ہفتہ , 8 مئی 2021

کالعدم تنظیموں کیخلاف کریک ڈاؤن اچھا اقدام

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

وہ قومیں جو اپنے رویوں اور متعین کردہ اہداف میں ناکامی کے اسباب پر غور نہیں کرتیں، ان کی عمر ایک صدی سے زیادہ نہیں ہوا کرتی، کیونکہ وہ اقوام دیگر پھلتی پھولتی تہذیبوں اور ثقافتوں کا ملغوبہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ ایسے سماج یا اقوام پر ہمیشہ کسی نہ کسی طرح بیرونی دبائو رہتا ہے۔ ہمیں اس امر کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ ملکوں کے مفادات ہوتے ہیں اور انہی مفادات کے تحت ان کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ترتیب دی جاتی ہیں۔ کسی ملک میں اگر لانگ ٹرم خارجہ پالیسی ترتیب دی جائے تو اس پالیسی کے اثرات بھی دیرپا ہوتے ہیں، ہماری کم نصیبی مگر یہ رہی کہ حکومتوں کے ساتھ ہی پالیسیاں بھی بدل جاتی ہیں۔ کالعدم تنظیمیں کیا ہیں؟ اور ان کے مقاصد کیا ہوتے ہیں؟ ریاست نے انہیں مرحلہ وار کیوں کالعدم کیا؟ اس سے بھی اہم تر سوال یہ ہے کہ ریاست نے ان شدت پسند تنظیموں کو اپنے اپنے نیٹ ورک وسیع تر کرنے کی اجازت ہی کیوں دی؟ کہ اب خود ریاست کو ان تنظیموں کے حوالے سے ندامت اور مزاحمت کا سامنا بھی ہے۔

غالباً 1997ء میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں ملوث تنظیموں میں سے چند کو پہلی بار کالعدم قرار دیا گیا۔ یہ فرقہ وارانہ تنظیمیں جو کالعدم قرار پائیں، زیادہ تر تکفیری رویوں کی حامل تھیں۔ بعد میں جب سابق جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا اور ان کے اقتدار کے ایک ڈیڑھ سال بعد نائن الیون کا واقعہ پیش آیا تو پاکستان پر بھی دبائو بڑھا۔ کیونکہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد القاعدہ کے اسامہ بن لادن افغانستان میں تھے اور افغان طالبان کے لیے پاکستان میں ایک بڑا غیر ریاستی گروہ شدید تر ہمدردی کے جذبات رکھتا تھا۔ انہی جذبات کے زیر اثر کالعدم شریعت محمدی کے رہنما صوفی محمد لٹھ بردار نوجوانوں کا ایک گروہ لے کر "جہاد” کرنے چلے گئے تھے۔ صوفی محمد تو بچ گئے لیکن ساتھ جانے والے امریکی بمباری کا شکار ہوئے۔ یہی وہ حالات اور ایام تھے، جب پاکستان پر اس جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود دبائو تھا کہ داخلی طور پر طالبان کے ہمدردوں کو روکا جائے۔

بے شمار تنظیمیں جو جہادی مائنڈ سیٹ رکھتی تھیں یا جو فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث تھیں، انھیں مرحلہ وار کالعدم کر دیا گیا۔ لیکن یہاں جو سب سے تکلیف دہ بات ہوتی آئی، وہ یہ کہ جس بھی جماعت یا تنظیم کو ریاست کی طرف سے کالعدم قرار دیا جاتا تھا، وہ نئے نام سے رجسٹرڈ ہو کر پھر سے اپنی "علت” پوری کرنے میں لگ جاتی تھیں۔ کئی مثالیں موجود ہیں، مثلاً سپاہ صحابہ، لشکر جھگوی، لشکر جھگوی العالمی، لشکر طیبہ، اہل سنت والجماعت، یہ بہ ظاہر ایک ہی فکری رویے کا حامل گروہ ہے، مگر جیسے ہی کالعدم قرار پایا تو نئے نام سے رجسٹرڈ، پھر نیا نام کالعدم ہوا تو پھر سے نئے نام کے ساتھ رجسٹرڈ۔ اسی طرح گلگت بلتستان کی بھی کچھ شیعہ طلباء تنظیمیں جب کالعدم ہوئیں تو انھوں نے بھی نئے ناموں کے ساتھ رجسٹریشن کروا کر فرقہ وارانہ دفاع جاری رکھا۔

ریاست تنظیموں کو کالعدم تو قرار دیتی رہی، مگر اس حوالے سے غفلت برتی گئی کہ جن تنظیموں کو کالعدم قرار دیا جا رہا ہے، یہ تنظیمیں نئے نام سے رجسٹرڈ نہ ہو پائیں، یا اپنی قیادت بدل کر اپنی روش پر گامزن نہ رہیں۔ لشکر طیبہ کو جب کالعدم قرار دیا گیا تو اس تنظیم نے فوری طور پر جماعۃ الدعوہ کے نام سے رجسٹریشن کرا لی، یہی نہیں بلکہ اپنی جارحانہ سرگرمیوں پر، انسانی خدمت کا غلاف چڑھانے کے لیے "فلاح انسانیت فائونڈیشن” بھی بنا لی۔ سکولوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ پورے ملک میں مدارس کا جال بچھایا اور سماج کو نئے نام سے جال میں پھانسنا شروع کر دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں پاکستان کی قربانیاں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔ کوئی بھی دوسرا ملک، حتیٰ کہ امریکہ اور اس کے نیٹو ممالک کے اتحادی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں پاکستان کے برابر تو کیا، اس کا چوتھائی حصہ قربانیاں دی ہوں۔

جب کوئی ریاست اپنے 80 ہزار کے لگ بھگ شہری اور سکیورٹی فورسز کے جوان امن کے لیے قربان کرتی ہے اور اپنی معیشت کو بھی اس جنگ کی نذر کر دیتی ہے، تو پھر اس ریاست کی یہ آرزو عادلانہ ہے کہ دنیا اس کی امن کی کاوشوں اور قربانیوں کو سراہے۔ دنیا کو مگر اب بھی اگر شکوہ ہے تو یہی کہ کالعدم جیش محمد، کالعدم جماعۃ الدعوہ، الرشید ٹرسٹ، فلاح انسانیت ٹرسٹ وغیرہ دہشت گردی کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور ان کی ہمدرد ذیلی عسکری تنظیموں سے تو پاک فوج نے وطن عزیز کو پاک کیا ہے۔ لیکن جس ملک میں لگ بھگ 70 مذہبی جماعتیں اور لسانی تنظیمیں انتہا پسندی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے کالعدم قرار پائیں، اس ملک کے پالیسی سازوں اور امن پسندوں کے لیے داخلی سطح پر بے شک تکلیف دہ صورتحال پید ہو جاتی ہے۔

کسی تنظیم کو ریاست جب کالعدم قرار دیتی ہے تو اس کا صاف مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس تنظیم کی سرگرمیاں اس نوعیت کی ہیں، جو ریاستی مفادات سے ٹکرائو کھاتی ہیں اور سماج کے لیے سود مند نہیں ہیں۔ ہمارے لیے حافظ سعید، مولانا مسعود اظہر، یا کوئی بھی مدرسہ و فلاحی سکول اتنا اہم نہیں، جتنا پاکستان ہے۔ پاکستان کو ترقی و بلندی کے راستے پر لے کر چلنا ہے تو لازم ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے سربراہان کی نفسیاتی تھراپی بھی کرائی جائے۔ صرف جماعۃ الدعوہ اور جیش محمد ہی نہیں بلکہ جو جو تنظیمیں کالعدم ہیں، ان سب کے زیر انتظام چلنے والے مدارس اور "فلاحی اداروں، سکولنگ سسٹم” کو حکومت نہ صرف اپنے کنٹرول میں لے بلکہ نصاب کو بھی ری وزٹ کرے۔ بھارت اگرچہ اس بار عالمی سفارت کاری اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں ناکام رہا، بھارتی جارحیت کو بھی شکست ہوئی، لیکن عالمی مبصرین کا کہنا تو یہی ہے کہ جن تنظیموں پر حکومت نے اب پابندی لگائی یہ بالواسطہ عالمی دبائو کا نتیجہ ہے۔

سادہ بات یہی کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح اور مقاصد کے تحت عمل کیا جائے۔ تمام تر کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ اور اثاثے منجمد کیے جائیں، بلکہ بحق سرکار ضبط کر لیے جائیں۔ جو پاکستان دنیا میں امن کے قیام کے لیے مالی و جانی قربانیاں دے سکتا ہے، وہ پاکستان اپنے داخلی شرپسندوں کو بھی درست کرسکتا بلکہ درست کرکے دکھایا بھی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے یہ اصلاحی حراست کیا ہوتی ہے؟ اور جیسا کہ کالعدم تحریک طالبان اور اس کے حمایتیوں کے حوالے سے ایک مہم چلی تھی کہ انہیں قومی دھارے میں لایا جائے، اس حوالے سے ان شاء اللہ اگلے کالم میں ضرور لکھوں گا کہ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات و مضمرات کیا ہوں گے؟ نو اب مصطفیٰ شیفتہ یاد آتے ہیں۔

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوفِ فسادِ خلق سے نا گفتہ رہ گئے

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …