اتوار , 16 مئی 2021

پاک بھارت کشیدگی کو امریکی میڈیا نے کس طرح دیکھا؟

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں 14 فروری کو ہونے والے خودکش حملے کے بعد پیدا ہونے والی حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر امریکی میڈیا میںسینکڑوں خبریں اور تجزیے سامنے آئے، جس میں تقریباً تمام نے پاکستان اور بھارت کے تنازع میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت کے طور پر اجاگر کیا۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ ’پاکستان اور بھارت کے تعلقات دہائیوں کے سب سے زیادہ سنگین کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں‘۔

نیویارک ٹائمز نے خبردار کیا کہ ’ یہ شمالی کوریا نہیں، یہ وہ ہے جہاں جوہری لڑائی کا قوی امکان ہے‘، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم ہوئی لیکن ان کے جوہری ہتھیاروں کا مطلب یہ ہے کہ ناقابل تصور نتائج ہمیشہ ممکن ہیں‘۔

تاہم ان سب میں کوئی بھی اتنا گہرائی میں نہیں گیا جتنا مورخ چترالیکھا زوتشی نے ’مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک سرحدی تنازع نہیں‘ کے عنوان سے اپنا تجزیہ چینل نیوز ایشیا (سی این اے) کے لیے لکھا، جسے اتوار کو ان کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔وہ لکھتی ہیں کہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں خودمختاری کی خواہش نے بار بار جدوجہد اور آزادی کی تحریکوں کو پروان چڑھایا۔

انہوں نے لکھا کہ اب کشمیر میں ہونے والی جدوجہد اور تحریکوں کے درمیان ’وادی میں بھارتی حکمرانی کے خلاف پرتشدد مزاحمت جاری ہے، جس کا آغاز 1989 میں ہوا اور 3 دہائیوں سے یہ مسلسل اتار چڑھاؤ کے ساتھ جاری ہے‘۔چترالیکھا زوتشی نے نشاندہی کی کہ اس تنازع میں ہزاروں افراد قتل ہوئے جبکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے زیر تسلط وادی کشمیر ایک فوجی زون بن گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ’بھارتی اہلکار وہاں انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیاں کرچکے ہیں، جس میں مظاہرین پر فائرنگ اور لوگوں کی گرفتار کے لیے درکار طریقہ کار سے انکار شامل ہے‘۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے لیکن وہاں ہونے والی تشدد کی بنیادی وجہ ختم نہیں ہو سکتی، لہٰذا ’میرے اندازے میں تنازع کشمیر کو صرف پاکستان اور بھارت کی جانب سے دوطرفہ طور پر حل نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ اگر دونوں ممالک اپنے اختلافات کے حل کے لیے مل کر کام کنرے کی خواہش ظاہر کریں۔انہوں نے لکھا کہ اس معاملے پر ایک کھلی بحث ہونی چاہیے جس میں کشمیری عوام کی امنگوں پر بھی مباحثہ اور انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

سپاہ قدس کے سربراہ اور حماس کے رہنما کے درمیان بات چیت

تہران: سپاہ قدس کے سربراہ اور جنرل قاسم سلیمانی شہید کے جانشین جنرل قاآنی کی …