ہفتہ , 8 مئی 2021

کشمیر تو ہو گا ہی

(عبدالقادر حسن)

پاکستانیوں کے لیے جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے وہ کئی جنگیں لڑ چکے ہیں اور ان کی تباہ کاریوں سے بھی اچھی طرح واقف ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کے ملک کی ابتدا ہی کسی جنگ سے زیادہ ہولناک تباہی سے ہوئی تھی جس سے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے نتیجے میں پاکستان کی آزادی اور نئی مملکت شروع ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود پاکستانیوں نے اپنے آپ کو ایک نئی جنگ کے لیے تیار کر لیا تھا ۔

ہر پاکستانی کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ اب جنگ ہو ہی جائے اور کشمیر کے مسئلے کا جو بھی بننا ہے وہ بن ہی جائے لیکن وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ کشمیر کا مسئلہ قیام پاکستان سے اب تک جوں کا توں چلا آرہا ہے اور بھارت پاکستان کے درمیان تعلقات بھی دشمن ممالک جیسے تعلقات چلے آرہے ہیں۔پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جسے اس کے قیام کے ساتھ ہی جنگوں میں الجھا دیا گیا سب سے پہلے کشمیر کی جنگ اور آخری جنگ کارگل میں لڑی گئی۔

پاکستان کے اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران دونوں جانب سے جس طرح کی بیان بازی سامنے آرہی ہے اس سے ایک بات تو واضح ہو چکی ہے کہ پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت اس بات پر متفق ہے کہ بھارت کی جانب کسی قسم کی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا اور اس کی ایک جھلک بھارت دیکھ بھی چکا ہے۔

پاکستان میں اپوزیشن کا سیاسی کردار جو بھی ہو لیکن جب بات پاکستان کی ہوتی ہے تو پھر کوئی دوسری رائے نہیں ہوتی اور تمام جماعتیں ایک پرچم تلے متحد ہو جاتی ہیں جب کہ سرحد پار مودی سرکار کی اپوزیشن یہ سوالات اٹھا رہی ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم سچ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے اور وہ ملک کو غلط سمت میں دھکیل رہے ہیں ۔

بھارت میں عام انتخابات قریب ہیں اور مودی سرکار کسی بھی قیمت پر آیندہ انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانا چاہتی ہے جس کے لیے ان کے پاس واحد ہتھیار پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا ہے اور مودی سرکار نے اس کا استعمال کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے لیکن ابھی تک وہ اس میں ناکام نظر آتے ہیں ۔

پاکستان کی بات کی جائے تو ہمارے ہاں بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو خاصی اونچی آو از میں بھارت کی بولی بولنے کی کوشش کرتا ہے ۔یہ وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں روس کی شرمناک شکست اور پھر اس کی پوری شکست و ریخت کے زخموں سے چور چور ہو گئے تھے ۔ اب ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں جو بھارت کے براہ راست حامی ہیں لیکن وہ بھارت کی محبت میں شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں میں جذبہ جہاد سے سرشار لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

پاکستان میں موجود یہ کم ہمت یا بد نیت لوگ ان دنوں بڑے حساب کتاب لگا رہے ہیں کہ بھارت کی فوجی طاقت پاکستان سے اتنی زیادہ ہے اور اس کی اقتصادی پوزیشن پاکستان کے مقابلے میں اتنی بہتر ہے ۔ دونوں باتوںمیں کوئی شک نہیں ہے ۔ دونوں شعبوں میں بھارت کی برتری ہم سب پر واضح ہے اور یہ کوئی انکشاف نہیں کہ ’’کتنے ہی کم تعداد والے لوگ بھاری تعداد والوں پر غالب آگئے‘‘۔ یہ بھی تاریخ کی ایک حقیقت ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ معاشی موازنہ آج سے بیس برس قبل ایٹمی دھماکہ کے وقت بھی کیا جاتا تھا اس وقت بھی پاکستان کو مجبور کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ جوابی دھماکہ نہ کرے لیکن یہ کم ہمت اور کوتاہ نظر لوگ مستقبل سے بے خبر اور بھارت کی ہندو فطرت سے لاعلم تھے۔ کچھ ایسا ہی حساب کتاب ابھی بھی شروع ہے اور یہ نام نہاد دانشور بہی کھاتے کھولے بیٹھے ہیں لیکن محب وطن پاکستانیوں کی جانب سے کچھ اور ہی پیغام موصول ہو رہا ہے ۔ یہ پیغام ایک مسلمان کے دل میں ایمان کو جگا رہا ہے اور ہندو کے دل میں خوف کو۔

بہر حال اب حالات اس نہج پر آ گئے ہیں کہ دونوں ملکوں کو اس بات کا ادراک بھی ہیں کہ اگر جنگ کے میدان گرم ہوگئے تو پھر یہ کوئی عام جنگ نہیں ہو گی بلکہ دونوں ملکوں کے پاس مہلک ہتھیاروں کے علاوہ میزائیلوں کی کثیر تعداد بھی دونوں ملکوں میں تباہی پھیلانے کے لیے کافی ہے ۔ بھارت نے جارحیت میں پہل کر کے اس کا جواب لے لیا ہے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب ایسی کسی مہم جوئی کی کوئی اطلاع نہیں اور نہ ہی انھوں نے اپنا کوئی ایسا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم عمران خان اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم آخری سانس تک لڑیں گے۔یعنی پاکستان کا واضح موقف یہ ہے کہ اس کاجنگ کرنے کو کوئی ارادہ نہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے ملک میں در انداز بھارتی پائلٹ کو فوری رہا کر کے دنیا بھر میں اپنے پُر امن ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔

پاکستان کے اس عمل کی دنیا بھر میں پذیرائی جاری ہے ۔اب آج کا ایٹمی پاکستان مذاق مذاق میں بھی جنگ شروع نہیں کر سکتا اگرچہ امریکا کی طرح ایٹم بم چلایا بھی جا سکتا ہے اور پرانے روس کی طرح اس کو جیب میں رکھ کر دھمکایا بھی جا سکتا ہے لیکن نہ اس کو چلایا جائے اور نہ اس سے کسی کو دھمکایا جائے تو پھر اس کا کیا کیا جائے ۔ اسے تومسجد کی لکڑی کی طرح بیچا بھی نہیں جا سکتا ۔ ’مسجد نہ فروختنی نہ سو ختنی‘ یعنی مسجد کی لکڑی نہ جلانے کی نہ بیچنے کی۔

اس کے باوجود اگر بنیا حساب کتاب برابر کرنا چاہتا ہے تو ہم حاضر ہیں لیکن ایک بات وہ پلے باند ھ لے کہ اب مسلمانوں کے نام پر جارحیت کی وہ مزید عیاشی نہیںکر سکے گا اور بھارت کے ساتھ پر امن رہنے کی ہماری خواہش کتنی ہی حقیقی کیوں نہ ہو بھارت کی سر زمین پر کوئی نہ کشمیر ضرور رہے گا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …