اتوار , 18 اگست 2019

پاکستان، ترکمانستان نے تاپی گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط کر دیے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور ترکمانستان نے ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت (تاپی) تاپی گیس پائپ لائن کے معاہدے پر دستخط کر دیے جبکہ وزیرپیٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ رواں سال ہی پاکستان میں اس منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہوجائے گا۔

سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق تاپی گیس پائپ لائن کے معاہدہ پر سیکریٹری پٹرولیم اسد حیا الدین اور ایمینوفود سی ای او تاپی پائپ لائن کارپوریشن لمیٹڈ نے دستخط کیے اور اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان اورترکمانستان کے وزیرخارجہ راشد میریدوف بھی موجود تھے۔

غلام سرور خان نے اس معاہدے کو تاپی کی تاریخ کا اہم ترین معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ معاہدہ تیزی کے ساتھ مکمل کرنا چاہتی ہے اور یہ ممکن ہے کہ رواں سال پاکستان میں تاپی کا تعمیراتی کام شروع ہو جائے گا۔ترکمانستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے کہ تاپی پائپ لائن بروقت مکمل کی جائے گی۔

انہوں کہا کہ ان کی حکومت ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان براستہ افغانستان ٹرانسپورٹ اور توانائی کی راہداری بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے، اس کے علاوہ اسی راستے پر آپٹک فائبر نیٹ ورک بھی بچھانا چاہتے ہیں جس کو چین تک پھیلایا جا سکے گا۔

ترکمانستان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کو برادر ملک قرار دیا اور اس بات پر زور دے کر کہا کہ پاکستان، ترکمانستان کے لیے بین الاقوامی منظرنامے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔خیال رہے کہ تاپی گیس پائپ لائن کا آغاز ترکمانستان کے گل کنیش گیس فیلڈ سے ہوتا ہے جس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سہولت کار کے طور پر معاونت کر رہا ہے اور اس منصوبے کے تحت 3.2 ارب مکعب فٹ گیس ترکمانستان سے افغانستان اور پاکستان، بھارت کی سرحد تک پہنچائی جائے گی جس مجموعی فاصلہ ایک ہزار 680 کلومیٹر ہے۔

تاپی گیس پائپ لائن کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا، پہلا مرحلہ فری فلو فیز کی لاگت 5 سے 6 ارب ڈالر ہے، دوسرے مرحلے میں کمپریسر اسٹیشن لگائے جائیں گے جن کی لاگت 1.9 سے لے کر 2 ارب ڈالر ہو گی۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے سیکیورٹی انتظامات کی طرز پر پیٹرولیم کی کھوج لگانے والی کمپنیوں کے لیے خصوصی سیکیورٹی فورس کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس سے مقامی تیل اور گیس کے ذخائر کی پیداوار بڑھانے کے لیے پرکشش سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

توانائی کے شعبے سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پیٹرولیم ڈویژن کی پالیسی کو اجازت لینے کے نقطہ نظر سے تبدیل کر کے اطلاع دینے کی سطح پر لانے کی تجویز کی بھی منظوری دی، جس سے تیل اور گیس کمپنیوں کو دریافت کے مرحلے کے بعد بھی بہت آزادی ملے گی۔

ایک عہدیدار کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد پیٹرولیم (کھوج اور پیدوار) پالیسی 2012 کو اپ گریڈ کرنا ہے تاکہ زیادہ خطرات کے حامل فرنٹیئر ریجن کے لیے مکمل نیا کھوج کا زون بنایا جا سکے اور جس سے بہتر نتائج حاصل ہو سکیں تاکہ ہائیڈرو کاربن کی کھوج اور پیداوار کے امکانات کو بڑھایا جا سکے۔

یاد رہے کہ 23 فروری 2018 کو اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر اشرف غنی نے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے پہلے حصے کا افتتاح کر دیا تھا۔

افغانستان میں منعقدہ اس تقریب میں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ترکمانستان کے صدر اور بھارتی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں پاک-افغان رہنماؤں کی جانب سے ایک ہزار 814 کلو میٹر (1 ہزار 130 میل) طویل گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔

اسلام آباد میں 7 دسمبر 2018 کو انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی ) کے زیرانتظام امپلیمنٹیشن آف تاپی پائپ لائن‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا تھا کہ 2019 کی پہلی سہہ ماہی میں تاپی پائپ لائن کے منصوبے کی تعمیر کا آغاز کردیا جائے گا اور یہ منصوبہ ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔

چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو بورڈ آف تاپی پائپ لائن کمپنی لمیٹڈ ترکمانستان محمت میرات امانو کا کہنا تھا کہ منصوبے کے سروے کے مطابق ایک ہزار 8 سو 14 کلومیٹر طویل یہ منصوبہ 33 بلین کیوبک میٹر گیس سالانہ فراہم کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پر کام آئندہ سال کی پہلی سہہ ماہی میں شروع کیا جائے گا اور پاکستان میں پائپ لائن بچھانے میں 2 سال کا عرصہ لگے گا جبکہ پاکستان سے بھارت تک پائپ لائن کی تنصیب کے لیے 6 سے 8 ماہ درکار ہوں گے،

منصوبے سے روزگار کے مواقع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے 10 ہزار کے قریب ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔میرات امانو کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمت واضح طور پر لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت سے کم ہوگی۔

بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترکمانستان کے ہم منصب راشد میریدوف کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ‘پاک ۔ ترکمانستان تجارتی معاہدے ہوئے ہیں، تاپی گیس پائپ لائن معاہدے پر جلد عملدرآمد ہوگا جبکہ دونوں ممالک کے ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس بھی جلد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں رابطوں کے لیے زمینی روٹس انتہائی اہم ہیں، ترکمانستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے خواہشمند ہیں، ترکمانستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون اور تجارت کو فروغ دیا جائے گا جبکہ دوطرفہ تجارت میں پاک ۔ ترکمانستان بزنس فورم اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا ایرانی صدر حسن روحانی سے رابطہ، کشمیرپر بھارتی تسلط …