منگل , 11 مئی 2021

افغانستان کدھر جائے گا

(ظہیر اختر بیدری) 

افغانستان دہائیوں کی جنگ اور بد امنی کے بعد اب امن کی طرف بڑھ رہا ہے، طالبان سے امریکا کی طویل بات چیت کے بعد اب امید پیدا ہو رہی ہے کہ دہائیوں کے خون خرابے کے بعد اب سنجیدہ بات چیت کی طرف آرہا ہے۔ افغانستان وہ بدقسمت ملک ہے جو لگ بھگ پچاس سال سے خون خرابے میں ملوث رہنے کے بعد اب پرامن بات چیت کے ذریعے اپنے مستقبل کے تعین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خانہ جنگی نے افغانستان کو اس طرح تباہ کردیا ہے کہ شاید اسے امن بلکہ پائیدار امن کی طرف آنے میں کتنا عرصہ لگے گا، کیونکہ افغانستان عملاً ایک طویل جنگ سے گزرنے کے بعد اب سکون کی طرف آرہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک ایک طویل ترین جنگ کے بعد اب امن کی طرف آرہا ہے لیکن مکمل امن کے قیام تک نہ جانے اس بدنصیب ملک کو ابھی کتنے مراحل سے گزرنا پڑے گا ۔

افغانستان پر روسی قبضے کے دوران امریکا نے پاکستان سمیت کئی ملکوں کو جنگ کی بھٹی میں دھکیلنے کی کوشش کی جس کا نقصان تمام متعلقہ ملکوں کو ہوا ۔ ویسے تو امریکا اور اس کے اتحادی جہاں چاہیں منہ اٹھا کرگھسے چلے آتے ہیں لیکن افغانستان ان کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہوا ۔ دنیا کی سپر پاور کو غیر منظم طالبان نے ایسے فولادی چنے چبوائے کہ امریکا کے لیے اپنے دانت بچانا مشکل ہوتا رہا ۔

افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی نظر عنایت تو ایک عرصے سے تھی، خاص طور پر روس کی افغانستان میں آمد کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس کو امریکا سے نکالنے کے لیے جو پاپڑ بیلے اس کا امریکا کو کوئی حق نہ تھا اگر امریکا اور اس کے ساتھیوں نے روس کی افغانستان میں آمد کے بعد جن سازشوں کے بعد روس کو افغانستان سے نکلنے کے لیے مجبور کیا یہ امریکا اور اس کے ساتھیوں کی ایسی مداخلت تھی جس کی وجہ افغانستان مسلسل تباہیوں کی نظر ہوتا رہا، امریکا نے افغان جنگ میں پاکستان کو بھی جبراً گھسیٹا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف بھی ایک طویل جنگ لڑی۔ اس کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے جس نے سازشوں اور طاقت کے استعمال کے ذریعے روس کو افغانستان سے نکالنے کی مہم میں اس علاقے کو تباہی کی جنگ میں دھکیل دیا۔ پاکستان کا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہ تھا لیکن امریکا اور اس کے ساتھیوں نے پاکستان کو بھی افغان وار میں ملوث کرکے نہ صرف پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کیں بلکہ ہزاروں پاکستانیوں کو بھی اس جنگ کا ایندھن بنادیا۔

پاکستان افغان جنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہتا تھا بش جونیئر نے زبردستی پاکستان کو افغان جنگ میں دھکیل دیا کیونکہ کسی حوالے سے بھی نہ پاکستان کا اس معاملے سے کوئی تعلق تھا نہ فائدہ ، لیکن بش جونیئر نے پاکستان کو اپنی جنگ میں گھسیٹ کر تباہیوں کے راستے پر ڈال دیا۔ پاکستان اس جنگ کا سرے سے کوئی فریق ہی نہ تھا بش جونیئر نے دھونس اور دھاندلی سے اور بلیک میلنگ کے ذریعے پاکستان کو اس کا فریق بنایا اور نقصان پہنچایا۔

روس کی افغانستان میں مداخلت ایک ایسی غلطی تھی جس کا پورا پورا فائدہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اٹھایا بلکہ ایسی حکمت عملی اپنائی کہ روس کو بے آبرو ہوکر وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس وقت پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی حکومت تھی، وہ افغان وار کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے لیکن بش جونیئر نے انھیں بہ جبر افغان وارکا حصہ بناکر ایسی مشکلات میں مبتلا کردیا کہ پاکستان باالواسطہ اس جنگ کا حصہ بن گیا۔ بش نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے جو پاپڑ بیلے اس میں بلا کسی براہ راست تعلق کے پاکستان کو اس جنگ کا زبردستی فریق بنادیا جس کا معاوضہ 70 ہزار پاکستانیوں کی جانوں کی شکل میں پاکستان کو ادا کرنا پڑا اور افغان وار میں امریکا دور کھڑا تماشبین کا کردار ادا کرتا رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان کی کاشت پاکستان اور افغانستان میں ہوئی لیکن طالبان بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے اور اس کھیل سے پاکستان کو سخت نقصان پہنچا۔ امریکا کی اسٹرٹیجی یہ تھی کہ روس سے براہ راست جنگ کے بجائے طالبان کے ذریعے روس کو افغانستان سے نکالا جائے اور امریکا اپنی اس اسٹرٹیجی میں کامیاب رہا۔ بھارت پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنا چاہتا تھا وہ اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیاب رہا۔ ابھی تک طالبان اینٹی پاکستان رول ادا کر رہے ہیں۔

افغانستان کی پوری جنگ میں بھارت کبھی فریق نہ رہا، وہ امریکا کا بھی یار رہا، طالبان کا بھی دلدار رہا، افغانستان کا حکمران طبقہ پاکستان کا ازلی دشمن رہا ہے اور بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات بہت دوستانہ ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ طالبان فطری اور نظریاتی طور پر اینٹی پاکستان رہے ہیں جب کہ ان کی پرورش اور پرداخت میں پاکستان نے اہم حصہ ادا کیا۔ امریکا نے افغان حکومت کو اپنا ہمنوا بنالیا ہے بلکہ افغانستان کی ساری سیاست بھارت کے اشارہ ابرو پر چلتی ہے۔ طالبان نے بڑی ہوشیاری سے امریکا سے دوستی کی طرف پیشہ قدمی شروع کی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کا روز اول سے سخت مخالف بھارت اس نئی صورتحال میں کیا پالیسی اختیارکرتا ہے۔

پاکستان سے براہ راست تصادم سے بھارت کی خارجہ پالیسی کا اندازہ ہو رہا ہے، بھارت چاروں طرف سے پاکستان کوگھیر کر علاقے کی سپر پاوری کو مضبوط بنانا چاہتا ہے اور امریکا کی اس نیک کام میں طالبان کو بھی سپورٹ حاصل کرنے کی امید ہے۔ بھارت نے ابھی ابھی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مداخلت کرکے اپنی خارجہ پالیسی کی تائید کردی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کو ان حالات میں محتاط طریقے سے اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات استوار کرنے چاہیے تھے ۔ عمران حکومت کو حالات کا اندازہ ہے خطے میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کا ادراک کرتے ہوئے بڑے محتاط انداز میں آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ بھارت کے ارادے اچھے نہیں نظر آتے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …