اتوار , 9 مئی 2021

اسرائیل تاریخ کے آئینے میں

(محمد اسلم خان)

اسرائیل ناجائز بچہ ہے اسے تسلیم کرنا قانون فطرت کے خلاف ہوگا جس کی بنیاد دھوکے، نسل پرستی، مغربی سامراج کی سینہ زوری، جبر اور مسلمان راجواڑوں کی غداری کا نتیجہ تھی، اور نتیجہ ہے۔ ابتدا تو برطانوی راج نے کی اور انتہا امریکہ کر رہا ہے کیمپ ڈیوڈ معاہدے تک اسے صرف سیکولر ترکی اور مغربی چوکیدار شاہ ایران نے تسلیم کیاتھا مصری فوجی قیادت کی پسپائی نے مسلم امہ کے اتحاد میں دراڑ ڈالی اس کے باوجود مجموعی طورپر مسلم امہ اپنے موقف پر قائم رہی۔ لیکن امام خمینی کی ولولہ انگیزقیادت میں برپا ہونے والے عوامی اسلامی انقلاب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے گناہ سے برأت کا اعلان کیا، اور پھر اْس جبر کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر ظلم کو برداشت کیا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ حزب اللہ کی صورت میں اسرائیلی ’شان و شکوہ‘ (جبر) کو ناکوں چنے چبوائے۔

پاکستان میں مختلف اوقات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی آوازیں بلند ہو تی رہی ہیں کہ ہمارا کیا لینا دینا؟ اسرائیل سے بگاڑنے کے بجائے اس سے تعلق بنائیں۔ اس منصوبے کی آبیاری کے لئے مخصوص این جی اوز کے لئے جدیدیت زدہ مذہبی گروہ نے ایک ’’دانش دور سکالر‘‘ کی قیادت میں قدم بڑھایا۔ لیکن اہل وطن کے اجتماعی ضمیر کے سامنے ادھار کی دانش کو بار بارپسپائی اختیار کرنا پڑی۔

حالیہ پاک بھارت تصادم میں 27 فروری ہی سے یروشلم پوسٹ نے یہ کہنا شروع کیا، ’پاکستان پر بھارتی عسکری یلغار میں ہماری ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کررہی ہے‘، لیکن، اگلے ہی روز اسرائیلی ساختہ جنگی طیارے کی پاکستان کے ہاتھوں تباہی اور آج تک حملہ آور اسرائیلی پائلٹ کی پاکستان کے ہاتھوں گرفتاری کی تردید نہ کئے جانے نے نئی صورتحال پیدا کردی ہے۔

اس صورتحال میں ہمارے ہاں ‘‘جنگجو’’ گروپ کے مشکوک تجزیہ نگار نے بڑے فنکارانہ انداز میں ’پتاّ‘ پھینکا ہے اور کوشش کی ہے کہ اس ’تاش‘ کو ’پھینٹا‘ جائے۔ موصوف نے فرمایا ہے کہ ’اسرائیل کے تسلیم کئے جانے کامعاملہ وزیراعظم کا نہیں بلکہ پاکستانی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔‘ بظاہر یہ ’معصومانہ‘ مشورہ ہے، لیکن درحقیقت یہ اس کھیل کا آغاز ہے کہ بحث شروع کی جائے۔

ہم یہاں پر اسرائیل جیسی ناجائز، سفاک، غیرقانونی اور نسل پرست ریاست کو تسلیم نہ کرنے کے دلائل پیش کرنے کے بجائے اس نکتے پر توجہ مرکوز کریں گے کہ پاکستانی پارلیمنٹ اور برطانوی پارلیمنٹ میں بنیادی فرق ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ ، عورت کو مرد اور مرد کوعورت قرار دینے کے علاوہ ہر قسم کا فیصلہ کرنے، حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینے کا اختیار رکھتی ہے لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ قرآن وسنت کے تابع ہے۔ یہ بات 1954، 1956، 1962 اور 1973ء کے دساتیر میں تسلسل کے ساتھ تسلیم شدہ ہے اور اس پر محض علما کا نہیں بلکہ جہاں بانی کے اصولوں سے واقف ’مسٹروں‘ کا بھی اتفاق ہے۔ اس لئے اب امت کے اجتماعی ضمیر کی ترجمان، پارلیمنٹ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کے اختیار سے رضاکارانہ طورپر پیچھے ہٹ چکی ہے اور یہ اقدام اس نے کسی جبر سے نہیں بلکہ پاکستان کی بنیاد اور اس کے عوام کے آدرشوں کی بنیاد پر کیا ہے، جسے کوئی ڈکٹیٹر اور کوئی مہم جو سلب نہیں کرسکتا۔

عدالت عظمیٰ کے متعدد فیصلوں میں یہ اصول طے کردیاگیا ہے کہ آئین پاکستان منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دنیا کے دیگر دساتیر کی طرح نہیں اور پاکستانی پارلیمان بھی دیگر دنیا کی پارلیمان جیسی نہیں، پاکستان کے آئین کا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے جسے تبدیل نہیں کیاجاسکتا۔ اس علمی بحث پر ماسوائے عاصمہ جہانگیر مرحومہ کے کسی اور نے لب کشائی نہیں کی تھی، اْن کا یہ کہنا تھا کہ پارلیمان سے دستور سازی کا اختیار کیسے چھینا جاسکتا ہے۔یہ وہی بحث ہے جس کی بنا پر جنرل ضیاء الحق کو بھی مطعون کیاجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دستور کے ریشم میں اپنی ترامیم، یعنی اسلامی شقوں، سے ٹاٹ کا پیوند بھی لگا دیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے موقع پر یہ بحث پھر سے ہوئی لیکن اب نوازشریف اور دیگر تمام اس کی یاد کا پچھتاوا لئے ماتم کناں ہیں لیکن سانپ تو نکل چکا ہے۔ دستور کے بنیادی ’فریم ورک‘ ہی کی بنا پر صدارتی نظام کے نفاذ کی آرزو بھی حسرت کا لبادہ اوڑھے رہی ہے۔ لہٰذا پاکستان میں دستور اور پارلیمان کے اختیار کو مغربی پارلیمان اور دستور سے موازنہ کرنا مرغی اور انڈے والی بحث ہے کہ پہلے کون آیا؟ اصل مسئلہ نہ دستور کا ہے اور نہ ہی پارلیمان کا ہے۔ اصل مسئلہ اْس سہولت کا ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف بادشاہوں یا اس زمانے کی اسٹیبلشمنٹ کو درکار ہوتی تھی۔ بادشاہ کے خوبصورت لبوں سے ’دانش‘ کا کوئی شگوفہ پھوٹتا تھا اور اس کے حواری، دانشور، مؤرخ اور دسترخوانی قبیلہ اس کے لئے دلائل گھڑنے لگتا تھا۔

تشریح اور تفسیر اگر اصول اور سچائی کے دائرے سے نکل جائے تو ہر چیز ہی دلیل اور منطق کی کسوٹی پر پوری اتر آتی ہے۔ ایسے مدللوں کا ’مہادانشور‘ اور ’مدلل‘ شیطان ہے جس نے بڑے بڑے دانشوروں، محدثین، محققین اور بادشاہوں کواپنے دلائل، منطق اور استدلال سے چکرادیا۔ صرف وہی بچ گئے جنہیں رب تعالی نے اپنی رحمت سے بچالیا۔ ایسی ہی صورتحال کے لئے علامہ اقبال جیسے دانائے راز نے شعر کی صورت دریا کوزے میں بند کردیا تھا "_

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذت کردار، نہ افکار عمیق

حلقہ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں

آہ محکومی و تقلید وزوال تحقیق!

خود بدلتے نہیں ، قرآن کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریقپاکستان کے قیام کے نظرئیے کی طرح دستور پاکستان میں بھی کچھ لکیریں سختی سے کھینچ دی گئی ہیں۔ اول ہی یہ تسلیم کرلیاگیا کہ ’حاکمیت اعلی‘ اللہ تعالی کی ہے۔ مغرب میں ایسا نہیں، وہاں عوام کی رائے ہی حاکمیت اعلی کا درجہ رکھتی ہے۔ پہلے بادشاہ یہ اختیار استعمال کرتا تھا۔ پھر میگنا کارٹا کی صورت بادشاہ کو لگام ڈال دی گئی کہ عوام کی زندگی پر اس کا حق ہے۔ مذہبی طبقے کی چیرہ دستیاں اور ظلم اتنے بڑھے کہ ویسے ہی مذہب سمیت بادشاہ کواٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ اس کے لئے وہاں پارلیمان کو ذریعہ بنایا گیا کہ عوام کی رائے جو حکم اسے دے گی، وہ قانون، اصول، دستور اور روایت بن جائے گی۔ یہی دراصل وہ عالمی نظام اور سوچ ہے جس کے راستے میں مذہب کا متبادل نظام رکاوٹ ہے ورنہ ’وَن وے ٹریفک ہے‘، دانشور، ارکان پارلیمان اور ’ادھار عقل‘ یا پھر ’چارکتابیں‘ پڑھ کر سینہ پھلائے پھرنے والے عقل کی عیاری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بعض اصول طے ہیں۔ ان کو جتنا مرضی گھمائیں، پھرائیں، وہ بدل نہیں سکتے۔ جیسے پاکستان کی پارلیمان خواہ ساری کی ساری ہی ایک طرف ہوجائے لیکن سور کو حلال قرار نہیں دے سکتی؟ مرد کی مرد سے شادی کو قانونی اور جائز قرار نہیں دے سکتی؟ وغیرہ وغیرہ ۔ (جاری)

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …