ہفتہ , 25 مئی 2019

اسلامی بم پھر نشانے پر

(کامران گورائیہ)

”تبدیلی سرکار“ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بعض ایسے اشارے دینا شروع کر دئیے ہیں جو ناصرف پاکستان کی عوام کے لیے ناقابل قبول ہوں گے بلکہ اس ملک میں موجود تمام سیاسی قوتوں میں بھی ایسا کوئی فیصلہ پذیرائی حاصل نہیں کر پائے گا۔ پچھلے کئی روز سے حکومتی اراکین اوروفاقی وزرا اپنے بیانات میں انتہائی محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں ۔اس سلسلے میں ان کا ایک موقف یہ بھی ہے کہ سعودی عرب سمیت بہت سے عرب ممالک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں یا قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، اس لیے پاکستان کو بھی عرب ممالک کی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارت کاری کا آغاز کر دینا چاہیے۔ اپنے موقف کو مزید تقویت پہنچانے کے لیے تبدیلی سرکار کے بہت سے وزرا اس رائے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا ۔ان کا کہنا ہے کہ ا س وقت ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت اسرائیل کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اگر پاکستان اور اسرائیل ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں تو ناصرف بیرونی خطرات میں بہت زیادہ کمی آئے گی بلکہ بھارتی سازشوں سے نجات حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔

حکومتی وزرا ءاوراراکین کی رائے ان کی ناتجربہ کار فہم و فراست کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ وہ اسرائیل سے دوستی کی بات کرتے ہوئے اس بات کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو دنیا کی انگلیوں پر گنی جانے والی ایٹمی قوتوں میں سے ایک ہے اور ایٹمی قوت ہونے کی وجہ ہی سے بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ ہوا تھا ۔ اسرائیل ہمیشہ سے امریکا کی ناک کا بال ہے ، امریکا بہادرنے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے وہاں پر اپنا سفارتخانہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ امریکا کو ہمیشہ ہی سے دنیا کو ڈرانے کے لیے اپنی افواج کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک کی بھی ضرورت رہتی ہے جنہیں وہ اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اکثر و بیشتر استعمال کرتا رہتا ہے۔ اسرائیل بھی امریکا کا آلہ¿ کار ملک ہے‘ اس کا جھکاؤ ہمیشہ امریکا کی طر ف ہی رہے گا وہ پاکستان سے ہاتھ ملا کر بھی دشمنی اور سازشیں کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ لیکن اگر ان تمام حقائق کے باوجود بھی حکومت پاکستان اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے تو اسے صریحاً احمقانہ اور بچگانہ سوچ ہی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان جب سے ایٹمی قوت کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ہے بہت سے لوگ جو پہلے ہم سے دوستی کرنے کے خواہش مند تھے دشمنی پر اتر آئے‘ اسرائیل بھی ایسے ہی ممالک میں سے ایک ہے جسے پاکستان کا ایٹمی قوت بننا ایک آنکھ نہیں بھاتا، اس لیے وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے یا محدود کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہے اور اس کا یہی مقصد اسے بار بار بھارت کے قریب لے آتا ہے ۔ یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بھارت ہمیشہ سے ہی پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرتا آیاہے اور آئندہ بھی ہمیں اس سے اچھے کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ ملک ایک خود مختار ایٹمی طاقت ہے‘ اسے اپنی عزت اوروقار کو برقراررکھنے کے لیے اپنے ایٹمی پروگرام کو جاری و ساری رکھنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ کوئی دشمن ملک پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے ۔

اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی باتیں کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے کیونکہ ایسی باتیں کر کے وہ پاکستان کے اسلامی بم سے دشمنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے اس پاکستان دشمن اتحاد کے تناظر میں کچھ دنوں سے عمران خان کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ہمیں بھارت اور اسرائیل کا اتحاد توڑنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں۔ عمران خان کو یہ مشورہ 26فروری کے بھارتی حملے سے پہلے بھی دیا گیا تھا اور 26فروری کو بھارتی حملے کے بعد بھی دیا گیا۔ مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم آزادی فلسطین کے نمائندے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں، اگر مصر، اردن اور ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان کو بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں اس طرح پاکستان کے خلاف اسرائیل اور بھارت کا اتحاد ختم ہو جائیگا۔ یہ مشورہ بظاہر اسرائیل نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں نظر آتا ہے اگر عمران خان یہ مشورہ تسلیم کر بھی لیں تو اس سے انہیں کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وہ سیاسی تاریخ کے گہرے اور اندھے کنوئیں میں گر جائیں گے جہاں سے نکلنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو دل کی نہیں بلکہ دماغ کی بات ماننا چاہئے لیکن عمران خان کہتے ہیں کہ میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم کی تائید نہیں کر سکتا۔ مجھے مشورہ دینے والوں کی نیت پر ذرہ بھر شک نہیں لیکن عمران خان کا جواب سن کر دل کو اطمینان ہوا کہ بہت سی خامیوں کے باوجود عمران خان کسی دباؤ اور خوف میں آنے والا سیاستدان نہیں۔ ان کے یوٹرن لینے کی سیاست پر میں نے بہت تنقید کی ہے لیکن پاکستانی قوم کو پورا یقین ہے کہ عمران خان اسرائیل کے معاملہ پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے جس سے ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچے ۔

گو ماضی میں بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحث چلتی رہی ہے ۔ سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بحث جنرل ضیا الحق کے دور اقتدار میں شروع ہوئی تھی جب امریکہ نے آپریشن سائیکلون کے ذریعہ افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے مجاہدین کو اسلحہ فراہم کرنے کے لئے پاکستان کیساتھ ساتھ اسرائیل کی خدمات بھی حاصل کیں۔ 1988ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو ان کو اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے چینل کھولنے کا مشورہ دیا گیا۔ مشورہ دینے والے صاحب سرکاری ملازم تھے۔ اس زمانے میں نصیر اللہ بابر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایڈوائزر تھے۔ بابر صاحب کو اس مشورے میں سازش کی بو نظر آئی لہذا مذکورہ سرکاری ملازم کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 1990ءمیں اس سرکاری ملازم نے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ مل کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نواز شریف صاحب کی حکومت آئی تو انہیں بھی اسرائیل کو انگیج کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

1993ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں تو انہیں پیشکش کی گئی کہ اگر وہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو پاکستان کے تمام بیرونی قرضے معاف ہو سکتے ہیں۔ 1994ءمیں ان کی جنیوا میں یاسر عرفات سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے یاسر عرفات کو بتایا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ اگر پی ایل او کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پاکستان اور اسرائیل میں بات کیوں نہیں ہو سکتی؟ یاسر عرفات بھڑک اٹھے اور انہوں نے افسردگی سے کہا ہمیں اسرائیل نے مار مار کرمذاکرات پر مجبور کیا ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کے لئے تیار نہیں اور مذاکرات کے ذریعہ صرف ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کر لی تو ہم مذاکرات کے قابل بھی نہ رہیں گے۔ اس ملاقات کے اگلے دن ڈیووس میں اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہش ظاہر کی لیکن بے نظیر حکومت نے اس معاملہ پر بریک لگا دی تھی ۔

اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے حوالے سے تبدیلی سرکار کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے خاص طور پر اس لیے بھی کہ وزیراعظم عمران خان پر پہلے ہی سے ایسے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں جن میں انہیں یہودیوں کا ایجنٹ ہونے کا طعنہ بھی سہناپڑا تھا۔اس لیے ہر قدم کو پھونک پھونک کر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسلامی بم کی حفاظت ان کی اولین ذمہ داری اور اس سے دشمنی کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا فریضہ بھی انہی کو انجام دینا ہے کیونکہ وہ اس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فوجی، دیوار اور چوکیاں قبلہ اول تک رسائی روکنے کے مذموم صہیونی حربے!

بالعموم عام دنوں بالخصوص ماہ صیام میں فلسطینی روزہ داروں اور نمازیوں کو قبلہ اول …