منگل , 21 مئی 2019

پاک ایران دوستی زندہ باد

(رابعہ رحمٰن)

تعلقات کو مستحکم کرنے یا عدم تحفظ کا شکار کرنے میں بین الاقوامی طور پر وزارت خارجہ کے موقف اور جھکائو کا عنصر غالب ہوتاہے، پاکستان ایران کیساتھ سیاسی واقتصادی استحکام کا ہمیشہ سے خواہاں رہاہے، دنیا کے بیشتر ممالک کے برعکس پاکستان اور ایران معاشرتی،مذہبی اور تاریخی حوالوں سے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، اسی تعلق کو بنیاد بناتے ہوئے حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات دنیا کیلئے مثال بن جائیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی اسی نقطہ نظر کے حامل ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہا اور آج بھی اسی عزم کا اظہار بے دھڑک کرتاہے، ان تمام باتوں کے باوجود کچھ باتوں میں ایسا ابہام پایاجاتاہے کہ جسکے باعث متعصبانہ رویے جنم لے رہے ہیں، کچھ ایسے ہی پیچیدہ معاملوں کے بارے میں صحافیوں نے قلم دوستوں کے پلیٹ فارم سے ایثار رانا صاحب کی سربراہی میں ایرانی قونصلیٹ محمدرضاناظری سے ملاقات کی۔انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار پاکستان ایران دوستی کیلئے خوش آئند ہے۔

پاکستانی وزیرخارجہ نے ایران، افغانستان، چین اور روس کے درمیان اٹوٹ رشتہ قائم رکھنے کو خارجہ پالیسی کا ایک حصہ قرار دیا، ایران جس کا دارالحکومت تہران ہے اور زبان فارسی اسلامی جمہوریہ کی طرز حکومت رکھتے ہیں،اسلامی جمہوریہ ایران کی مشرق میں پاکستان اور افغانستان سے سرحد ملتی ہے، قدیم ترین تہذیبوں میں ایران کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، 1997 میں صدر خاتمی کے منتخب ہونے کے بعدایران کے دیگر ممالک سے تعلقات میں بہتری آئی، برطانیہ اور ایران نے سفارتکاروں کا تبادلہ کیا، مگر باوجود کوشش کے ایران اور امریکہ کے تعلقات آج تک بحال نہیں ہوئے کیونکہ انکی چپقلش آپس میں اتنی بڑھی کہ امریکہ نے جنوری2002ء میں ایران کو بدی کے محور(Axis of evil)کا حصہ قرار دے دیا تھا، ایران مغربی طاقتوں کی دشمن کا نشانہ بنتا رہاہے اس پر مشرق وسطیٰ کے امن کو خراب کرنیوالے گروپوں کی سرپرستی کا الزام ہے، ان تمام باتوں کو لیکر اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی سامراجی طاقتوں، امریکہ کی سازشوں اور مغربی ریشہ دوانیوں سے دھمکیوں کے بعد اپنا عزم مضبوط کیا اور ہر سطح پر خود کفیل ہونے کا فیصلہ کرلیا، ایٹمی اور نانوٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کلوننگ ، میڈیکل ، ایئرسپیس اور دفاعی شعبوں میں خود کو منوالیا۔30نومبر2004ء میں بیرونی مداخلت روکنے پر ایران میں ایک کانفرنس بھی منعقد کی گئی، ایران نے افغانستان کی تعمیر نو کیلئے بھرپور مدد کی۔پاکستان اور ایران میں فارسی زبان کے حوالے سے ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال کی شاعری نہ صرف بہت مشہور ہے بلکہ دونوں ممالک کے روابط مضبوط رکھنے میں ایک اہم کردار بھی ادا کررہی ہے، شیعہ اور سنی کے تفرقات پہ پاکستان کے عوام یقین نہیں رکھتے۔

ایرانی قونصلیٹ محمدرضا ناظری نے کہاکہ ہم سب کا خدا ایک، رسول ایک اور قرآن ایک ہے، پھر یہ فرقہ واریت کا وجود کہاں سے آگیا، ایران میں پاکستان کا سفارتخانہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ہم ایک ہیں، قائداعظم محمد علی جناح نے بھی عالم اسلام کو متحد کرنے کیلئے مثبت کردار ادا کیا اور ہمیشہ انہیں بھائی چارے کی تلقین کی، روس کو جنوبی ایشیا پر تسلط قائم نہ کرنے دینے پرہرمشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا،1965کی جنگ میں جب امریکہ نے ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں تو ایران نے اخلاقی، عسکری اور مالی امداد فراہم کی، یہاں تک کہ بھارتی فضائیہ سے پاکستانی طیاروں کو محفوظ رکھنے کیلئے ایران کا ہوائی اڈا مہیاکیاگیا، اسی طرح1971ء کی جنگ میں ایران نے اس وقت تک بنگلہ دیش کو قبول نہیں کیا جب تک کہ پاکستان نے اسے خود تسلیم نہیں کیا، اسی طرح ایران عراق کی جنگ کے دوران جب ایران پر عالمی پابندیاں لگائی گئیں تو پاکستان نے ایران کا بھرپور ساتھ دیا، کراچی ایئرپورٹ پر ایران کو سٹریٹیجک سہولتیں دی گئیں اس کے علاوہ ایران کو گندم، چاول، کھاد اور چینی برآمد کی گئی، آج بھی ایران اور پاکستان کا گیس پائپ لائن کا معاہدہ تعطل کا شکارہے اگرموجودہ حکومت اس پر نظر ثانی کرے تو اس سے پاکستان کو ایران کے معدنی ذخائر سے بہت فائدہ حاصل ہوسکتاہے، سفارتی تعلقات میں استحکام کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایرانی عوام کو پاکستان کا ویزا آسانی سے دینے کی پالیسی اپنائی جائے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران میں جو(اسلامی) لفظ آتاہے یہ صرف لفظ نہیں ہے بلکہ جذبوں اور محبتوں کا بندھن ہے جو ہم ان دونوں ممالک کی روحوں سے جڑا ہوا ہے۔چین اور روس کی جیسے جیسے بین الاقوامی سطح پر اہمیت بڑھ رہی ہے امریکہ پس منظر میں جاتا دکھائی دیتاہے اور اس وجہ سے پاکستان، روس، چین اور ایران ہم نوالہ ہوتے محسوس ہورہے ہیں، اب جو چین ، ایران اور پاکستان میں سرمایہ کاری کرتا نظر آرہاہے تو بھارت کو بچھو ڈسنے لگے ہیں مگر چین کی جنوبی ایشیا میں بالادستی کی بناء پر بھارت اپنی سازشوں میں ناکام نظر آتاہے، بھارت ہمیشہ سے افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو کشیدہ رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہامگر اسے منہ کی کھانی پڑی۔ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اس سے کشیدگی ہمارا مقصد ہی نہیں ہم ایک دوسرے کے مدمقابل گوادر اور چاہ بہار میں بھی نہیں آسکتے اس لیے ہمیں تجارتی اشتراک اور ہم آہنگی سے کام لیکر ترقی کی شاہراہوں پر گامزن ہونا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

الاعیان من آل حسن علیہ السلام(1)

(تحریر: سید اسد عباس) امام حسن علیہ السلام خاندان نبوت و امامت کا پہلا چشم …