی مداخلت کی تحقیقات شروع ہوئیں تو اس دوران مینافورٹ کی جعل سازی کا پردہ فاش ہوا اور وہ مولر تحقیقات میں ٹرمپ کے پہلے ساتھی ہیں جنہیں سزا ہوئی ہے۔تاہم ان پر یہ الزامات صدارتی مہم کے سلسلے میں نہیں لگائے گئے بلکہ گزشتہ سال جیوری نے ان پر فرد جرم عائد کی تھی جہاں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے یوکرین میں کام کے دوران حاصل ہونے والی لاکھوں ڈالر کی آمدنی چھپائی۔

مینافورٹ کے وکیل نے اپنے موکل کے دفاع میں کہا کہ اس جرم میں ایک سال سے زیادہ کی سزا کی مثال نہیں ملتی جبکہ پراسیکیوٹر نے اس عمل کو بڑا جرم قرار دیتے ہوئے سزا کی مدت پر وکیل دفاع سے اتفاق کیا۔

عدالت کے باہر مینافورٹ کے وکیل کیون ڈاؤننگ نے کہا کہ ان کے موکل نے اپنے عمل کی ذمے داری قبول کی لیکن اس بات کے یکسر کوئی ثبوت نہیں ملے کہ وہ روس کی حکومت کے ساتھ مل کر کوئی سازش کر رہے تھے اور اگر مقدمہ صرف اس بات پر ہوتا تو ان کے موکل باعزت رہا ہو جاتے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …