ہفتہ , 8 مئی 2021

خطے میں امن کو لاحق خطرات

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)

پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی فضائی جارحیت اور پاکستان کی جوابی کارروائی نے امن کی صورتحال کو جنگ میں بدل دیا۔ اب کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن عسکری اور سیاسی قیادت کا کہنا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ اسی دوران بھارت میں ہونیوالے الیکشن کا شیڈول سامنے آنے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اب خطے کی فضاء زیادہ دیر پرامن رہے گی۔ دوسری جانب امریکہ نے بھارت کیلئے تجارتی رعایت کو ختم کیا ہے، جس سے بھارت کی توجہ ہٹے گی، پالیسی میں تبدیلی کیلئے امریکہ بھارت کو تیار کر رہا ہے۔ امریکہ کے سامنے افغانستان میں طالبان کیساتھ ہونیوالے مذاکرات کو کنارے لگانا مقصود ہے، تاکہ بھارت کو افغانستان میں کم ہوتے کردار پر آمادہ کیا جا سکے، دوسرا یہ کہ ایران کیساتھ تجارت میں کمی لانے پہ آمادہ ہو۔ اسی طرح اسرائیلی فضائیہ کی بھارت میں موجودگی اور پاکستان پر مشترکہ حملے کی خبروں نے عالمی برادری کیلئے بھی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ وہاں عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کیلئے مشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔

ان حالات میں وزیراعظم عمران خان کا ایرانی صدر روحانی سے رابطہ ایک اہم پیش رفت ہے، پاک ایران تعلقات میں بہتری و استحکام دونوں ملکوں اور خطے میں امن کے لیے معاون ہے، دونوں ملک مل کر دشمن طاقتوں کے دباؤ اور یلغار کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ اسرائیل کا بڑھتا ہوا کردار بھی ختم کرنیکی ضرورت ہے، بھارت جہاں امریکہ کیساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے، وہاں اسلامی جمہوری ایران کو بھی دھوکہ دے رہا ہے، اسرائیلی طیاروں کی موجودگی اسکا بین ثبوت ہے۔ بھارت کے اسرائیل کیساتھ تعلقات ایران سے زیادہ پاکستان کیلئے بڑا خطرہ ہیں، بھارتی اور اسرائیلی لابی پاکستان میں ریاست کیخلاف لڑنے والے علیحدگی پسندوں اور تکفیری ٹولوں کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں، افغانستان کے راستے داعش کے دہشت گردوں کی مسلح افواج اور سول آبادی کیخلاف کارروائیاں اس سلسلے کی کڑی ہیں۔ پاک ایران تعلقات میں تناؤ پیدا کرنیکے لیے سرحدی صورتحال کو خراب کرنا بھی ان سازشوں کا حصہ ہے۔ دونوں مسلمان دوست ممالک کی قیادت جسے مدنظر رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کو دہشت گردوں کی سرپرستی کا طعنہ دینے والے ہندوستان کو اس وقت شدت پسندی کے الزام کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک کے ہائی کمشنرز کی واپسی بھی ہو رہی ہے، جو امن کی واپسی کا مثبت اشارہ ہے۔ بھارتی انتخابات کی آمد آمد ہے، لیکن اب سیکولرازم کا پول بھی کھل چکا ہے، یورپی اور مغربی مبصرین بھارت کے متوقع الیکشن کی مانیٹرنگ کے لیے وہاں جائیں تو شدت پسندی کا جو بازار اقلیتوں کیخلاف گرم ہے، اس سے انہیں اندازہ ہو جائے کہ مذہبی جنونیت کے بل بوتے پر الیکشن کی مہم کون چلا رہا ہے۔ لیکن بھارت ایک بہت بڑی منڈی ہے، جس وجہ سے عالمی طاقتوں کی آنکھیں بے نور ہو جاتی ہیں، معاشی مفادات آڑے آتے ہیں، جیسا کہ کشمیر پر ہونیوالے مظالم سے پہلو تہی برتی گئی، ورنہ خطہ آگ کے اس دھانے پر پہنچتا ہی نہ۔ پاک و ہند کے بعد یہ ذمہ داری پھر امت مسلمہ پہ عائد ہوتی ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی داد رسی کریں، عسکری نہیں تو سفارتی سطح پہر ہی احساس ہمدردی کر دیں، لیکن خود انہیں منڈیوں کی تلاش ہے۔

مسلمان ممالک کی تنظیم ویسے تو مردہ گھوڑے سے زیادہ کچھ نہیں، لیکن کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کی مذمت سے پاکستانی موقف کی تائید ہوئی ہے۔ یو اے ای میں وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ اس لیے نہیں گئے کہ میزبان ملک کی طرف سے سمشا سوراج کو چیف گیسٹ کے طور پر مدعو کیے جانے کے بعد پاکستان کے بھرپور احتجاج اور سخت رویئے سے میزبان ملک کی سبکی ہوتی، لیکن وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی شرکت سے اجلاس کی کارروائی کے بعد جو کشمیر پر قرارداد آئی، اس سے میزبان ملک نے پاکستان کے احتجاج کا مثبت جواب دیا۔ ان حالات میں زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوا۔ لیکن منزل ابھی دور ہے، بھارت کے عالمی طاقتوں اور مسلم ممالک کے لیے اہم ہونے کی وجہ سے کشیدگی میں کمی آئی ہے، لیکن کشمیر کے مسئلے بھی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔ جس وجہ سے پاکستانی حکومت کو داخلی طور پر سخت بیانات کا سامنا ہے، بھارت اگر جارحیت کرے تو ساری جماعتیں متفق ہیں، لیکن کشمیر پہ جس سفارتی کوشش کی ضرورت ہے وہ ناپید ہے۔

جب تک مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل سامنے نہیں آتا، اس وقت تک جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔ اندرونی طور پر پاکستان کو مزید پوزیشن بہتر بنانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ضروری امور میں سے ایک کالعدم تنظیموں کا ایشو ہے۔ خارجہ پالیسی سے مربوط غیر ریاستی عناصر کا مسئلہ اب داخلی پالیسی کا اولین جزو ہے، جس سے نمٹا جا رہا ہے۔ پاکستان کو زیادہ آسانی ہوگی، اگر وزیر خارجہ دنیا کو حافظ سعید اور مولانا مسعود ازہر کی صحت اور موجودہ رہائش کے متعلق اپ ڈیٹ نہ کریں، کیونکہ اس وقت ہم غیر ریاستی عناصر کو دکھاوے کے طور پر بھی استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ قرائن یہی بتاتے ہیں کہ جس طرح سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد پوری قوم دہشت گردی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہوگئی تھی، اسی طرح کالعدم تنظیموں کی موجودگی سے متعلق یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پاکستان کو عالمی برادری میں مسئلہ کشمیر پیش کرنا ہے تو ان سے گلو خلاصی لازمی ہے۔ کالعدم تنظیمیں، بھارت کے کشمیر میں مظالم، امریکہ کے بعد اسرائیلی فورسز کی خطے میں موجودگی امن کیلئے سب بڑا خطرہ ہیں، ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی میں ان نکات کو مدنظر رکھنا ہوگا، ورنہ خطرات سے دوچار قوم کسی بڑے سانحے کا شکار ہوسکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …