منگل , 19 مارچ 2019

پاک بھارت کشیدگی، سرحدی علاقے زیر عتاب

(رپورٹ: جے اے رضوی)

پلوامہ حملے کے بعد بھارت و پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پیدا شدہ حالات سے اس بات کا بخوبی احساس ہوتا ہے کہ ’’لائن آف کنٹرول‘‘ پر رہنے والے لوگوں کی دونوں ممالک کے سامنے کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اگر ہم مقبوضہ کشمیر کی بات کریں تو سرحدی مکین مریں یا جئیں بھارتی حکام کو اس سے کوئی سروکار نہیں اور سیاسی قیادت کی طرف سے بھی دکھ، تشویش اور تعزیت پرسی کے علاوہ کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔ جنگی حالات میں طبی امداد بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن لائن آف کنٹرول پر رہنے والوں کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی دوران شب فائرنگ یا شیلنگ کے دوران زخمی ہوجائے تو اسے ہسپتال منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ اور پولیس دوسرے دن وہاں پہنچتی ہے، بھلے ہی اس عرصہ میں مضروب شخص کی جان بھی کیوں نہ چلی جائے۔ بدقسمتی سے لائن آف کنٹرول پر موبائل فون کی خدمات میسر نہیں اور چند ماہ قبل حکومت نے ڈبلیو ایل ایل فون خدمات پر بھی بندش عائد کی۔ اس پر ستم یہ کہ مقبوضہ کشمیر کے سندربنی سے لیکر پونچھ تک اور اسی طرح سے اوڑی سے لیکر کرناہ تک سرحدی علاقوں میں کہیں بھی کوئی ایسا ہسپتال قائم نہیں جہاں گولہ باری اور فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے والوں کا بروقت علاج کیا جاسکے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں علاج کے لئے سو سے دو سو کلو میٹر دور جموں اور سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے، جس کے دوران کئی لوگ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔

چند روز قبل پونچھ کے مینڈھر علاقے میں فائرنگ اور گولہ باری کی زد میں آکر رات کے وقت تین افراد زخمی ہوگئے جو خوف کے سائے میں رات بھر تڑپتے رہے اور چونکہ نہ ہی ان کے موبائل فون کام کررہے تھے اور نہ ہی مقامی سطح پر کوئی ایمبولینس گاڑی دستیاب تھی لہٰذا انہیں اگلے روز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ واقعہ لائن آف کنٹرول کے مکینوں کے مصائب و آلام کا عکاس ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کا شکار ہونے والے کس قدر بے بسی کے شکار ہیں۔ سرحدی علاقوں میں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کسی بھی طرح کی کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں اور یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ انتظامیہ اور حکومت کے خلاف سخت غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر تو دور کی بات خطہ پیر پنچال کے تمام ضلع و سب ضلع ہسپتالوں میں بھی ماہر ڈاکٹر تعینات ہیں نہ ہی وقت پر دوائیاں ملتی ہیں۔ گزشتہ ایام اسی بات پر بیوپار منڈل مینڈھر کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مینڈھر کے سب ضلع ہسپتال میں طبی عملے کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا خمیازہ جہاں عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے وہیں سرحدی علاقوں کے طلاب بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ تعلیمی اداروں کے کئی کئی دن تک بند رہنے کے باعث ان کا مستقبل تاریک بنتا جارہا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور جہاں سفارتی سطح پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ہر اعتبار سے کمزور بنانے کے لئے سر توڑ کوششیں کی جارہی ہیں وہیں جنگی محاذ پر بھی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لائن آف کنٹرول پر وقفے وقفے سے ہو رہی فائرنگ اور گولہ باری نے لوگوں کا جینا مشکل کردیا ہے۔ اس کشیدگی کے باعث لائن آف کنٹرول کے پانچ کلو میٹر کے اندر واقع تمام تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور موجودہ کشیدگی اور مذاکرات کے تمام تر راستے مسدود نظر آتے ہوئے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہاں تعلیمی اداروں کے پوری طرح سے کھلنے میں ابھی مزید وقت درکار ہے کیونکہ ان اداروں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کا انحصار دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے پر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری اس غیر اعلانیہ جنگ نے ان طلاب کے مستقبل کو تاریک بنا دیا ہے اور دن شروع ہونے پر انہیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ پورا دن سکول کھلا بھی رہے گا یا نہیں اور ان کے گھر واپس پہنچنے تک حالات کیا سے کیا ہوجائیں گے۔

سرحدی خطوں میں واقع تعلیمی ادارے بار بار بند ہوتے اور بار بار کھلتے ہیں اور مارٹر شیلوں، برستی گولیوں اور خوف کے سائے میں طلاب کی تعلیم جاری رکھ پانا ناممکن سی بات ہے۔ سرحدی علاقے بیشتر اوقات دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جنگ کا میدان بنے رہتے ہیں اور حالیہ دنوں اس کشیدگی میں اضافے نے نہ صرف طلاب بلکہ ان کے والدین کو بھی زبردست فکرمند کردیا ہے کیونکہ انہی دنوں طلاب کے امتحانات ہو رہے ہیں۔ دو پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی طلاب کی تعلیم کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی نشوونما پر بھی اثرانداز ہورہی ہے جو ان کے مستقبل اور مجموعی طور پر مقبوضہ کشمیر کی نئی نسل کے لئے تباہ کن ہے۔ کشیدگی کا خاتمہ کب ہوگا اور کب بھارت و پاکستان کی قیادت آپس میں مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کے لئے ذہنی طور پر آمادہ ہوں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے لیکن فی الوقت سرحدی علاقوں کے طلاب کا تعلیمی نقصان ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے اور اسی کے نتیجہ میں ان کا آنے والا وقت پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ طبلِ جنگ بجانے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت آزمائی کرنے والوں کو آخر ان نونہالوں کے مستقبل کی فکر کرنا ہوگی جنہیں آگے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا ہے اور جو اپنے اردگرد تعلیمی ماحول نہیں بلکہ روزانہ جنگی ماحول دیکھ رہے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت و پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا گراف جوں جوں بڑھتا گیا، سرحدی کشیدگی بھی بڑھتی گئی اور 2014ء میں سرحدی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی تعداد 583 اور 2015ء میں 405 تک پہنچ گئی۔ 2014ء کے بعد سے سرحدیں عملی طور آگ برسا رہی ہیں اور آہنی گولہ باری ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ 2016ء میں سرحدی گولہ باری کے 500 سے زیادہ واقعات پیش آئے جبکہ 2017ء میںیہ تعداد 971 تک پہنچ گئی اور 2018ء میں کشیدگی کی اُس وقت حد ہی ہوگئی جب یہ تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی اور امسال ابتدائی دنوں میں بھی سرحدیں گرج رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سرحدوں پر خوف و دہشت کی حکمرانی ہے اور ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ بھارت و پاکستان کی اس کشیدگی کا خمیازہ کشمیری عوام کو ہی بھگتنا پڑرہا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب عام لوگ اس کشیدگی میں توپ کی رسد بن رہے ہیں اور یوں اگر کسی کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ کشمیری عوام ہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام سب سے زیادہ مذاکرات کی وکالت کررہے ہیں۔ اس لئے کم از کم کشمیری عوام پر ترس کھا کر دونوں ملکوں کی قیادت کو چاہیئے کہ وہ امن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ کشمیری عوام کو راحت کے چند پل میسر آسکیں اور اگر امن لوٹ آتا ہے تو مسائل کے حل کی راہ بھی خود بخود نکل آئے گی۔

یہ بھی دیکھیں

’گرمیوں سے پہلے میاں صاحب کی روانگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘

(اشعر الرحمٰن) ’گرمیوں سے پہلے میاں صاحب کی روانگی کے بارے میں کیا خیال ہے?‘حقیقت ...