پیر , 10 مئی 2021

خواتین کا عالمی دن

(ڈاکٹر توصیف احمد خان)

Balance for Better، بہتری کے لیے توازن۔ 8مارچ کو دنیا بھر میں منائے جانے والے خواتین کے دن کا موضوع تھا۔ مردوں اور عورتوں کے درمیان خاندان، برادری اورریاست کے یکساں سلوک سے ہی خواتین کی پسماندگی دور ہوسکتی ہے۔ اسی طرح غربت کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی شرح صفر تک پہنچ سکتی ہے۔

2017ء میں ملک میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 49 فیصد خواتین پر مشتمل ہے۔ ملک کی آبادی کا 40 فیصد غربت کے خط کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور آبادی کا یہ حصہ بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔

دراصل 8مارچ 1907ء کو امریکا کے شہر نیویارک میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں 10 گھنٹے روزانہ کام کرنے والی خواتین نے اوقات کار کم کرنے کے لیے مظاہرہ کیا تھا۔ ان خواتین کا مطالبہ تھا کہ انھیں مردوں کے برابر حقوق دیے جائیں ۔ پولیس نے ان خواتین پر بیہمانہ تشدد کیا ۔ مظاہرہ کرنے والی خواتین کے خلاف گھڑسوار دستوں کو استعمال کیا گیا ۔ نیویارک پولیس نے مظاہرہ کرنے والی خواتین کو گرفتار کیا۔
اس واقعے کے بعد یورپی ممالک میں ہر سال عالمی کانفرنس برائے خواتین کا انعقاد ہونے لگا۔ سب سے پہلے 1909ء میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکا نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظورکی۔ 1913ء تک ہر سال فروری کے آخری اتوارکو عورتوں کا دن منایا جاتا تھا۔ پھر 1913ء میں پہلی دفعہ روس میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔

پہلی سوشلسٹ ریاست سوویت یونین نے سرکاری طور پر 8 مارچ کو خواتین کا قومی دن قرار دیا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 3کے تحت ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ ریاست کی ذمے داری ہے مگر خواتین دہرے استحصال کا شکار ہیں۔ پاکستان کے بیشتر خاندانوں میں خواتین کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس روایت پر ریاستی اداروں اور غیر ریاستی اداروں میں یکساں طور پر عمل ہوتا ہے۔

دیہاتوں میں خواتین کو مردوں سے کم خوراک ملتی ہے۔ ان کے لیے علاج اور تفریحی سہولتوں کا تصور نہیں ہے، جو خواتین زرعی مزدورکی حیثیت سے کام کرتی ہیں ، انھیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے۔ ان خواتین کو جاگیر داروں، ان کے گماشتوں اور پولیس اہلکاروں کے جنسی استحصال کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے۔ شہروں میں نچلے اور متوسط طبقے میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ اگرچہ متوسط طبقے میں خواتین کی مردوں کے برابر حیثیت کے تناظر میں شعور بلند ہوا ہے مگر شہروں میں اب بھی ایسے خاندانوں کی تعداد ان گنت ہے جہاں خواتین کو معاشی آزادی میسر نہیں۔

ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ انھیں خرچ کرنے کے لیے شوہرکوئی رقم نہیں دیتا ہے۔ شوہر کے والد تمام حساب کتاب رکھتے تھے مگر پھر خرچ کا ذمے دار شوہر کے چھوٹے بھائی ہوئے۔ بھائی کے انتقال کے بعد اب میرا بیٹا تمام حساب کتاب رکھتا ہے۔ مجھے اپنی ضرورت کے لیے اپنے بیٹے سے التجاء کرنی پڑتی ہے۔ پاکستان میں خواتین کو طلاق کا حق حاصل نہیں ہے۔ خواتین کو ورثے میں ملنے والی جائیداد میں حصہ نہ دینا عام سی بات ہے۔ خواتین پسند سے اپنے شریک حیات کا انتخاب بھی نہیں کرسکتیں۔ اسی طرح خواتین کے تعلیم حاصل کرنے اور پیشے کے انتخاب کی بھی مکمل آزادی نہیں ہے، جو خواتین کام کرتی ہیں،انھیں شادی کے لیے شوہرکی تلاش میں مشکل ہوتی ہے،خاص طور پرکارخانوں میں کام کرنے والی لڑکیوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کم اجرت کے ساتھ ساتھ انھیں بار بار اپنے کردارکے بارے میں بھی صفائیاں دینی پڑتی ہیں۔ دیہی کلچر میں کاروکاری کی رسم کی جڑیں گہری ہیں۔کاروکاری کے موضوع پر تحقیق کرنے والی سعدیہ بلوچ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ بالائی سندھ میں فصل کٹنے کے ساتھ عورتوں کی گردن کاٹنے کا سیزن شروع ہوتا ہے۔ مرد اپنے کسی دشمن کو قتل کرنے کے لیے اپنی بیوی، بہن ، بیٹی یا ماں کو قتل کردیتے ہیں۔ پھر قتل ہونے والی عورتوں کے وارث قاتل کے قریبی عزیز ہوتے ہیں۔ یوں ورثاء کچھ عرصے بعد اپنی بہن، بیٹی یا ماں کے قاتل کو جو ان کا باپ یا بھائی ہوتا ہے معاف کردیتے ہیں۔

اسی طرح عورتوں کو سرعام قتل کرنے والے قاتل قتل کی واردات کے کچھ دنوں بعد باعزت رہا ہوجاتے ہیں۔ آج بھی شہروں اور گاؤں میں لڑکی کا پسند کی شادی کے حق کو استعمال کرنا، لڑکی اور اس کے شوہر کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اخبارات میں شایع ہونے والی خبروں کے دقیق مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ پسند کی شادی ایسا خطرناک سماجی جرم ہے کہ لڑکی یا لڑکے کے لواحقین پانچ پانچ سال بعد لڑکی اور لڑکے کو قتل کردیتے ہیں۔ اس طرح کے قتل میں جرگوں کے فیصلے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

جرگہ سسٹم کا خواتین کے حقوق کی پامالی میں اہم کردار ہے۔ جرگہ میں خواتین کو نمایندگی کا حق حاصل نہیں ہے۔ جرگہ کے فیصلے کے نظام میں بڑے سرداروں اور جاگیرداروں کا کردار ہوتا ہے۔ مرد جرگہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہوتے ہیں۔ خواتین ان فیصلوں کی زد میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اور انھیں گاؤں سے نکال دیا جاتا ہے۔ ان کی برادری ان کا سماجی بائیکاٹ کرتی ہے۔

خواتین کے حقوق کی جدوجہد کا محور شہر ہیں مگر کراچی شہر میں بھی جرگہ کے فیصلے کے تحت عورتوں کو کاری قرار دے کر یا پسند کی شادی کے جرم میں قتل کردیا جاتا ہے۔ اگرچہ اعلیٰ عدالتوں نے جرگہ کے انعقاد کو غیر قانونی قرار دیا ہے مگر سندھ کے مختلف علاقوں میں جرگے منعقد ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے سردار یا جاگیردار وزراء، اراکین اسمبلی، پولیس اور انتظامیہ کے افسران جرگوں میں شرکت کرتے ہیں۔ جب کبھی ذرایع ابلاغ پر ایسے غیر قانونی جرگوں کی خبریں شایع ہوتی ہیں تو بااثر افراد مختلف نوعیت کے جواز بنا کر جرگہ میں شرکت کے الزام سے انکار کردیتے ہیں۔

پاکستان میں مرد اور عورت کو ملنے والی اجرتوں اور مراعات میں گہرا فرق پایا جاتا ہے۔ سرکاری شعبہ میں یہ فرق موجود نہیں ہے مگر غیر سرکاری شعبہ میں عورتوں کو مردوںکے مقابلے میں کم تنخواہیں اور مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ نجی شعبہ میں اب بھی 12 ، 12گھنٹے کام، ہفت روزہ تعطیل اور سالانہ چھٹیوں، بچے کی پیدائش کے وقت قانونی چھٹیوں کا حصول ممکن نہیں ہوتا ۔ پھر نجی شعبہ کے آجر شادی شدہ خواتین کو ملازمتیں دینے کو اپنے مفاد کے خلاف جانتے ہیں۔ کام کی جگہوں پر خواتین کے لیے بیت الخلاء، آرام کرنے کے کمرے، بے بی سیٹنگ روم کی سہولتیں موجود نہیں ہوتیں ۔ خواتین کی کام کی جگہوں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں بھی کمی نہیں ہوتی ہے۔

مرد خواہ وہ باس ہو یا ساتھی اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین کو جنسی آسودگی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ فقرے بازی، جسم کو چھونا خواتین کی زندگی اجیرن کردیتی ہے۔ خواتین ملازمت کے تحفظ اور غربت کی خاطر خاموش رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کے تدارک کے لیے جامع قانون سازی ہوئی ہے۔ اس قانون کے تحت بعض افراد کو سزائیں ہوئی ہیں مگر اس قانون کے بارے میں لاعلمی اور سماجی دباؤ کی بناء پر صورتحال بہت زیادہ بہتر نہیں ہے۔

جنرل ضیاء الحق کا دور خواتین کی حیثیت کو کمزور کرنے کا دور تھا۔ اس دور میں نافذ ہونے والے متنازعہ قوانین نے خواتین کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں خواتین کی حیثیت مردوں کے برابر لانے کے لیے کئی قوانین نافذ کیے گئے۔ ان قوانین میں سندھ میں کمسن بچیوں کی شادی پر پابندیاں، کام کی جگہوں پر جنسی ہراسگی کا تدارک، گھر میں تشدد، کاروکاری اور دیگر فرسودہ رسموں کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے قانون سازی ہوئی۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دوسرے دور حکومت میں پنجاب میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے ایک جامع قانون نافذ ہوا مگر مذہبی جماعتوں نے ان قوانین کے نفاذ کے خلاف زبردست مزاحمت کی، یوں یہ قوانین نافذ تو ہوئے مگر ان پر عملدرآمد نہ ہوسکا جس کی بناء پر خواتین کے حالات کار میں کوئی خاطرخواہ تبدیلی نہیں آئی۔ خواتین کے خود مختار ہونے کے تصورکے خلاف جاگیردار اور محدود سوچ رکھنے والے گروہوں کی مزاحمت سے ان قوانین سے مطلوبہ توقعات حاصل نہ ہوسکیں۔ یوں خواتین کی پسماندگی دور نہ ہوسکی جس کا نقصان پورے ملک کو ہوا ۔ 8 مارچ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خواتین اور مردوں کے درمیان برابری اور بہتری کے لیے تعاون پیدا کیا جائے تاکہ ترقی کا عمل تیز ہو۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …