بدھ , 12 مئی 2021

پلوامہ حملے کے تناظر میں امریکی قومی سلامتی مشیر کا شاہ محمود سے رابطہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پلوامہ واقعے کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے، وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو واپس بھجوایا، بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا جواب حفاظتِ خود اختیاری کے تحت دفاع میں تھا۔

شاہ محمود قریشی نے بھارت کے جارحانہ عزائم کے ممکنہ خدشات سے بھی آگاہ کیا جبکہ امریکی مشیر جان بولٹن نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مؤثر کردار کی تعریف کی، خطے میں امن و امان کیلئے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔دونوں رہنماؤں نے افغان امن عمل میں مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے حالیہ پاک بھارت بحران کے دوران کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے زور دیا ہے کہ فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بولٹن کو بتایا کہ بھارت کی طرف سے 26 فروری کو کی جانے والی دراندازی نہ صرف پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی تھی بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی تھی، اس جارحیت کے خلاف پاکستان کا جواب حق حفاظت خود اختیاری کے تحت اپنے دفاع میں تھا، پاکستان خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے، اس لیے وزیراعظم عمران خان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت انڈین پائلٹ کو بھارت واپس بھجوایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود مشاورت مکمل کرنے کے بعد بھارت واپس پہنچ چکے ہیں، ہم 14 مارچ کو کرتارپور راہداری معاہدہ پر گفت و شنید کیلئے ایک سرکاری وفد بھارت بھجوا رہے ہیں۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ میں اور وزیر خارجہ پومپیو شمالی کوریا کی قیادت کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات میں مصروفیت کے باوجود پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ صورتحال کے سبب دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطہ میں رہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔

انہوں نے خطے میں امن و امان کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارت میں حالیہ الیکشن کے باعث بھارت کی طرف سے جارحانہ عزائم کے ممکنہ خدشات سے بھی آگاہ کیا جن سے انہوں نے اتفاق کیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …