اتوار , 16 مئی 2021

وہ یار غم شناس ہے من میں بسا ہوا

(تحریر: سید ثاقب اکبر)

اس یار دلربا اور دوست غم خوار کو بچھڑے چوبیس برس ہوگئے، لیکن کیفیت یہی ہے کہ جو ایک معروف غزل کے ایک مصرعے کے ساتھ ایک گرہ لگا کر کچھ بیان کی جاسکتی ہے:

وہ یار غم شناس ہے من میں بسا ہوا
نظروں سے دور جا کے بھی دل سے نہ جا سکا

وہ زندگی کے شب و روز کے جھروکوں سے جھانکتا اور باتیں کرتا ہے، وہ حال پوچھتا ہے اور اپنا حال بتاتا ہے، وہ دھڑکنوں میں دھڑکتا ہے، وہ بھولا ہی کب ہے کہ اسے یاد کیا جائے۔ وہ رفیق دیرینہ ڈاکٹر محمد علی نقوی ہے۔ کتنی ہی نیکیاں ہیں اور کتنے ہی بڑے کام ہیں، جو ویسے تو ہمارے نام سے مشہور ہوئے، لیکن اس کے پیچھے ڈاکٹر محمد علی نقوی موجود ہے۔ گذشتہ دنوں لاہور میں آئی ایس او کے زیر اہتمام ان کی چوبیسویں برسی منائی گئی۔ جوانوں کے چمکتے چہرے، ان کے ارادوں کی تب و تاب کی جھلک دکھا رہے تھے۔ بہت سے یاران دیرینہ سے مصافحہ اور معانقہ کا سلسلہ ہوا۔ ان میں سے ایسے بھی تھے، جن کے بارے میں شیخ ابراہیم ذوق کا یہ مقطع ثابت آتا ہے۔

اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
غزل کا مطلع بھی موضوع سخن کے حسب حال ہے
زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے
جانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سے

اجتماع میں کی گئی گفتگو میں سے چند باتیں قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں: یہ سعادت و افتخار ہے کہ آج ہم جس کا اظہار کر رہے ہیں، چاہے آئی ایس او اور تنظیمی نسبتوں سے ہو یا ان کے خاندان کی نسبت سے ہو۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی اس نسل کوثر کے افتخارات میں سے ہیں، جس کا ذکر سورۃ کوثر میں کیا گیا ہے۔ وہ یار غم خوار کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ اب بھی ایسا ہوتا ہے اور کئی رفقاء اس کی گواہی دیں گے کہ تسلی اور تشفی کے لیے ڈاکٹر صاحب اب بھی اپنے دوستوں کے پاس کسی نہ کسی طریقے سے پہنچ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی شہادت کے بعد ابتدائی ایام کی بات ہے، میری چونکہ ان کے ساتھ بیس برس سے زیادہ کی رفاقت تھی تو ان کے حوالے سے ایک دوست کی حیثیت سے کئی سوالات میرے ذہن میں پیدا ہوتے تھے۔ میں سوچتا تھا کہ شہادت کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا اور اگلی منزلوں پر سے وہ کیسے گزرے ہوں گے۔ یہ سوالات میرے ذہن میں تھے کہ میں نے انہی دنوں خواب دیکھا کہ ہم دائرے میں بیٹھے ہیں اور ڈاکٹر صاحب صدر مجلس میں ہیں، میں ان کے سامنے بیٹھا ہوں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ کسی کے چہرے سے نور ساطع ہو رہا ہے، میں وہ منظر بھول نہیں سکتا کہ میں نے اسی طرح سے ڈاکٹر صاحب کے چہرے سے نور کی کرنیں نکلتی دیکھیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے میرے دل کی کئی باتوں کا جواب مجھے عطا کر دیا۔

اگر کسی نے ایمان و عمل کا مجموعہ دیکھنا ہو تو آپ یقین کیجیے کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی اسی سے عبارت تھی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ اگر کسی کا ایمان ٹھیک ہو تو وہ اسے بے قرار نہ کر دے۔ ڈاکٹر صاحب ایک بے قرار وجود تھے اور یہ بے قراری ان کے ایمان سے پھوٹتی تھی۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ بے قرار نہ ہوں۔ سالہا سال کی رفاقت میں ہمیشہ کسی نئے منصوبے، نئے پروگرام، نئے معرکے، نئے مشن اور نئی سوچ کے ساتھ وہ آگے بڑھتے تھے اور یہ ان کا ایمان تھا، جو ان چیزوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے درجہ معرفت کے ساتھ معاشرے میں متحرک ہوتا ہے۔ جو شخص جس طرح کا کام کر رہا ہے، یہ اس درجہ معرفت کے مطابق ہے، جس میں اس نے خدا، اپنے وجود اور اپنی حیثیت و شخصیت کو پہچانا ہے۔ اگر آپ ڈاکٹر صاحب کے درجہ معرفت کو سمجھنا چاہیں تو ان کے کاموں کو دیکھ کر ہی آپ کو اس کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے بہت سے شعبوں میں کام کیا، لیکن ان کے خالص دینی و مذہبی کام بھی ضرور یاد رکھنا چاہئیں۔ پاکستان میں دعائے کمیل کے اجتماعات کے محرک ڈاکٹر محمد علی نقوی ہیں۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ رمضان شریف میں اعتکاف کا اہتمام ہوتا تھا، لیکن ڈاکٹر صاحب نے اس میں جان ڈال دی۔ خود ہر سال اعتکاف کرتے تھے، زیادہ تر موچی دروازہ لاہور کی مسجد کشمیریاں میں اعتکاف کرتے تھے، جہاں مرحوم مولانا آغا علی موسوی ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہاں سے اس سلسلے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ چل پڑا۔ وہ اعتکاف کے دنوں کو بھی پر بہار رکھتے تھے، یعنی اس کے مقاصد کی طرف پوری توجہ دیتے تھے، اگرچہ اعتکاف ایک انفرادی عبادت کا طریقہ ہے اور اسی کو زیادہ اہمیت دینا چاہیئے، لیکن اگر لوگ پوری طرح مقصد کی طرف مرتکز نہ ہوں تو کبھی اجتماعی دعاؤں اور مناجات کی نشستوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسی ضرورت کو پورا کیا کرتے تھے۔ دعا، مناجات، للہیت ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا حصہ ہیں۔

میں نے دیکھا کہ جب ان کی زندگی کے چالیس برس پورے ہوگئے تو بڑے بے قرار اور بے تاب تھے۔ اسی زمانے میں انھوں نے مجھے بتایا کہ میں نے ایک خط مولانا صادق علی نجفی کو لکھا ہے، جو ان دنوں دبئی ہوتے تھے۔ مولانا ڈاکٹر صاحب کے پھوپھی زاد بھی تھے اور ان کے بھائی ڈاکٹر عباس نقوی کے سسر بھی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میں نے ان کو اپنے دل کی کیفیت لکھی ہے کہ یا اللہ چالیس سال ہوگئے، میں نے کیا کیا۔؟ وہ اپنے عمل کے سرمائے کے کم ہونے پر غمزدہ تھے کہ میں کچھ نہیں کرسکا اور زندگی کے چالیس سال گزر گئے۔ اگر کسی کو اولیاء اللہ کے خطبے، دعائیں اور مناجات پڑھنے کا اتفاق ہوا ہو تو اسے وہاں ایسی چیزیں نظر آئیں گی اور یہ خوشبو وہاں محسوس ہوگی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کے اندر اس وقت عجیب بے قراری دیکھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ ڈاکٹر صاحب کا وہ خط محفوظ ہے یا نہیں، اگر وہ کہیں مل جائے تو وہ بھی مطالعہ کرنے اور شائع کرنے کے قابل ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب نے پاکستان میں رائج عزاداری کے خلاف کوئی کام نہیں کیا بلکہ اس کے اندر ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش کی۔ اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ جلوس عزاء میں نماز باجماعت کے سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ کتبے بنانا، نوحے لکھنا، مرثیے لکھنا، گروپ تیار کرنا، تاکہ وہ یہ معنی خیز نوحے جلوسوں میں پڑھیں، یہ سب ڈاکٹر صاحب اور ان کے رفقاء کے کام ہیں۔ ہم نے یہی کچھ انقلاب اسلامی ایران میں بھی دیکھا۔ امام خمینی نے جو ہم سب کے مرشد اور پیر کامل کی حیثیت رکھتے ہیں، کہا کہ ہم نے جو کچھ حاصل کیا ہے، محرم و صفر سے حاصل کیا ہے۔ ایران میں بھی ہم نے دیکھا کہ جب انقلاب کا شباب تھا اور شاہ ایران کے خلاف جدوجہد جاری تھی تو اس وقت انھوں نے جلوس ہائے عزاء سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہی بات ہمیں ڈاکٹر صاحب اور ان کے رفقاء کی پاکستان میں جدوجہد میں دکھائی دیتی ہے۔

استاد مطہری کی ایک بات میں کبھی کبھی ذکر کرتا ہوں، وہ فرماتے ہیں کہ آئمہ اہل بیت میں دو خصوصیات مشترک تھیں۔ ایک اللہ کی عبادت سے عشق اور دوسری اپنے ہاتھوں سے غریب پروری۔ جنھیں ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ان کی قربت نصیب ہوئی ہے، وہ اس کی گواہی دیں گے، دعا اور مناجات کا میں نے ذکر کر دیا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے غریب پروری میں بھی وہ پیش پیش تھے۔ جو وسائل ان کے پاس ہوتے تھے، خرچ کرتے تھے اور جو ان کے بس میں ہوتا تھا، دریغ نہ کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کون سے بڑے سرمایہ دار تھے، لیکن جب بھی ہمیں کوئی مالی لحاظ سے مشکل ہوتی، ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔ میں اسی کی ذاتی گواہی بھی دیتا ہوں۔ ہمارے ایک لاہور کے دوست ہیں، جو سروس شوز کی ایک برانچ کے منیجر تھے، بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے جوتا لے جاتے اور کہتے کہ میں تھوڑے تھوڑے کرکے تمہیں پیسے دے دوں گا اور پھر کسی ایسے آدمی کو دے دیتے، جس کے پاس پہننے کو جوتا نہ ہوتا تھا۔ قرآن تو ایسے لوگوں کی نمازوں پر نفرین کرتا ہے، جو یتیم و مسکین سے غافل ہوں۔ ایسی عبادت تو منہ پر دے ماری جائے گی، جو غریب پروری اور محروم انسانیت کی خدمت کے جذبے سے خالی ہو۔

یاد رکھیے گا کہ پانی پلوں کے نیچے سے گزرتا رہتا ہے، زمانہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں کوئی جمود نہیں تھا۔ نئی چیزوں کو دیکھتے، اگر انہیں اختیار کرنا ہوتا تو سب سے پہلے اختیار کرتے۔ ہم نئے سے نئے نعرے ایجاد کرتے تھے، نئے سے نئے پروگرام بناتے تھے، نئے سے نئے کام سوچتے تھے۔ یہ نہ ہو میرے عزیزو! کہ ڈاکٹر صاحب جہاں ہماری فکر کو چھوڑ گئے ہیں، ہم وہیں رک جائیں۔ ڈاکٹر صاحب کی سنت اور روایت یہ ہے کہ ہم نئی چیزوں کو دیکھیں اور اگر وہ ہماری فکر سے ہم آہنگ ہیں تو انھیں اختیار کریں۔ ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد بہت بڑی بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ آج عراق وہ نہیں جو اس زمانے میں تھا۔ یہ ایم بی ایس ایک نیا phenomenon (مظہر) ہے۔ سعودی عرب میں جو تغیرات آئے ہیں یہ نئے ہیں۔ ڈیل آف دا سنچری (Deal of the Century) کا نظریہ نیا ہے، جو ٹرمپ کی طرف سے آیا ہے۔ پاکستان میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں اور آرہی ہیں، ان سب کو آنکھیں کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ جو ایم بی ایس کے پاکستان آنے کے موقع پر اس کے مظالم، اس کی ستم گریاں، اس کے رسوا کن کاموں، جو اس نے عالم اسلام کے ساتھ کھلواڑ شروع کر رکھا ہے، کے خلاف ہمارے یہ جوان اور ایم ڈبلیو ایم کے ساتھی نہ اٹھتے تو یہ پاکستان نہیں بلکہ قبرستان لگتا۔ یہ نوجوان ڈاکٹر صاحب کی وراثت کے صحیح وارث ہیں، جنہوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ سب کو پتہ تھا کہ اس آواز کی قیمت دینا ہوگی۔ میں برادر قاسم شمسی اور ان کے دیگر ساتھیوں، جنھوں نے ایم بی ایس کے مکروہ چہرے کو آشکار کرنے کے لیے آواز اٹھائی، کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آخری بات میں معاشرہ سازی کے بارے کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے لیے بڑا افتخار ہے، ایک نشہ ہے، ایک کیفیت ہے آئی ایس او۔ ہم جو بھی ہو جائیں، اس کا سرور، اس کی کیفیت ہمارے دل و دماغ سے نہیں جاتی۔ اس نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا اور ایسی کیفیات میں ہمارے وجود کو ڈھالا کہ اب وہ ہمارے وجود، ہماری سوچوں اور ہماری نفسیات کا حصہ ہے۔

لیکن، میرے عزیزو! آئی ایس او اس معاشرے میں کس قدر ہے، آپ کتنے ہیں؟ ہمارے بچے جو باہر گلیوں میں جاتے ہیں، وہاں کیا دیکھتے ہیں، جن سکولوں میں جاتے ہیں، وہاں کیا دیکھتے ہیں، جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں کیا سیکھتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ باقی تمام معاشرے کو نظر انداز کرکے کہیں کہ ہم محفوظ ہیں اور تربیت یافتہ ہیں۔ اس سارے پاکستان کو بدلنے کا ارادہ ضروری ہے۔ اس سارے پاکستان کو نیکی، شرافت اور بھلائی کا پیغام دینا ضروری ہے۔ سب کے لیے بھلائی، خیر خواہی کے جذبے کا اظہار ضروری ہے۔ اس پاکستان کے لیے بھی اپنے نیک جذبوں کا اظہار ضروری ہے۔ ایرانیوں نے اپنی سرزمین ایران سے قوت حاصل کی اور پوری دنیا پر اس کا اظہار کیا۔ حزب اللہ نے لبنان سے قوت حاصل کی اور پوری دنیا میں اس کا اظہار کیا، عراقیوں نے عراق سے قوت حاصل کی اور اپنی قوت کا اظہار کیا۔ میرے عزیزو! یہ پاکستان ہے، قائداعظم اس کے بانی ہیں، اس سرزمین کے لیے صرف شیعوں نے نہیں، سنیوں نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ ہمارا یقیناً ایک بڑا حصہ ہے اس ملک کے قیام میں۔ پاکستان کو صحیح راستے پر رکھنے کے لیے بھی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہوگا۔

تقریر ختم ہوئی تو کتنے ہی ساتھی تھے، جو اظہار محبت کر رہے تھے۔ ان مطالب کی تحسین و تائید کر رہے تھے، جیسے زبان حال سے کہ رہے ہوں
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
مجھے یاد آرہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد دل نے کیسے کیسے چرکے سہے ہیں، کیسی کیسی بے وفائیاں دیکھی ہیں۔ ان حالات میں ایک درد آشنا کا یاد آنا بالکل فطری ہے۔ جوانی کے دنوں میں وہ غزل سنی تھی، جس کے ایک مصرع کے ساتھ حسب حال گرہ لگائی ہے۔ اہل ذوق کے لیے اس غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

اپنوں نے غم دیئے تو مجھے یاد آگیا
اک اجنبی جو غیر تھا اور غمگسار تھا
وہ ساتھ تھا تو دنیا کے غم دل سے دور تھے
خوشیوں کو ساتھ لے کے نہ جانے کہاں گیا
دنیا سمجھ رہی ہے جدا مجھ سے ہوگیا
نظروں سے دور جا کے بھی دل سے نہ جا سکا

یہ بھی دیکھیں

اچانک گنگا الٹی بہنے لگی؟

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس …