منگل , 21 مئی 2019

’’وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں‘‘

(عارف بہار)

طالبان کے امیر المومنین ملامحمد عمر کے شب وروز پرہالینڈ کی خاتون صحافی بیٹے ڈیم کی کتاب’’ سیکرٹ لائف آف ملا عمر ‘‘ کے نام سے منظر عام آچکی ہے۔ کتاب کے حوالے سے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ یہ خبر دے رہے ہیں کہ امریکہ کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کہ وہ پاکستان میں مقیم ہیں جبکہ وہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈے سے چند میل کی مسافت پر روپوش تھے۔ بیان کردہ معلومات کے مطابق اس کتاب کے حوالے سے سب سے دلچسپ انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ طالبان کے امیرا لمومنین ملا محمد عمر نے اپنی تمام زندگی افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کے قریب گزاری حالانکہ امریکی عمومی طور پر یہ سمجھتے رہے کہ وہ نہ صرف پاکستان میں ہیں بلکہ ریاست کی آشیرباد کے ساتھ وہاں روپوش ہیں۔صحافی نے لکھا ہے کہ ملاعمر اپنے آبائی صوبہ زابل میں امریکی فوجی اڈے سے تین میل کی مسافت پر مقیم رہے۔امریکیوں نے اس جگہ کا معائنہ بھی کیا مگر وہ ملا عمر کا سراغ نہ لگا سکے۔اس کے بعد ملا عمر جس دوسری جگہ منتقل ہوئے وہ ایک اور امریکی فوجی اڈے کے قریب تھی اور وہ یہاں اپنی وفات یعنی 2013تک مقیم رہے ۔امریکیوں نے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کر رکھی تھی تب بھی وہ ان کے کسی سہولت کار اور میزبان کو لالچ دینے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ڈچ صحافی کی اس کتاب کے مندرجات پر کوئی امریکہ کو علامہ اقبال کے اس شعر کا ترجمہ پیش کرے تو کیا ہی اچھا ہو ۔

جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

اس تحقیق سے ایبٹ آباد آپریشن کا وقت بھی یاد آرہا ہے جب امریکہ نے ملٹری اکیڈمی سے تھوڑے فاصلے پر ایک گھر پر حملہ کرکے اسامہ بن لادن کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا تو امریکہ کا مغضوب الغضب میڈیا ، حکومتی حلقہ ،سیاست دان اور اس سے بھی بڑھ کا پاکستان میں ٹی وی اینکرز اور دانشوروں پر مشتمل ایک حلقہ مسلسل یہ سوال پوچھ رہا تھا کہ یہ بتایا جائے کہ اسامہ بن لادن ملٹری اکیڈمی کے قریب کس طرح رہائش پذیر تھا ۔خود ملک کے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جو حالات سے سہمے اور ڈرے ہوئے تھے متعدد بار اپنی اسٹیبلشمنٹ کو زچ کرنے کے لئے سوال پوچھا۔ اسامہ بن لادن کس کی اجازت او رکس ویزے اور پاسپورٹ پر ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا؟امریکہ اور حامد کرزئی کو ہر دوسرے دن ملاعمر کوئٹہ میں ڈرائی فروٹ خریدتے ،چمن میں چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں مگر وقت نے بتایا کہ وہ امریکہ کے پہلو میں بیٹھ کر حالات سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔اب امریکہ سے یہ سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ ملا عمر کس کی آشیرباد سے اور کیسے اتنا عرصہ امریکی فوج کی ہمسائیگی اختیار کئے رہے ؟سچ تو یہ ہے کہ اپنی پالیسی کے مخمصوں اور تضادات نے امریکہ کو افغانستان میں ڈبویا۔

یہ ساری پالیسی چونکہ غصے اور جھجلاہٹ پر قائم تھی اس لئے اس میں ہوش خرد کا گزر نہ ہو سکا۔ا ب چند دن قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے اور گزشتہ چھ ماہ میں اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔امریکی سینیٹ کی دفاعی امور کی کمیٹی ہائوس آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں انہوںنے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں پاکستان نے جو تعاون کیا ہے اس سے پہلے اٹھارہ برس میں دکھائی نہیں دیا ۔امریکی جنرل نے کہا کہ اگر پاکستان افغان امن عمل میںمثبت مدد کرتا ہے تو امریکہ کے پاس موقع ہوگا کہ وہ پاکستان کی مدد کرے کیونکہ خطے میں امن پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مقاصد ہیں۔ انہوںنے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کئے جانے کی بالواسطہ تائید کرتے ہوئے کہا افغانستان سے دہشت گرد پاکستان پر حملہ کرتے ہیں جس سے نہ صرف افغانستان عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی خراب ہوتے ہیں۔ امریکہ خطے کے تمام کرداروں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات نہیں کریں گے جن سے علاقائی استحکام متاثر ہو۔

امریکی جنرل نے دھمیے سروں میں پاکستان کے ساتھ کچھ روایتی گلے شکوے بھی کئے۔امریکی جنرل جوزف ووٹل نے گزشتہ اٹھارہ سال میں پاکستان کے تعاون نہ کرنے کا جو گلہ کیا ہے وہ اس لحاظ سے درست ہے کہ گزشتہ اٹھارہ برس میں امریکہ نے پاکستان کومسئلے کے حل کی بجائے مسئلہ بنا ئے رکھا اور مسئلہ قرار پانے کی وجہ سے پاکستان کو افغانستان کے امن اور سیاسی عمل سے دور رکھنے کی ہر ممکن کو ششیں ہوئیں ۔یہ سب کچھ امریکہ نے اپنی ضرورت سے زیادہ بھارت کی فرمائش پر کیا ۔نائن الیون کا حملہ امریکی منصوبہ سازوں کے اعصاب پر اس پوری طرح سوار ہو چکا تھا کہ انہوں نے اعتدال اور توازن کے سارے سبق فراموش کر کے بھارت کی ضرورت اور فرمائش کو حرز جاں بنالیا تھا۔امریکہ اور بھارت کے زیر اثر افغانستان سے پاکستان کو کلی طور نفی کر دیا گیا اور یوں پاکستان افغانستان میں امریکہ کی طالبان کے ہاتھوں دُرگت کا تماشا دیکھتا رہا ۔ایک ایک کرکے حالات سے تنگ اور عاجز آکر نیٹو اتحادی اپنی فوجیں افغانستان سے نکالتے چلے گئے یہاں تک کہ سار ا بوجھ امریکہ پر آن پڑا۔

بھارت نے افغانستان میں اپنی باقاعدہ فوج اتارنے سے گریز کیا مگر بھارت کے خفیہ ادارے پیسہ پانی کی طرح بہا کر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے رہے ۔انہیں افغانستان میںصرف اتنی ہی دلچسپی تھی کہ یہاں بھارت کی موجودگی سے پاکستان کا گھیرائو ہورہا تھا ۔ایک طرف بھارت کی فوج کھلے انداز سے موجود تھی تو دوسری طرف مشرقی سرحد پر پراکسی کے طور پر موجود تھی ۔اس صورت حال میں پاکستان نے امریکہ کو بار بار یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کو مسئلہ سمجھنے کی بجائے مسئلے کے حل میں مددگار بنائے ۔امریکیوں نے اٹھارہ برس اس نکتے کو سمجھنے میں ضائع کر دئیے ۔پاکستان اور امریکہ کے اٹھارہ سال پر محیط بحران زدہ تعلقات کا المیہ یہی ہے امریکہ نے پاکستان کے مسائل کو سمجھنے کی بجائے کسی اور کے کہنے پر مسائل بڑھانے میں ہی اپنا حصہ ڈالا۔ اس طرح اٹھارہ برس کی دوری کے بعد امریکہ نے قربت کے راستوں کی تلاش شروع کردی ہے تو اچھا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(1)

(تحریر: سید اسد عباس) امام حسن علیہ السلام خاندان نبوت و امامت کا پہلا چشم …