جمعرات , 23 مئی 2019

کیا مسلمان دہشت گرد ہیں؟

آج کل مسلمانوں کو دہشتگرد اور انتہا پسند کہا جاتا ہے اور لوگوں کی نظر میں ان کا ایک ایسی شبیہہ بنائی جاتی ہے جیسا کہ دنیا میں جو سب برے کام ہو رہے ہیں وہ مسلمان ہی کرتے ہیں۔ خصوصاً یورپی ممالک میں تو مسلمانوں کیساتھ شودر والا سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کے رہن سہن، کلچر، تہذیب وتمدن، مسلمانوں کے دین، پردہ اور ثقافت اور روا یات کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ دنیا کے جس جس خطے میں مسلمان رہتے ہیں انتہائی دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مسلمانوں کی بہن عافیہ صدیقی کی مثال ہمارے سامنے ہے، کس طرح ان کو مسلمان ریاست سے اٹھایا گیا اور پھر کس ذلت آمیز طریقے سے انصاف اور عدل کے پیروکاروں نے صنف نازک کو 80سال کیلئے پابند سلاسل کیا۔ غیر مسلموں کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان بہنوں، بھائیوں، بچوں اور والدین کیساتھ ان کا توہین آمیز رویہ ہمارے سامنے ہے۔ اگر ہم عراق، لیبیا، بو سنیا، کشمیر، افغانستان، برما اور شام کے حالات پر نظر ڈالیں تو ان ممالک پر دہشتگردی کا الزام لگا کر حملے کئے گئے اور اسی طرح ان کے وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔

اگر ہم بوسنیا ہرزیگوینا میں مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالیں تو اس ملک میں سربوں نے مسلمانوں پر چڑھائی کر کے 10ہزار بے گناہ مائیں، بہنیں، بچے اور بچیوں کو تہ وتیغ کیا۔ اسی طرح عراق پرکیمیائی ہتھیار رکھنے کا الزام لگا کرحملہ کیا گیا اور نام نہاد جنگ میں 5لاکھ عراقی شہید کئے گئے۔ اسی طرح لیبیا پر امریکہ اور اتحادیوں کی طرف سے حملہ کیا گیا اور اس میں 59ہزار لیبیا کے مسلمان جن میں شیرخوار بچے اور بچیاں شامل تھیں شہید کئے گئے۔ افغانستان پر سب سے پہلے روس نے چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ بے گناہ افغانی شہید کئے گئے اور بعدازاں نائن الیون کا بہانہ بناتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 20لاکھ عام شہری نام نہاد جنگ کا ایندھن بن گئے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو استصواب رائے کا حق1948 میں دیا مگر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھارت نے جموں کشمیر پر قبضہ جمایا ہوا ہے اور مقبوضہ وادی کے وہ مسلمان جو اپنے حق رائے دہی کا مطالبہ کرتے ہیں بھارتی ریاست کے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سورماؤں نے 3لاکھ مسلمان شہید کئے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اسی طرح اسرائیل اور امریکہ اور دوسرے کئی ممالک کے ہاتھوں شام میں 4لاکھ سے 5لاکھ تک بے گناہ مسلمان شہید کئے گئے۔ برما کے بدھ مت پیروکاروں نے 50ہزار سے ایک لاکھ تک روہنگی مسلمانوں کو شہید کیا۔ اسی طرح بھارتی حکومت نہ صرف مسلمانوں کو شہید کر رہی ہے بلکہ ان کی مساجد اور خانقاہوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ فلسطین کی حالت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، ابھی پاکستان کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ ان کو بلیک لسٹ میں شامل کرکے ان پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے بے تحاشا پابندیاں لگائی جائیں گی۔ اب سوال یہ ہے کہ دنیا میں مسلمان اتنے ذلیل اور رسوا کیوں ہیں؟۔ مشہور زمانہ جرنل ’’آئل اینڈ گیس‘‘ کے مطابق مسلمانوں کے پاس اس وقت 70فیصد تیل ہے جو 600بلین بیرلز ہیں اس کے علاوہ مسلمانوں کے پاس 50فیصد قدرتی گیس ہے جو 3000ٹریلین معکب فٹ ہے۔ دنیا کے دس ممالک جس میں عراق، ایران، سعودی عرب شامل ہیں میں ہزاروں بلین ڈالرز کے قدرتی وسائل موجود ہیں۔ عراق میں 16ہزار ارب ڈالرز کے قدرتی وسائل (دنیا کا 10فیصد)، سعودی عرب میں 35ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل (دنیا کا 20فیصد) اور ایران میں 28ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل ہیں جو دنیا کا17فیصد ہے۔ دنیا کے سلفر برآمد کرنے والے 10ممالک میں تین مسلمان ممالک متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران ہے۔

علاوہ ازیں ’’دی جرنل آف یورینیم‘‘ کے مطابق مسلمانوں کے پاس پوری دنیا کا 30فیصد یعنی 6500ٹن یورنیم ہے جس سے جوہری اور ایٹمی میدان میں انقلاب برپا کر کے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں نائیجریا، نمیبیا اور قازقستان سرفہرست ہیں۔ لوہے کے وسائل میں ترکی، ایران، مصر، تیونیسیا، الجیریا اور مراکش سرفہرست ہیں پاکستان اور افغانستان میں لیتھیم اور سلی کان بکثرت پایا جاتا ہے جس سے شمسی توانائی اور موبائل بیٹری بنانے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان چاول کپاس پیدا کرنیوالے ٹاپ ممالک میں شامل ہے۔

ملائیشیا ربڑ پیدا کرنیوالا سب سے بڑا ملک ہے پاکستان دودھ پیدا کرنیوالے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دنیا کا کل رقبہ 15کروڑ مربع کلومیٹر ہے اور مسلمان تقریباً 3کروڑ مربع کلومیٹر یعنی 19فیصد رقبے پر رہتے ہیں جبکہ مسلمانوں کی آبادی 1.8ارب یعنی پوری دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ ہے۔ یہاں اگر ہم غور کریں تو آج کل وہ قومیں بین الاقوامی برادری میں اعلیٰ مقام پاسکتی ہیں جنہوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم میں اعلیٰ مقام حاصل کیا ہو۔ علاوہ ازیں مسلمانوں میں اتحاد، اتفاق نہیں اور کئی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ دشمن کے نرغے میں ہیں۔ اس وقت 2ارب مسلمانوں کے پاس 70 فیصدی وسائل ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی کانفرنس تنظیم کے 57ممالک کا جی ڈی پی جاپان کے برابر نہیں۔ علاوہ ازیں مسلمان اپنے پیارے دین پر بھی عمل نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان لادینیت کی وجہ سے بھی انتہائی ذلت اور کسمپرسی کا شکار ہیں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

آئی ایم ایف کا اونٹ خیمے میں آچکا ہے

(اظہر سید)  جو لوگ سمجھتے ہیں آئی ایم ایف کا بیل آوٹ پیکج مشکلات سے …