منگل , 19 مارچ 2019

جدید میزائل کا بروقت اور کامیاب تجربہ

پاک فضائیہ کا جے ایف17تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیارے سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ملکی ساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ ایک اہم کامیابی ہی نہیں خطے کے موجودہ حالات میں ایک سنجیدہ پیغام بھی ہے۔ اس موقع پر پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے پاک فضائیہ کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن اگر دشمن نے ہم پر جارحیت مسلط کی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔ایک ذریعے کے مطابق جے ایف17تھنڈر طیاروں کی جنگی صلاحیت بڑھا کر انہیں مزید جدید کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں جے ایف17 بلاک 3 طیاروں میں ایکٹو الیکٹرانکل سیکنڈری ریڈار اور ہیلمٹ ماؤنڈ سیٹ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اے ای ایس اے ریڈار سسٹم جے ایف تھنڈر کی دشمن کے طیارے کو طویل فاصلے سے انگیج کرنے اور بیک وقت متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بڑھا دیتا ہے۔ جے ایف17تھنڈر طیاروں کا ایک اور فائدہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اس جدید طیارے کے ذریعے دشمن جہازوں کیخلاف اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصیات کے حامل اس طیارے کے پاک فضائیہ میں آنے کو جدید F16 طیاروں کا ہم پلہ قرار دیا جاتا ہے جس کے بعد پاک فضائیہ کا انحصار F16طیاروں کی بجائے خودساختہ تھنڈر طیاروں پر بڑھ جائے گا جو پاکستان کی فضائی سرحدوں کے تحفظ کی ضمانت ثابت ہوگا۔ حالیہ دنوں اس طیارے کی صلاحیت کا کامیاب تجربہ کیا گیا یا نہیں لیکن بہرحال حالیہ لڑائی میں بھی ان کی کامیابی ثابت شدہ ہے اور بھارت پر اس کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔

بھارتی فضائیہ کی پاک سرحد کی خلاف ورزی کرکے بالا کوٹ تک آنے کے واقعے کے بعد پاکستان کی فضائیہ نے جو مسکت جواب دیا اس کے بعد بھارت روس سے میزائل خریدنے کے جس معاہدے کی سعی میں ہے پاکستان کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ اسے اپنی پٹاری سے بھارت کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت کا اظہار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس خودساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ اس امر پر دال ہے کہ پاکستان اب اس قابل ہے کہ وہ اپنی دفاع کیلئے دوسرے ممالک سے ہتھیاروں کے حصول کی بجائے اپنا ہی تیارکردہ اسلحہ سامنے لائے۔ دفاعی پیداوار اور دفاعی ساز وسامان کو افشا نہیں کیا جاتا ضرورت اور وقت کی مناسبت سے اس کو سامنے لایا جاتا ہے۔ اس بات کی بجاطور پر توقع ہے کہ پاکستان کی پٹاری میں ابھی ایسے مزید ساز وسامان اور ٹیکنالوجی موجود ہے جسے وقت آنے پر سامنے لاکر دشمن کو مسکت جواب دیا جاسکتا ہے۔ پاک فضائیہ کا بھارتی طیاروں کو کامیابی سے مار گرانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نے بھارتی ایئرفورس کے پاس پاکستان کے مقابلے کے طیارے نہ ہونے کا جو رونا رویا اس کے بعد بھارت کا اپنی فضائیہ کو پاکستان کی ٹکر کے طیاروں سے لیس کئے جانے کا فیصلہ اور سعی فطری امر ہے۔ اس صورتحال پر مناسب پیشگی اقدامات پاکستان کا حق اور دفاع وطن کا تقاضا ہے۔ اسلحہ اور دفاعی ساز وسامان طیاروں کی تعداد اور اس سے متعلق دیگر باریک نکتوں کا تجزیہ دفاعی امور کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت بڑا اور طاقتور ملک ہے تہی دست نہیں، مودی کا معاملہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق ہے۔

بھارت کی اپنی فضائیہ کے ایک اعلیٰ افسر کی اس کی ناکامی پر برطرفی اس امر کا اظہار ہے کہ بھارتی فضائیہ کو پاکستان کیخلاف تفویض کردہ ناپاک مشن کی تکمیل تو درکنار الٹا منہ کی کھانی پڑی۔ اس کے باوجود کہ اس مذموم منصوبے میں اسرائیل کے علاوہ ایک اور بڑے ملک کی بھی تائید وحمایت اور بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی عملی حمایت حاصل تھی جسے قدرت نے ہمارے شاہینوں کے ہاتھوں باآسانی ناکام بنانے کا اہتمام کیا۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کو درپیش صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے۔ صرف فضائی میدان میں نہیں بحری میدان میں بھی بھارتی آبدوز اپنی ناکام کوشش کرچکا جبکہ بری افواج کے درمیان کئی دن تک سرحدوں پر زبردست گولہ باری کا مقابلہ ہوا۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جس مسلسل دباؤ کا سامنا ہے اور بھارتی فوج کے بدترین مظالم پر جس طرح عالمی سطح پر ان کی رسوائی ہو رہی ہے اس سے بھی دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کی پاکستان سے مخاصمت بڑھانا مجبوری ہے۔ مستزاد بی جے پی کا چار ریاستوں میں چناؤ ہار جانے کے بعد پاکستان سے دشمنی کے جذبات پر انتخابات لڑنا جلتی پر تیل ڈالنے کی ایک گہری سازش ہے۔

علاوہ ازیں بھی بھارت کی پاکستان کے حوالے سے کبھی تیور اچھے نہیں رہے۔ ان حالات میں پاکستان کے پاس اپنا دفاع مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ہر قیمت پر کوشش کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں۔ پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا ہے بلکہ جب بھی ضرورت پڑی بھارت کو مسکت جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار ہونے اور مؤثر ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی موجودگی وتیاری کا ثبوت دیا ہے۔ ایٹمی دھماکہ کرکے بھارت نے پاکستان کے حوالے سے جو لب ولہجہ اختیار کیا تھا اس کا اگر ہمارے سائنسدان اور انجینئرز خدانخواستہ بروقت جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار نہ ہوتے اور عملی طور پر اس کا اظہار نہ کیا گیا ہوتا تو اس کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے کہ بھارت برتری کے اس زعم میں کیا کر گزرتا۔ پاکستان کے پاس مناسب دفاع کیلئے بھرپور طور پر تیار رہنے کے علاوہ کوئی اور انتخاب نہیں کہ وہ بھارت کو جارحیت کے ارتکاب سے باز رکھے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

’گرمیوں سے پہلے میاں صاحب کی روانگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘

(اشعر الرحمٰن) ’گرمیوں سے پہلے میاں صاحب کی روانگی کے بارے میں کیا خیال ہے?‘حقیقت ...