اتوار , 9 مئی 2021

میانمار میں پولیس اہلکاروں پر حملہ، 9 ہلاک

ینگون (مانیٹرنگ ڈیسک)میانمار کی مغربی ریاست راکھائن میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے ایک حملے میں 9 اہلکار ہلاک ہوگئے۔خیال رہے کہ 2017 میں راکھائن میں ہونے والے فوجی آپریشن کے باعث 7 لاکھ 40 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں عارضی پناہ گاہوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے تھے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ اس انسانیت سوز جرائم کرنے پر یہاں کی فوجی قیادت کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

دوسری جانب فورسز علاقے میں موجود مسلح جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کررہی ہیں۔واضح رہے کہ ارکان آرمی (اے اے) نے حالیہ کچھ ماہ میں علاقے میں روہنگیا افراد کو مضبوط کرنے اور ان کے حقوق کے حصول کے لیے میانمار کی سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملے کیے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ہونے والا حملہ راکھائن کے دارالحکومت سیتوی سے شمال میں قائم ایک گاؤں ‘یوئےتایوکے’ میں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی تصاویر میں اہلکاروں کی لاشوں کو ایک تھانے میں زمین پر دیکھا گیا جن پر سفید رنگ کی چادریں موجود تھیں اور ان کے اطراف خون موجود تھا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ حملے میں 9 اہلکار ہلاک ہوئے، ایک زخمی ہے جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہے۔پولیس ذرائع کی جانب سے افشا کی جانے والی معلومات میں بتایا گیا کہ حملہ آور جاتے ہوئے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔

واقعے کے فوری بعد کسی بھی تنظیم یا گروپ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی جبکہ اے اے سے ان کا موقف حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر رابطہ نہیں ہوسکا۔مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس میانمار کی شمالی ریاست رخائن میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔جس کے بعد اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے میانمار میں نسل کشی میں ملوث اعلیٰ فوجی حکام کے خلاف مقدمات قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم میانمار کی حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …